منگل، 7 اپریل، 2020

شب برأت کی فضیلت

شب برأت کی فضیلت



 شب برأت کی فضیلت

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکا تہ 

مسئلہ:۔ علماء کرام کی بار گاہ میں عرض ہے کہ شب برأت کی فضیلت پر کچھ تحریر فرما دیں 
المستفتی:۔عبد الواحد عرب

 وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکا تہ 
بسم اللہ الرحمن الرحیم 

الجواب بعون الملک الوہاب 


کتب احادیث میں شب برأت  کی بڑی فضیلت آئی ہے چند حدیثیں درج ہیں ملاحظہ کریں

 ”وَعَنْ عَآءِشَۃَ قَالَتْ فَقَدْتَ رَسُوْلَ اللہِ صلی اللہ علیہ وسلم لَیْلَۃً فَاِذَا ھُوَ بِالبَقِیْعِ فَقَالَ اَکُنْتِ تَخَافِیْنَ اَنْ یَخِیْفَ اللہُ عَلَیْکِ وَرَسُوْلُہ، قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللہِ اِنِّی ظَنَنْتُ اِنَّکَ اَتَیْتَ بَعْضَ نِسَاءِکَ فَقَالَ اِنَّ اللہَ تَعَالٰی یَنْزِلُ لَیْلَۃَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ اِلَی السَّمَآءِ الدُّنْیَا فَیَغْفِرُ لِاَکْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعْرِ غَنَمِ کَلْبٍ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَابْنُ مَاجَۃ“

اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) فرماتی ہیں کہ ایک (مرتبہ اپنی باری میں) رات کو میں نے سر تاج دو عالم ﷺ کو بستر پر نہیں پایا (جب میں نے تلاش کیا تو) یکایک کیا دیکھتی ہوں کہ آپ ﷺ بقیع میں موجود ہیں (مجھے دیکھ کر) آپ ﷺ نے فرمایا  کیا تمہیں اس بات کا خوف تھا کہ اللہ اور اس کا رسول تم پر ظلم کریں گے؟ میں نے عرض کیا کہ   یا رسول اللہ ﷺ! مجھے خیال ہوا تھا کہ آپ ﷺ اپنی کسی اور بیوی کے پاس تشریف لے گئے ہیں  آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نصف ماہ شعبان کی رات (یعنی شعبان کی پندرہویں شب) کو آسمان دنیا (یعنی پہلے آسمان) پر نزول فرماتا ہے اور قبیلہ بنو کلب (کی بکریوں) کے ریوڑ کے بالوں سے بھی زیادہ تعداد میں گناہ بخشتا ہے اور رزین نے یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں کہ مومنین میں سے) جو لوگ دوزخ کے مستحق ہوچکے ہیں انہیں بخشتا ہے۔(جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ)بحوالہ مشکوۃ المصابیح حدیث نمبر۱۲۲۸)

(۲)وَعَنْ عَلِیٍّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا کَانَتْ لَیْلَۃُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَقُوْمُوْا لَیْلَھَا وَصُوْمُوْا یَوْمَھَا فَاِنَّ اللہَ تَعَالٰی یَنْزِلُ فِیْھَا لِغُرُوْبِ الشَّمْسِ اِلَی السَّمَاءِ الدُّنْیَا فَیَقُوْلُ الَاَ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَاَغْفِرُ لَہ، اَلَا مُسْتَرْزِقٍ فَاَرْزُقَہ، الَاَ مُبْتَلًی فَاُعَا فِیَہُ اَلاَ کَذَا الَاَ کَذَا حَتّٰی یَطُلُعُ الْفَجْر“

اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔  جب نصف شعبان کی رات ہو (یعنی شب برات) تو اس رات کو نماز پڑھو اور اس کے دن میں (یعنی پندرہویں کو) روزہ رکھو، کیونکہ اللہ جل شانہ، اس رات کو آفتاب چھپنے کے وقت آسمان دنیا (یعنی نیچے کے آسمان) پر نزول فرماتا ہے (یعنی اپنی رحمت عام کے ساتھ متوجہ ہوتا ہے) اور (دنیا والوں سے) فرماتا ہے کہ آگاہ! ہے کوئی بخشش چاہنے والا کہ میں اسے بخشوں؟ آگاہ! ہے کوئی رزق مانگنے والا کہ میں اسے رزق دوں؟ آگاہ! ہے کوئی گرفتار مصیبت کہ میں اسے عافیت بخشوں؟ آگاہ! ہے کوئی ایسا اور ایسا (یعنی اسی طرح اللہ تعالیٰ ہر ضرورت اور ہر تکلیف کا نام لے کر اپنے بندوں کو پکارتا رہتا ہے مثلاً فرماتا ہے مثلاً کوئی مانگنے والا ہے کہ میں عطا کروں؟ ہے کوئی غمگین کہ میں اسے خوشی و مسرت کے خزانے بخشوں؟ وغیرہ وغیرہ یہاں تک کہ فجر طلوع ہوجاتی ہے۔  (رواہ ابن ماجہ مشکوۃ حدیث نمبر ۱۲۸۰)

(۳)”وَعَنْ عَاءِشَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ ھَلْ تَدْرِیْنَ مَافِی ھٰذِہِ اللَّیْلَۃِ یَعْنِی لَیْلَۃَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ قَالَتْ مَا فِیْھَا یَا رَسُوْلَ اللہِ فَقَالَ فِیْھَا اَنْ یُکْتَبَ کُلُّ مَوْلُوْدِ بَنِی اٰدَمَ فِیْ ھٰذِہِ السّنَۃِ وَ فِیْھَا اَنْ یُکْتَبَ کُلُّ ھَالِکٍ مِنْ بَنِی اٰدَمَ فِیْ ھٰذِہِ السَنَۃِ وَفَیْھَا تُرْفَعُ اَعْمَالُھُمْ وَ فِیْھَا تُنَزِّلُّ اَرْزَاقُھُمْ فَقَالَتْ یَا رَسُوْلَ اللہِ مَا مِنْ اَحَدٍیَدْخُلُ الْجَنَّۃَ اِلَّا بِرَحْمَۃِ اللہِ تَعَالٰی فَقَالَ مَا مِنْ اَحَدٍ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ اِلَّا بِرَحْمَۃِ اللہِ تَعَالٰی ثَلَاثَا قُلْتُ وَلَا اَنْتَ یَا رَسُوْلَ اللہ فَوَضَعَ یَدَہ، عَلٰی ھَامَتِہٖ فَقَالَ وَلَا اَنَّ اِلَّا اَنْ یَتَغَمَّدَنِیَ اللہُ مِنْہُ بِرَحْمَتِہٖ یَقُوْلُھَا ثلَاَثَ مَرَّاتٍ رَوَاہُ الْبَیْھِقِیُّ فِی الدَّاعْوَتِ الْکَبِیْر“اور ام

 المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رضی اللہ عنہا) راوی ہیں کہ سر تاج دو عالم ﷺ نے (مجھ سے) فرمایا کہ کیا تم جانتی ہو کہ اس شب میں یعنی پندرہویں شعبان کی شب میں کیا ہوتا ہے؟ میں نے عرض کیا  یا رسول اللہ (مجھے تو معلوم نہیں آپ ﷺ ہی بتائیے کہ) کیا ہوتا ہے؟  آپ ﷺ نے فرمایا  بنی آدم کا ہر وہ آدمی جو اس سال پیدا ہونے والا ہوتا ہے اس رات کو لکھا جاتا ہے، بنی آدم کا ہر وہ آدمی جو اس سال مرنے والا ہوتا ہے اس رات میں لکھا جاتا ہے اس رات میں بندوں کے اعمال (اوپر) اٹھائے جاتے ہیں اور اسی رات میں بندوں کے رزق اترتے ہیں  حضرت عائشہ نے عرض کیا۔  یا رسول اللہ! کوئی آدمی بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بغیر بہشت میں داخل نہیں ہوسکتا آپ نے یہ الفاظ تین مرتبہ فرمائے میں نے عرض کیا  اور نہ آپ یا رسول اللہ ﷺ یعنی (آپ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بغیر جنت میں داخل نہیں ہونگے؟) رسول اللہ ﷺ نے اپنا دست مبارک اپنے سر مبارک پر رکھا اور فرمایا  اور نہ میں! (یعنی میں بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بغیر جنت میں داخل نہیں ہوں گا) مگر یہ کہ اللہ جل شانہ (اپنے فضل و کرم کے صدقہ) مجھے اپنی رحمت کے سائے میں لے لے  یہ الفاظ بھی آپ ﷺ نے تین بار فرمائے۔بیہقی نے یہ روایت دعوات کبیر میں نقل کی ہے۔(مشکوٰۃ المصابیح کتاب: تراویح کا بیان)

(۴)حضرت سیدنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایاکہ میرے پاس جبرئیل (علیہ السلام) آ ئے اور کہا کہ شعبان کی پندرہویں رات ہے اس میں اللہ تعالیٰ جہنم سے اتنوں کو آزاد رماتا ہے جتنے بنی کلب کی بکریوں کے بال ہیں،مگر کا فر،اور عداوت والے،اور رشتہ کا ٹنے والے،اور کپڑا لٹکا نے والے اور والدین کی نا فرما نی کر نے وا لے،اور شرابی کی طرف نظر رحمت نہیں فرماتا۔(شعب الایمان حدیث نمبر ۳۸۳۷)

(۵)روض الافکارر میں ہے کہ ایک بار سیدنا عیسی علیہ السلام ایک پہااذ کی سیر فرما رہے تھے کہ ایک نہایت صاف وشفاف سڈول چٹان نظر آئی آپ وہاں ٹھہر کر دیر تک اس کو بغور دیکھتے ررہے اللہ تعالیٰ نے دریافت فرمایا کہ اے عیسیٰ! کیا تم کوبہت پسند ہے عرض کیا کہ ہاں ارشاد ہوا کہ اس کے اندر کی چیز بھی دیکھو گے؟عرض کیا کہ ضرور،بس وہ چٹان بیچ سے شق ہو گئی ،حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دیکھا کہ چٹان کے اندر ایک شخص نماز پڑھ رہا ہے اس کے قریب پا نی کا ایک صاف چشمہ جا ری ہے اور ایک طرف انگور کی بیل ہے اور اس میں ترو تازہ خوشے لگے ہیں،جب وہ نماز پڑھ چکا تو آپ نے اس سے سلام کیا اورر مصافحہ کیا،حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے پو چھا کہ تم کون ہو؟بزرگ نے جواب دیا کہ میں موسیٰ علیہ السلام کی امت کا ایک شخص ہوں،میں نے دعا کی تھی کہ یا اللہ! مجھ کو عبا دت کے لئے سب سے الگ ایک جگہ عطا فرما،چنانچہ اس نے یہ تنہا ئی کی جگہ عطا فرما ئی ہے،یہاں مجھے نہ آب ودانہ کی فکر ہے نہ بال بچوں کا خیاہے،نہ یار ودوست کی صحبت میں وقت برباد ہو تا ہے،چار سو برس سے اسی پہاڑ میں رہتا ہوں ہمیشہ روزہ رکھتا ہوں اور اطمینان سے اپنے رب کی عبا دت کرتاہوں،عیسیٰ علیہ السلام بہت خوش ہو ئے اور عرض کیا کہ یا اللہ! اس سے بڑھ کرکون عابد ہو گا اور کس نے ثواب جمع کیا ہو گا؟ارشاد با ری ہوا کہ اے عیسیٰ”من صلی لیلۃ النصف من شعبان امۃ محمد ﷺ رکعتین  فھو افضل من عبا دتہ اربع مأۃ سنۃ“جو شخص میرے حبیب کا امتی شب برأت میں دو رکعت پڑھے گا وہ اس کی چار سو برس کی عبا دت سے بہتر ہو گا اور اس سے زیادہ ثواب پا ئے گا۔(نذہۃ  المجالس)واللہ اعلم بالصواب


کتبہ 

فقیر تاج محمد قادری واحدی 

۱۱/ شعبان المعظم ۱۴۴۱ہجری 
۶/ اپریل ۲۰۲۰عیسوی  بروز پیر

شب برأت کے متعلق مزید معلومات










شب برأت سے پہلے عرفہ کرنا کیسا ہے؟

شب برأت سے پہلے عرفہ کرنا کیسا ہے؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکا تہ 

مسئلہ:۔ کیا فرما تے ہیں علماء کرام اس مسئلہ میں کہ اکثر لوگ شب برأت سے پہلے میت کا عرفہ کرتے ہیں مثلا حلوہ روٹی وغیرہ پر فاتحہ دلاتے ہیں پھر برادری میں تقسیم کرتے ہیں نیز یہ بھی ہے کہ اگر کو ئی شب برأت سے ایک دو تین دن پہلے انتقال کرجا ئے تواس کا بھی شب برأت سے پہلے کرتے ہیں اور اگر کو ئی شب برأت کے ایک دن بعد انتقال کر جا ئے توپھر ایک سال کے بعد ہی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب انکی روح ایک سال بھٹکتی رہے گی قبرستان میں مؤمنین کی جماعت میں شامل نہ ہو گی جب عرفہ کر دیاجا ئے گاتب روح شامل ہو گی معلوم یہ کرنا ہے کہ شریعت مین اس کی کیا اصل ہے کیا یہ حقیقت ہے؟ مع حوالہ تحریر فرما ئیں؟
المستفتی:۔عبد ارحمن بہار

 وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکا تہ 
بسم اللہ الرحمن الرحیم 

الجواب بعون الملک الوہاب 

عرفہ کرنا کو ئی معیوب فعل نہیں ہے بلکہ یہ ایصال ثواب ہے جب چا ہیں کرسکتے ہیں کو ئی حرج نہیں ہاں یہ کہنا کہ شب برأت سے ایک دن پہلے یا دو دن پہلے ہی ہو سکتا ہے یا جب تک عرفہ نہ ہو گا روح بھٹکتی رہے گی یا مؤمنین کی جماعت یعنی قبرستان میں داخل نہ ہو گی یہ سب جہالت ہے ، اللہ تو فیق دے تو ہر دن ہر ہفتہ ہر مہینہ ایصال ثواب کرسکتے ہیں پھر اس میں حلوہ روٹی کی خصوصیت بھی نہیں ہر جا ئز اشیاء پر نیاز و فاتحہ درست ہے ہاں ایک بات ضرور ہے کہ برادری میں تقسیم کرنا منع ہے بلکہ اسے غریبوں یتیموں میں تقسیم کریں نہ کہ امیروں میں سیدی  سرکارر اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ سے روح نکالنے،عرفہ سے پہلے میت کا فاتحہ الگ دینے اور برادری میں تقسیم کرنے کے متعلق پو چھا گیاتو آپ نے فرمایا

”روح نکالنا محض جہالت و حماقت وبدعت ہے،ہاں فاتحہ دلانا اچھاہے، شکر، چاول مساکین کو تقسیم کرنا خوب ہے مگر برادری میں موت کے لئے نہ بانٹا جائے، عرفہ تک یابعد تک اگر الگ ہمیشہ فاتحہ دیں تو حرج نہیں، شامل رکھیں تو حرج نہیں، یہ سمجھنا کہ عرفہ تک الگ کا حکم ہے پھر شامل کا، یہ غلط وجہالت ہے، میّت کی دعوت برادری کے لیے منع ہے ان کا بُرا ماننا حماقت ہے، ہاں برادری میں جو فقیر ہو اسے دینا اور فقیر کے دینے سے افضل ہے۔
(فتاوی رضویہ جلد ۹/ص ۶۱۱/ لاہور)

نوٹ:۔عرفہ کرنے اور غربا ومسا کین کو تقسیم کرنے کا اصل مقصد ہو تا ہے ایصال ثواب کرنا اس لئے لوگ برادری میں حلوہ اور روٹی تقسیم کرتے ہیں مگر اسے کھانے کے بجا ئے جانور کو کھلا دیاجا تا ہے یا پھر پھینک دیاجاتا ہے واللہ یہ فقیر کا بار ہاکا مشاہدہ ہے لہذا تقسیم نہ کرکے کچھ رقم غریبوں تیموں میں تقسیم کردیں یا انکی دیگر ضروریات پو ری کردیں یا پھر غربا و مساکین کو گھر پر بلا کر دعوت کھلا دیں کیوں کہ عرفہ کرنا فرض و واجب نہیں ہے بلکہ مستحب ہے اور مستحب کے چکر میں مال کو ضائع کردیاجاتا ہے،جا نور کو کھلا دیاجاتا ہے اس لئے تقسیم نہ کرکے کو ئی اور طریقے سے ایصال ثواب کریں ہاں اگر آپ کو یقین ہو کہ فلاں کھاتا ہے ت بیشک آپ اسے دے سکتے ہیں بلکہ ایسے غریب کو دینا افضل ہے۔واللہ تعالی اعلم

کتبہ 

محمد پرویز رضا دارالعلوم اہلسنت فیضان مصطفی اشرف نگر بھوانی گنج 

۵/ شعبان المعظم ۱۴۴۱ہجری 
۱/ اپریل ۲۰۲۰عیسوی  بروز بدھ

Mohammed Parvez Darul Uloom Ahle Sunnat faizane Mustafa channel Nagar Bhawani Ganj Siddharth Nagar UP
96705567989670556798