✒️.. _ محمد پرویز رضا فیضانی حشمتی
باب الصلاۃ من الایمان
اللہ ربّ العزت کا شکر ہے جس کی توفیق سے علم التر بیت کے ان حلقات میں دروس صحیح البخاری کے زیل میں آج باب نمبر 31 کا مطالعہ کر رہے ہیں، اس کا عنوان جو امام بخاری نے قائم فرمایا ہے کہ باب اس امر کا نماز بھی ایمان میں سے ہے ،پھر وہ اللہ ربّ العزت کے اس قول کو یعنی سورہ بقرہ کی آیت نمبر 143 کا حصہ لاتے ہیں کہ اللہ ربّ العزت کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ تمہارا ایمان ضائع ہونے دے ،یعنی وہ نمازیں جو تحویل قبلہ سے قبل بیت المقدس کی طرف منہ کرکے پڑھی گئیں اور وہ لوگ فوت ہو گئے جنہوں نے وہ نمازیں بیت المقدس کی طرف منہ کر کے پڑھیں جب وہ قبلہ تھا اور اب قبلہ بدل کر کعبۃ اللہ ہو گیا تو جنہوں نے نمازیں اس سمت قبلہ کی طرف پڑھیں تھیں وہ کسی کی ضائع نہیں ہوں گی ۔
ان کا اجر بھی اسی طرح قائم و دائم اور کامل و وافر ہو گا ۔
ترجمۃ الباب میں اتنا مضمون لانے کے بعد امام بخاری حضرت براء بن عازب رض سے مروی حدیث لاتے ہیں جس میں وہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب قدوم میمنت نزول ہوا ، مدینہ منورہ تشریف لائے تو اپنے اجداد یعنی ننھیال کے ہاں اخوال کے ہاں ٹھہرے اور وہ انصار میں سے تھے ،اب اس کا آپ کے دادا جان کے نسب سے بھی اس کا تعلق ہے اور والدہ ماجدہ کے نسب کے ساتھ بھی اس کا تعلق ہے ۔حضور علیہ السلام نے ہجرت مدینہ کے بعد سولہ یا سترہ ماہ مسلسل نماز بیت المقدس، یروشلم جو القدس ہے کی طرف منہ کرکے نماز پڑھیں اور پڑھائی مگر آپ پسند کرتے تھے آپ کو محبت تھی اس امر کی چاہت تھی کہ آپ کا قبلہ بیت المقدس کی بجائے کعبۃ اللہ ہو جائے جو بیت ابراہیمی ہے ۔حضور علیہ السلام نے تحویل قبلہ کے بعد جو پہلی نماز پڑھی گویا مکہ کی طرف وہ نماز عصر تھی ۔
اس حدیث پاک کے الفاظ سے یہ بات واضع نہیں یہ دیگر بہت سی احادیث کے مضمون اور مرویات کو ملا کر یہ بات اخذ کی ہے ۔
اس حدیث میں اتنا آیا ہے کہ جب پہلی نماز آپ نے ادا فرمائی وہ صلوٰۃ العصر تھی اور آپ کے ساتھ لوگوں نے نماز ادا کی ۔ اب اس حدیث میں مضمون یوں ہے کہ ایک صحابی جس نے حضور علیہ السلام کی اقتداء میں نماز پڑھی تھی ، تفصیلات میں آتا ہے کہ ان کا نام عباد بن بشر تھا ،وہ نماز سے فارغ ہو کر گئے اور گزر ہوا ایک علاقے سے تو وہاں ایک مسجد تھی اس مسجد کے قریب سے گزرے وہ آقا علیہ السلام کی اقتداء میں نماز عصر پڑھ چکے تھے ۔وہ کون سی مسجد تھی جہاں انہوں نے نماز پڑھی تھی اس کی تفصیل اس حدیث میں نہیں دیگر احادیث کی کتب سے ملے گی وہ مسجد نبوی بھی ہو سکتی ہے اور مسجد بنی سلمہ بھی ہے ،یہ آگے جب تفصیل میں بات ہو گی تو پھر بات کھلے گی ۔
جس مسجد کے قریب سے گزرے وہ مسجد بنی حارثہ تھی وہاں لوگ نماز عصر پڑھ رہے تھے ۔اب یہاں ایک سوال محفوظ رکھ لیں ذہنوں میں آئے گا کہ کتنی مسجدیں مدینہ منورہ میں تھیں آقا علیہ السلام کے زمانہ اطہر میں۔اور لوگ الگ الگ اپنی مساجد میں نماز باجماعت پڑھتے تھے ، قدیم کتب تاریخ اور کتب سیر میں اخبار مکہ اور اخبار مدینہ جسی کتب میں کھنگالنے سے معلوم ہوتا ہے، میں نے جتنا کھنگالا ہے کتب کو عام طور پر محدثین جیسے امام عینی نے عمدۃ القاری میں لکھا ہے کہ آقا علیہ السلام کے مقدس دور میں مسجد نبوی کے علاوہ نو مسجدیں تھیں ۔مگر جب میں نے ان کتب کو کھنگالا تو 40 مساجد تک پہنچا ہوں ، یہ جز آگے بیان کروں گا۔
ان میں سے ایک مسجد بنی حارثہ کے قریب سے گزرے تو لوگ نماز عصر پڑھ رہے تھے،سب سے پہلے مسجد نبوی میںحضرت بلال رض آزان دیتے تھے ۔اور وہاں نماز ہوتی اور اس آزان کو follow کرتے پھر تمام مساجد میں جیسے جیسے اطلاع ملتی تو وہ آذانیں دیکر اپنی اپنی نمازیں ادا کرتے ،تو انہوں نے نماز عصر شروع کی آقا علیہ السلام پڑھ چکے تھے ، انہوں نے دیکھا کہ وہ رکوع میں تھے اور بدستور پچھلے سولہ سترہ ماہ کا جو معمول تھا اس کے مطابق وہ بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھ رہے تھے کہ انہوں نے کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ آقا علیہ السلام کی اقتداء میں قبلہ مکہ کی طرف منہ کرکے ابھی نماز پڑھ کر آیا ہوں۔
حدیث کے یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ تحویل قبلہ نماز ظہر میں ہو چکا تھا اور اس کے بعد پہلی نماز عصر آقا علیہ السلام نے مسجد نبوی میں ادا کی ۔
قبلہ بدلنے کا واقعہ نماز ظہر کے وقت مسجد بنی سلمہ میں ہوا تھا ،ایک صحابی کا انتقال ہو گیا تھا تو آقا علیہ السلام اس کے جنازے کے لیے تشریف لے گئے، پھر بعض کتب میں آتا ہے کہ ایک صحابی کی والدہ نے اسی محلے اسی قریہ میں آقا علیہ السلام کی دعوت کی تھی۔تو آپ اس وقت وہاں موجود تھے نماز ظہر کا وقت ہوا اسی علاقے بنی سلمہ کی مسجد میں تشریف لے گئے وہاں نماز ظہر ادا فرما رہے تھے کہ اس دوران تحویل قبلہ کا واقعہ ہوا ۔
اس لئے جب حضرت براء بن عازب بیان کر رہے ہیں تو وہ یہ کہتے ہیں کہ میں آقا علیہ السلام کی اقتداء میں کعبہ مکہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ کر آیا ہوں،اگر اس نماز عصر میں تحویل قبلہ ہوئی ہوتی تو وہ یہ جملہ نہ بولتے کہ میں آقا علیہ السلام کی اقتداء میں مکہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھ کر آیا ہوں ۔وہ یہ جملہ بولتے کہ میں موجود تھا کہ مکہ طرف تحویل قبلہ ہو گیا ہے ۔
اور یہ تحویل قبلہ کا جن کو بتا رہے ہیں وہ بنی حارثہ کے لوگ ہیں اور وہ رکوع میں کھڑے ہیں۔جب انہوں نے ان کی گواہی سنی حلفآ شہادت دی وہ رکوع کی حالت میں ہی پھر گئے اور بیت المقدس کی بجائے اپنا رخ کعبۃ اللہ کی طرف کر لیا۔
اس حدیث میں امام بخاری بیان کرتے ہیں کہ یہود جب خوش ہوتے تھے کہ جب آپ مدینہ منورہ آئے اور بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے دیکھا کہ اس پیغمبر نے اور مسلمانوں نے ہمارا قبلہ adopt کر لیا ہے مگر جب تحویل قبلہ کا حکم آ گیا اور آپ نے چہرہ انور مکہ کی طرف کر لیا تو وہ اس کے منکر ہو گئے۔
پہلے بھی طعنہ زنی کرتے تھے بعد میں بھی طعنہ زنی کرنے لگے اور اس پر امام بخاری نے ظہیر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت براء بن عازب رض کی حدیث میں کہ وہ اس قبلہ پر جن لوگوں کی وفات ہو گئی تھی بیت المقدس کے قبلہ پر تحویل قبلہ سے قبل ، ہم نہیں جانتے تھے کہ ان کے بارے میں کیا کہیں ، یہود، کفار و مشرکین طعنہ دیتے تھے خاص طور پر یہود اہل کتاب طعنہ دیتے تھے اور ہم سے پوچھتے تھے کہ بتاؤ کہ جب تم بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے تھے تو وہ قبلہ ہدایت پر تھا یا ضلاضت گمراہی پر تھا ،تم ضلاضت پر تھے یا گمراہی پر تھے ۔
اگر تم اس وقت ہدایت پر تھے تو تم نے ہدایت چھوڑ دی ہے اور اگر تم اس وقت معاذاللہ گمراہی پر تھے تو اب ہدایت پر آئے ہو ،اس طرح وہ متعین کر کے leading question کرتے تھے ، اگر اب ہدایت پر آئے ہو تو تمہارے ساتھی صحابہ ادھر منہ کرکے نماز پڑھتے فوت ہو گئے تو کیا بنے گا ان کی نمازوں کا ۔اس طرح وہ سوالات کرتے تھے ، صحابہ کرام کہتے ہمیں معلوم نہیں تھا کہ ہم کیا جواب دیں ،آقا علیہ السلام کی بارگاہ میں عرض کیا تو اس کے جواب میں آیت آ گئی کہ اللہ تعالیٰ کسی کا ایمان ضائع کرنے والا نہیں ہے یہ تو اس حدیث کا مضمون ہے۔
اب امام بخاری نے یہ حدیث صحیح بخاری میں کئی مقامات پر بیان کی ہے یہ تو کتاب الایمان میں تھی حدیث نمبر 40 جس کو ابھی ہم نے پڑھا ہے ۔
اس کے بعد امام بخاری کتاب الصلاۃ من بھی حدیث لائے ہیں ،باب التوجہ نحول القبلہ ،
پھر تیسری بار یہ حدیث تفسیر میں لائے ہیں سورہ بقرہ کے تحت اس آیت کی تفسیر میں لائے ہیں اور کئی جگہوں پر امام بخاری یہ حدیث لائے ہیں اسی طرح امام مسلم بھی اس حدیث کو لاتے ہیں ،اب میں صحیح بخاری کا صرف ایک اور مقام پڑھوں گا جو کتاب الصلاۃ میں ہے ،باب التوجہ نحول القبلہ یعنی قبلہ کی طرف متوجہ ہو جانا جہاں بھی تھے ۔قبلہ کی طرف منہ کر لو اور یہ ترجمۃ الباب میں حضرت براء بن عازب رض سے ہی روایت لائے ہیں
پہلا حصہ وہی ہے کہ 16 ماہ بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز ادا کی ۔اگلے جملے میں ایک لفظ کا فرق ہے کہ آپ کو محبت تھی اس آمر سے چاہتے تھے کہ آپ کو کعبہ کی طرف متوجہ کر دیا جائے ، آقا علیہ السلام کی طرف اس جملے میں کتنا ادب ہے ، یہ نہیں فرمایا کہ آپ اس بات کو پسند کرتے تھے کہ رخ ادھر ہو جائے یا میں کعبہ مکہ کی طرف متوجہ ہو جاؤں۔
صیغہ مجہول میں کہا کہ آپ کو اس امر سے محبت تھی کہ انہیں پھیر دیا جائے ، یہ ادب الہویت ہے کیونکہ کعبہ اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمایا ہے اور اللہ کی عبادت کی سمت ہے وہ مجھے اس طرف قبلہ تحویل کر دے وہ میرا رخ ادھر پھیر دے یعنی کعبہ کا زکر کیا ہے عبادت الہیہ کی اور اس کے بیان کے صیغے کا فعل اپنی جانب نہیں بلکہ صیغہ مجہول میں اللہ تعالیٰ کے ادب کو ملحوظ رکھتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ مجھے اس طرف پھیر دیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے آیت نازل کی ،یہ آیت کا ٹکڑا اس روایت میں موجود نہیں تھا ۔
اللہ تعالیٰ نے آیت نازل کی میرے حبیب ہم نے آپ کا چہرہ بار بار آسمان کی طرف پلٹنا دیکھ لیا ہے یعنی آپ کے دل کی خواہش ہم جانتے ہیں ،سو اس آیت کے اترنے سے آقا علیہ السلام نے اپنا چہرہ اقدس کعبہ کی طرف پھیر لیا۔
لوگوں میں صفہاء تھے انہوں نے کہا کہ کس چیز نے تمہارا رخ پھیر دیا تو پھر آگے وہ پورا واقعہ ہے جو پچھلی حدیث میں بیان ہوا ہے عباد بن بشر کا نماز پڑھنے کے بعد نکلنا اور بنی حارثہ کے لوگوں کو جو حالت رکوع میں نماز پڑھ رہے تھے ان کو گواہی دے کر کہنا کہ میں نے آقا علیہ السلام کے ساتھ نماز پڑھی ہے اور آقا علیہ السلام نے سمت کعبہ چہرہ انور کر لیا ہے تو وہ لوگ بھی اسی سمت پھر گئے اور کعبہ کی طرف متوجہ ہو گئے ، پھر وہ حدیث لائے ہیں امام بخاری۔
یہی جو آیات کریمہ کا حوالہ دے رہے ہیں امام بخاری اور جس مضمون کو بیان فرما رہے ہیں اس مضمون کا زکر قرآن مجید کی سورۃ بقرہ کی آیت نمبر 143 اور 144 میں بھی ہے بلکہ اس سے آگے پورے رکوع میں چلتا ہے ،ان آیتوں کا زکر انہوں نے اس حدیث میں کیا ہے لیکن پورا رکوع اللہ ربّ العزت نے بیان فرمایا ہے۔اس میں اللہ ربّ العزت ارشاد فرماتے ہیں اس حدیث میں اب توضیح کر رہا ہوں قرآن مجید اور حدیث کے مضمون کو جوڑ کر ۔ تھوڑا سا میں حدیث کی روشنی میں بیان کر دوں کہ تحویل قبلہ کا پس منظر بیان کر دوں ، صحیح مسلم میں بھی احادیث ہیں اس میں 525 اور onward یہ پورا باب ہے باب تحویل من القدس الی الکعبہ ، القدس سے کعبہ کی طرف قبلہ کا پھر جانا تو وہ پھر پوری احادیث آگے لائے ہیں ،دیگر احادیث کا جب ہم مطالعہ کرتے ہیں جس میں مسند احمد بن حنبل، امام طبرانی کی معجم الکبیر ، مسند بزار ، مصنف ابن ابی شیبہ، سنن ابی داؤد، بہقہی بھی ہے ، میری ایک پوری کتاب ہے السنت نبویہ کی حجیت پر یہ عربی میں کوئی بارہ سو یا چودہ سو صفحات کی ہے ۔ابھی چھپی نہیں ہے ترجمے کے ساتھ چار جلدیں بن جائیں گیں۔اس کے اندر ایک تفصیلی باب اس پر قائم ہے ۔ان تمام کتب میں یہ بات تفصیل سے آتی ہے کہ تین اقوال ہیں کہ قبلہ تبدیل کیسے ہوا
اس کی پہلے تعین کیسے ہوئی تھی۔یہ بات زہن نشین کرنے کے قابل ہے کہ یہ قرآن مجید میں پہلا نسخ ہے جو آیات منسوخ ہونا یا آیات کے احکام کا منسوخ ہونا ،پہلا حک جو منسوخ ہوا وہ تحویل قبلہ کے زریعے قبلہ بیت المقدس کی تبدیلی تھی ،تو نسخ کا پہلا حکم جو آقا علیہ السلام پر نازل ہوا وہ تحویل قبلہ تھا ،یہ کس طرح نسخ ہوا ،
اس پر اقوال ہیں ،اگر جمع کریں اقوال کو تو حضرت عبداللہ ابن عباس رض سے مروی ہے جب مکہ میں تھے تو آپ نماز کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز ادا فرماتے تھے ۔جب ہجرت مدینہ ہوئی تو آقا علیہ السلام نے اللہ کے امر سے بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز ادا کرنا شروع کی ،اس سے یہ بات اخذ ہوتی ہے کہ شاید اس سے قبل جب آقا علیہ السلام مکہ مکرمہ میں تھے تو آپ کعبۃ اللہ ہی کی طرف منہ کرکے نماز ادا فرماتے تھے یہ ایک روایت ہے لیکن امام احمد بن حنبل نے انہوں نے ایک اور طریق سے حضرت عبداللہ ابن عباس رض سے ہی روایت کیا ہے تو اس سے یہ شبہ دور ہو جاتا ہے جو میں نے پہلے عرض کیا کہ اس سے یہ بات اخذ ہوتی ہے اس سے شبہ دور ہو جاتا ہے ۔
دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عبداللہ ابن عباس رض فرماتے ہیں کہ جب مکہ میں تھے تب بھی آپ بیت المقدس کی طرف ہی چہرہ اقدس کر کے نماز ادا کرتے تھے ۔تو قبلہ اس وقت بھی القدس تھا لیکن اس طرح کھڑے ہوتے کہ کعبہ سامنے آ جاتا ،رخ نماز میں بیت المقدس کی طرف کرتے مگر آپ نے ایک سمت نماز کے لیے کھڑے ہونے کی مقرر کر رکھی تھی اور اس سمت ہی کھڑے ہوتے کہ نماز پڑھتے وقت کعبہ آپ کے سامنے ہو یعنی کعبۃ اللہ کی طرف پشت نہیں کرتے تھے تو بیت المقدس کی طرف توجہ ہوتی اور کعبۃ اللہ کی طرف چہرہ اقدس رہتا ۔اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے۔
بعض روایات میں ابن جرید کے طریق سے وہ فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے آقا علیہ السلام مکہ مکرمہ کے زمانہ میں کعبۃ اللہ ہی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے تھے یہ تیسرا قول ہے ۔پھر اللہ ربّ العزت نے اپنے امر سے آپ کا رخ بیت المقدس کی طرف پھیر دیا اور جب امر الٰہی سے بیت المقدس کی طرف نماز پڑھنے لگے تو 3 سال تک ہجرت سے پہلے چہرہ انور ادھر کر کے نماز پڑھتے رہے ۔اوراس سے پہلے کعبہ ہی ہوتا تھا ۔
اب اقوال کی تطبیق یوں ہوتی ہے کہ جب بیت المقدس مقرر ہو گیا تو آپ نے اس طرف چہرہ اقدس کرنا شروع کر دیا مگر کعبۃ اللہ کی طرف پشت نہیں فرمائی سو دوسرے قول کے مطابق وہ صورت اختیار کر لی کہ ایک direction متعین فرما لی اسی جگہ ہی کھڑے ہوتے کہ اس طرح کہ کعبہ سامنے رہتا اور سمت قبلہ بیت المقدس ہی ہوتی۔پھر 3 سال یہ معمول رکھنے کے بعد آپ نے ہجرت فرمائی کیونکہ بیت المقدس قبلہ مقرر ہو چکا تھا لہذا ہجرت مدینہ کے بعد وہی جاری رہا یعنی ہجرت مدینہ کے بعد نیا امر نہیں آیا یہ امر مکہّ میں تین سال قبل جاری ہو چکا تھا اور سولہ یا سترہ ماہ مدینہ منورہ میں بھی اسی معمول میں گزرے پھر تحویل قبلہ ہوئی ۔
یہ تینوں اقوال اس لئے بیان کر دئے تاکہ آپ کو پس منظر معلوم ہو جائے مگر ان میں کوئی تضاد نہیں ہے ،آقا علیہ السلام نے خود اپنے عمل مبارک سے اس کی تطبیق فرما دی تھی ۔اب اس میں ایک اور چیز بڑی توجہ طلب ہے اور وہ یہ میں نے عرض کیا کہ یہ نسخ کا پہلا حکم ہے جو قرآن مجید میں آیا ۔
اب دلچسپ بات بڑی توجہ طلب ہے اہل علم ، طلباء، اساتذہ، محقیقین اور علماء اس کو غور سے سنیں کہ یہ جو نسخ ہے اس کا یہ ہے قرآن مجید میں صراحتاً تحویل قبلہ کا زکر آیا ہے مگر تعجیل قبلہ کا نہیں آیا یعنی یہ پہلی آیت سورہ بقرہ کی جو اتری ہے وہ قبلہ جس پر آپ پہلے تھے اس لئے آپ پر مقرر کیا تھا یعنی وہ بیت المقدس وہ قبلہ ہم نے مقرر کیا تھا جس پر آپ پہلے تھے صرف اس وجہ سے آگے سبب بیان فرماتے ہیں لیکن وہ اللہ نے مقرر کیا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی کسی وحی میں نازل نہیں فرمایا۔
یہ آیت مبارکہ تصریح فرماتی ہے کہ آقا علیہ السلام نے ازخود اجتہادآ بیت المقدس کو اپنا قبلہ مقرر نہیں فرمایا تھا بلکہ امر الٰہی سے مقرر ہوا تھا۔بیت المقدس کا قبلہ مقرر ہونا بھی اللہ تعالیٰ کے حکم سے تھا مگر وہ حکم قرآن مجید میں کہیں نہیں یہ بات توجہ طلب ہے ۔
اگلا نکتہ کہ پورے قرآن مجید میں تحویل قبلہ کی آیت آئی ہے مگر پہلے قبلہ کا مقرر ہونا خواہ کعبہ مکہ تھا یا بیت المقدس تھا تو تعین کی کوئی آیت قرآن مجید میں نہیں آئی ۔جبکہ قرآن کہتا ہے کہ جس قبلہ پر آپ پہلے تھے کعبہ کی طرف متوجہ ہونے سے قبل وہ بھی ہم نے مقرر کیا تھا اور اس کی حمت یہ تھی تو یہ تصریحآ یہ ثابت ہو گیا کہ وہ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنا اجتہاد یا زاتی پسند نہیں تھی بلکہ وہ بھی حکم الٰہی تھا جس کی وجہ سے آپ بیت المقدس کی طرف چہرہ اقدس کر کے نماز پڑھتے تھے خواہ وہ مکہ مکرمہ میں تین سال پڑھتے تھے یا مدینہ منورہ میں سولہ سترہ مہینے پڑھتے رہے مگر قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے ڈیکلیئر کر دیا کہ وہ ہم نے مقرر کیا تھا مگر وہ اللہ کا مقرر کرنا قرآن مجید کی کسی آیت کریمہ میں نہ اشارہتآ ہے اور نہ صراحتاً ہے ۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر اللہ نے کیسے مقرر کیا تھا یہاں یہ چیز سمجھنے والی ہے اور یہ عقیدہ آقا علیہ السلام کی حدیث اور آقا علیہ السلام کی سنت other than قرآن اس کے حجت مطلقہ حجت واجبہ ہونے پر دلالت کرتی ہے کہ یہ جو قبلہ مقرر کیا تھا تو قبلہ کا مقرر کرنا حدیث کی رو سے ہوا اور قبلہ کا بدلنا قرآن کی رو سے ہوا ۔
اللہ تعالیٰ نے آقا علیہ السلام کے قلب اطہر پر القاء فرمایا ، آپ کو الہام کیا ہو گا وہ جو جبرائیل امین کے زریعے قرآن مجید کی وحی کی صورت میں اترا کرتی تھی وہ وحی کے علاؤہ بھی حضور علیہ السلام کو علم عطا کرتے خبر دیتے ،ہدایت فرماتے ،رہنمائی فرماتے ،اشارات کرتے اور وہ سارا کچھ حق اور صادق ہوتے ، وہ جو آقا علیہ السلام فرماتے جو قرآن میں نہیں ہے وہ حدیث میں ہے یا جو قرآن میں نہیں آیا وہ آقا علیہ السلام کی سیرتِ طیبہ کی صورت میں سامنے آیا اس کو حدیث نبوی، سنت نبوی کہتے ہیں ، تو گویا حدیث اور سنت نبوی کا درجہ بھی شرعی احکام کے حجت ہونے میں اتھارٹی ہونے میں اسی طرح برابر ہیں جس طرح قرآن مجید کے احکام یعنی اصل حجیت میں authoritativeness میں authenticity میں واجب ہونے میں ،حدیث سے ثابت ہونے والا حکم اسی طرح معتمد اور معتبر ہے جس طرح قرآن سے ثابت ہونے والا حکم ،تو اصل وجوب میں حجیت میں حدیث اور قرآن میں کوئی فرق نہیں مرتبے کا فرق ہے ۔
قرآن مجید کا مرتبہ پہلے اور حدیث و سنت کا مرتبہ اس کے بعد دوسرا ہے ، مگر قرآن بھی چونکہ اللہ کی وحی ہے وہ وحی ہے جلی جو جبرائیل امین لے کر آتے ہیں اس میں معنی بھی وحی ہے لفظ بھی وحی ہے اور حدیث کا ہر لفظ وہ بھی وحی ہے مگر اس میں لفظ آقا علیہ السلام کے اپنے ہیں اور معنی اللہ کی طرف سے اترا ہوا ہے۔ یہ مفہوم ہے کہ کوئی لفظ بھی یہ رسول اپنی زبان سے اپنی مرضی سے ادا نہیں کرتے جو ایک ایک لفظ بھی ان کے منہ سے نکلتا ہے وہ اللہ کی وحی ہوتی ہے ، لہزا سمجھ لیں قبلے کا بدلنا قرآن سے ثابت ہے اور سب سے پہلے قبلے کا مقرر ہونا حدیث اور سنت سے ثابت ہے وہ قرآن مجید کی آیت میں نہیں ہے اور اس کی حجیت کیسے ہوئی اس کو اللہ رب العزت own فرما رہے ہیں، کہہ رہے ہیں وہ کعبہ جب مقرر ہوا بیت المقدس جس کا زکر قرآن کی کسی آیت میں نہیں ہے جس کا زکر وحی جلی کی شکل میں موجود نہیں ہے کہ تم تلاوت کرو اور قرآن میں کہیں بھی اشارہ ملے وہ حکم بھی ہم نے دیا تھا جس کا مطلب ہے کہ آقا علیہ السلام کی حدیث کی صورت میں ثابت ہونے والے شرعی احکام وہ بھی سارے اللہ کے احکام ہیں وحی ہیں اور حجت ہیں ۔ یہ لفظ جس قبلہ پر آپ پہلے تھے وہ بھی ہم نے مقرر کیا تھا جیسے اب ہم اس کو اب بدل رہے ہیں تو گویا وہ مقرر کرنا حدیث سے ہوا وہ بھی اتنا ہی واجب اور ثابت ہے جتنا قرآن کی رو سے اب قبلے کو بدلنے کا حکم ہے ۔عبداللہ ابنِ عباس رض سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبرائیل امین سے کہا کیونکہ وہ اب طعنہ دینے لگ گئے تھے اب ،جن کو جوڑنا تھا وہ اب جڑ گئے اب situation چینج ہو گئی کہ اب یہود ان کو طعنہ دینے لگ گئے کہ تمہارا پیغمبر دین تو نیا لایا ہے کتاب بھی نئی لے آیا ہے تعلیمات بھی نئی ہیں اور نہ ہمارے مذہب کو مانتے ہیں اور نہ ہمارے طریق کو مانتے ہیں ، ہر چیز پہ اختلاف ہے لیکن قبلہ ہمارا ہے اپنا قبلہ کیوں نہیں بنا سکتے ہمارے قبلے کی پیروی کرتے ہو۔یہ باتیں آقا علیہ السلام سنتے ،وہ جو اصل حکمت تھی وہ بھی پوری ہو چکی تھی کہ لوگ جڑ گئے تھے ، مستحکم ہو گئے تھے ،صاحبان استقامت بن گئے تھے ،اب situation چینج ہو گئی وہ طعنہ زنی ہونے لگی اور آقا علیہ السلام کی طبعی رغبت بھی تھی کہ کعبہ ابراہیم کو اپنایا جائے تو جبرائیل امین سے ایک روز فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ میرا کعبہ بیت المقدس کی بجائے کعبۃ اللہ مقرر ہو جائے تو جبرائیل امین نے ایک بڑا دلچسپ جملہ بولا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں تو خود غلام ہوں جو ملتا ہے آپ کو پہنچا جاتا ہوں ،اشارہ اس امر کی طرف تھا کہ آپ محبوب ہیں
خود اللہ کی بارگاہ میں عرض کریں آپ مانگیں وہ آپ کی بات نہیں موڑے گا تو خود تبدیل کروا لیں ،جبرائیل آمین یہ کہہ کر چلے گئے ، پھر جب نماز کا وقت ہوتا تو آقا علیہ السلام چہرہ انور اوپر اٹھاتے تھے اور ادب الہویت کا عالم دیکھیں کہ زبان پہ نہیں لائے ایک دن بھی نہیں لائے ،جبرائیل آمین سے رازدارانہ بات کی۔میرا دل یہ چاہتا ہے اور ان کا جواب کہ حضور میں غلام ہوں ،اللہ سے عرض کر لیں ،اللہ سے عرض نہیں کہ کہ باری تعالیٰ قبلہ بدل دے کیونکہ اس نے امر دیا تھا کہ میرے حبیب چہرہ بیت المقدس کی طرف کر لیں امر دیا تھا اب اس کا امر ہے سو اس سے ہٹتے ہوئے التجا بھی نہیں فرمانا چاہتے لیکن دل میں خواہش تھی جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو چہرہ بیت المقدس کی طرف ہوتا اور بار بار چہرہ انور اوپر اٹھاتے ،اس پر قرآن مجید کی یہ آیت آئی ہے کہ میرے حبیب مکرم ہم نے آپ کا چہرہ بار بار آسمان کی طرف پلٹنا دیکھ لیا ہے یہ احادیث میں آتا ہے۔
بنی سلمہ کا واقعہ تھا کہ مسجد بنی سلمہ میں نماز ظہر ادا فرما رہے تھے کہ پھر حسب معمول چہرہ اٹھاتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا جبرائیل یہ آیت لیکر چلا جا ،وہ آیت لے کے اترے اور جس میں یہ حکم آ گیا کہ آپ کا چہرہ ہم نے بار بار پلٹنا دیکھ لیا ہے ہم آپ کی خواہش سے آگاہ ہیں لہزا اپنا چہرہ بیت المقدس کی بجائے کعبۃ اللہ کی طرف پھیر لیجیے ، تین جملے آئے ہیں ، پہلے فرمایا ہم نے آپ کا چہرہ بار بار آسمان کی طرف پلٹنا دیکھ لیا ہے
دوسرا فرمایا جس قبلہ پر آپ راضی ہیں میرے محبوب ہم اسی کو قبلہ بنا دیں گے ، جس قبلہ پر آپ راضی ہیں۔
یہ دو باتیں کہہ کر تیسرا جملہ بولا کہ اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیجیے۔ تین جملے آقا علیہ السلام سے مخاطب ہیں خالصیتآ اپنے حبیب سے اور چوتھا جملہ امت کے لئے تھا کہ اے تمام امت مسلمہ کے لوگوں تم بھی جہاں جہاں بھی کہیں ہو اپنے چہرے مسجد حرام کی طرف کر لو ۔
چار segments میں اللہ ربّ العزت نے بات مکمل کی تو یہ دن جس دن تحویل قبلہ ہوئی 16 یا 17 ماہ ہو چکے تھے اور دو قول آتے جس دن تحویل قبلہ ہوئی وہ تاریخ 15 شعبان تھی اور منگل کا دن تھا یہ ایک قول ہے ۔
دوسرا قول یہ کہ وہ 15 رجب تھی نصف رجب ہے سن دو ہجری مگر وہ پیر کا دن تھا ، صحیح ابن حبان کی روایت کے مطابق 17 ماہ اور 4 دن probably اتنا عرصہ ہو گیا تھا پورا ، اور یہ count کرتے ہیں ہجرت مدینہ کے دن سے ، مدینہ منورہ میں آپ کی آمد 12 ربیع الاول کو ہوئی ہے اور وہ پیر کا دن تھا ۔
حافظ ابن حجر عسقلانی کے ہاں وہ کہتے ہیں کہ صحیح قول رجب کا ہے ، کئی آئمہ نے شعبان کے قول کو ترجیح دی ہے مگر مسجد بنی سلمہ میں نماز ادا ہو رہی تھی تو اس نماز میں آقا علیہ السلام کو اللہ رب العزت کی طرف سے چہرہ اقدس سوئے کعبہ پھیرنے کا امر آ گیا ۔تو نماز ظہر آپ نے مسجد بنی سلمہ میں پڑھی جس میں تحویل قبلہ ہوئی اور اس کے بعد نماز عصر کاملآ کعبۃ اللہ کی طرف آپ نے مسجد نبوی میں ادا کی اور اس کے بعد رہ گئی صحابہ کرام کو خبر ملنا ، پہلی خبر اسی عصر کی نماز میں جس میں عباد بن بشر ایک صحابی آقا علیہ السلام کے پیچھے نماز عصر پڑھ کر گئے انہوں نے مسجد بنی حارثہ والوں کو اطلاع دی وہ حالت نماز میں پھر گئے کہ آقا علیہ السلام نے قبلہ بدل دیا ہے اور پھر اہل قباء وہ عصر، مغرب اور عشاء بیت المقدس کی طرف منہ کرکے پڑھتے رہے وہاں ایک صحابی نماز فجر کے وقت پہنچے ، یہ سب تفصیلات مختلف کتب حدیث میں ہیں ۔وہاں فجر کی نماز پڑھ رہے تھے اسی طرح رکوع کی حالت میں تھے وہاں اس نے کہا کہ آقا علیہ السلام نے قبلہ تبدیل کر دیا ہے اور بیت المقدس کی بجائے آقا علیہ السلام نے کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی ہے ،اگلے دن صبح فجر کی نماز میں بدل گئے یعنی جوں جوں خبر پہنچی تو وہاں توں توں اسی حالت میں نماز کے اندر ہی قبلہ کا رخ بدلتے رہے ،ایک صحابیہ بیان کرتی ہیں ،حضرت نویلہ بنت اسلم کے الفاظ بھی کتب حدیث میں آتے ہیں اور بعض نسخوں میں فویلہ بنت اسلم کے الفاظ لکھے ہیں ۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ ہم بنی حارثہ میں اپنی جگہ پر تھے نماز پڑھ رہے تھے کہ جب عباد بن بشر قیضی آئے اور انہوں نے آ کر بتایا کہ آقا علیہ السلام نے چہرہ اقدس بیت المقدس سے کعبے کی طرف پھیر لیا ہے تو مرد اس طرح گھومے کہ وہ پیچھے ہٹ کر عورتوں کی صفوں کی طرف چلے گئے اور عورتیں مردوں کی صفوں کی طرف چلی گئیں ، دو رکعتیں پڑھ چکے تھے اور آخری دو رکعتیں کعبہ کی طرف منہ کرکے پڑھیں ، یہی آقا علیہ السلام نے کیا ۔
امام ابنِ حجر عسقلانی نے فتح الباری شرح صحیح بخاری میں پوری تصویر بیان کی ہے ۔کہ بیت المقدس اس طرف تھا اور کعبہ شریف دوسری طرف تھا بلکل opposite سائڈ تھیں ۔ وہ اگر وہی سے چہرہ بیت المقدس سے ہٹا کر کعبہ کی طرف کر لیں تو مقتدی بھی وہیں کھڑے کھڑے اپنے چہرے موڑ لیں تو امام سب کے پیچھے ہو جاتا ہے اور امام کی طرف پشت کر کے مرد حضرات کھڑے ہو جاتے ہیں اور مردوں سے آگے سب سے پہلی صف میں خواتین کھڑی ہو جاتی ہیں تو نماز ہی نہیں ہو سکتی تو یہ اس طرح نہیں کہ انہوں نے circulate کر لیا ہو ، یہ جو امام جو ادھر ہیں وہ اپنا مصلہ چھوڑ کر دوسری سمت مسجد کی ساری صفیں کراس کر کے ادھر چلے گئے تو سب صفوں کے آگے جا کر کھڑے ہوئے دو رکعتیں ہو چکی ہیں نماز توڑی نہیں ہے حالت نماز میں ہٹ کر ادھر جا رہے ہیں آقا علیہ السلام اور جو لوگ ہیں وہ اپنی جگہ پر کھڑے ہو کر رخ نہیں بدل رہے ۔جب آقا علیہ السلام ادھر چلے گئے تو پھر ادھر عورتیں آ گئیں کیونکہ ادھر آخر میں تھیں تو عورتیں ساری move کر کے پیچھے آئیں ہیں ، مرد اپنی صفوں سے ہٹکر آگے گئے ہیں ، نئی صف بندی ہوئی ہے عورتیں پیچھے صف میں آئیں ہیں ،امام نے صف بندی کی اور نماز جاری رہی کیوں کہ آقا علیہ السلام کروا رہے ہیں ۔
ہم امتحان لینا چاہتے تھے پہلا کعبہ اس لیے مقرر کیا تھا کہ جب تحویل قبلہ ہو اس پر گفتگو اگلی نشست میں کروں گا اشارہ دے رہا ہوں۔
جب تحویل قبلہ ہو تو لوگوں کے ایمان کا امتحان لیں کہ کس طرح آپ کی اتباع کرتے ہیں یا کس طرح اپنے قبلے کی طرف پلٹ جاتے ہیں یہ سارے عمل ہوتے رہے اور نماز آقا علیہ السلام کے پیچھے پڑھنے والوں کی بھی قائم رہی یہ تو آقا علیہ السلام کی زات گرامی تھی کہ جس آپ گھوم رہے ہیں تو لوگ بھی اسی طرح گھوم رہے ہیں نہ سجدہ سہو ہوا نہ نماز ٹوٹی ۔
مگر جہاں آقا علیہ السلام کا پیغام پہنچا ہے صحابہ کرام کی محبتوں اور عشق ، ان کی متابعات کا عالم دیکھیں
جہاں خبر پہنچی ہے تو یہی ردعمل وہاں ہؤا ہے ، مسجد بنی حارثہ، مسجد بنی سلمہ ، مسجد قباء میں بھی کہ وہاں امام ہیں آقا علیہ السلام خود نہیں ہیں تو امام بھی ہٹ کے ادھر گیا اور عورتیں ہٹ کے پیچھے آئیں ، مرد ہٹ کر ادھر گئے اور دو رکعتیں ادھر پڑھیں تھیں اور دو اس رخ پہ پڑھیں ۔
نہ کسی کی نماز ٹوٹی اور نہ اعادے کی ضرورت پڑی کیونکہ ان کے کانوں نے سن لیا کہ آقا علیہ السلام نے اپنا چہرہ انور بدل لیا ہے ، بس حضور علیہ السلام کے چہرہ انور کی سمت بدلنا وہ ساری نماز میں گھومتے رہے کسی کی نماز نہیں ٹوٹی ۔
یہ مقام تھا ان کے فہم دین ، معرفت دین حقیقت اور متابعت کو سمجھنے کا اور عمل کرنے کا ،آقا علیہ السلام کے ساتھ عشق محبت ،وارفتگی متابعت اور متابقت کی کیفیت کا ۔ یہاں پر آج کا مضمون ختم
محمد پرویز رضا فیضانی حشمتی