ہفتہ، 23 مئی، 2020

تحفظ ناموس رسالت

✒️..  _ محمد پرویز رضا فیضانی حشمتی 
باب الصلاۃ من الایمان 
اللہ ربّ العزت کا شکر ہے جس کی توفیق سے علم التر بیت کے ان حلقات میں دروس صحیح البخاری کے زیل میں آج باب نمبر 31 کا مطالعہ کر رہے ہیں، اس کا عنوان جو امام بخاری نے قائم فرمایا ہے کہ باب اس امر کا نماز بھی ایمان میں سے ہے ،پھر وہ اللہ ربّ العزت کے اس قول کو یعنی سورہ بقرہ کی آیت نمبر 143 کا حصہ لاتے ہیں کہ اللہ ربّ العزت کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ تمہارا ایمان ضائع ہونے دے ،یعنی وہ نمازیں جو تحویل قبلہ سے قبل بیت المقدس کی طرف منہ کرکے پڑھی گئیں اور وہ لوگ فوت ہو گئے جنہوں نے وہ نمازیں بیت المقدس کی طرف منہ کر کے پڑھیں جب وہ قبلہ تھا اور اب قبلہ بدل کر کعبۃ اللہ ہو گیا تو جنہوں نے نمازیں اس سمت قبلہ کی طرف پڑھیں تھیں وہ کسی کی ضائع نہیں ہوں گی ۔
ان کا اجر بھی اسی طرح قائم و دائم اور کامل و وافر ہو گا ۔
ترجمۃ الباب میں اتنا مضمون لانے کے بعد امام بخاری حضرت براء بن عازب رض سے مروی حدیث لاتے ہیں جس میں وہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب قدوم میمنت نزول ہوا ، مدینہ منورہ تشریف لائے تو اپنے اجداد یعنی ننھیال کے ہاں اخوال کے ہاں ٹھہرے اور وہ انصار میں سے تھے ،اب اس کا آپ کے دادا جان کے نسب سے بھی اس کا تعلق ہے اور والدہ ماجدہ کے نسب کے ساتھ بھی اس کا تعلق ہے ۔حضور علیہ السلام نے ہجرت مدینہ کے بعد سولہ یا سترہ ماہ مسلسل نماز بیت المقدس، یروشلم جو القدس ہے   کی طرف منہ کرکے نماز پڑھیں اور پڑھائی مگر آپ پسند کرتے تھے آپ کو محبت تھی اس امر کی چاہت تھی کہ آپ کا قبلہ بیت المقدس کی بجائے کعبۃ اللہ ہو جائے جو بیت ابراہیمی ہے ۔حضور علیہ السلام نے تحویل قبلہ کے بعد جو پہلی نماز پڑھی گویا مکہ کی طرف وہ نماز عصر تھی ۔
اس حدیث پاک کے الفاظ سے یہ بات واضع نہیں یہ دیگر بہت سی احادیث کے مضمون اور مرویات کو ملا کر یہ بات اخذ کی ہے ۔
اس حدیث میں اتنا آیا ہے کہ جب پہلی نماز آپ نے ادا فرمائی وہ صلوٰۃ العصر تھی اور آپ کے ساتھ لوگوں نے نماز ادا کی ۔ اب اس حدیث میں مضمون یوں ہے کہ ایک صحابی جس نے حضور علیہ السلام کی اقتداء میں نماز پڑھی تھی ، تفصیلات میں آتا ہے کہ ان کا نام عباد بن بشر تھا ،وہ نماز سے فارغ ہو کر گئے اور گزر ہوا ایک علاقے سے تو وہاں ایک مسجد تھی اس مسجد کے قریب سے گزرے وہ آقا علیہ السلام کی اقتداء میں نماز عصر پڑھ چکے تھے ۔وہ کون سی مسجد تھی جہاں انہوں نے نماز پڑھی تھی اس کی تفصیل اس حدیث میں نہیں دیگر احادیث کی کتب سے ملے گی وہ مسجد نبوی بھی ہو سکتی ہے اور مسجد بنی سلمہ بھی ہے ،یہ آگے جب تفصیل میں بات ہو گی تو پھر بات کھلے گی ۔ 
جس مسجد کے قریب سے گزرے وہ مسجد بنی حارثہ تھی وہاں لوگ نماز عصر پڑھ رہے تھے ۔اب یہاں ایک سوال محفوظ رکھ لیں ذہنوں میں آئے گا کہ کتنی مسجدیں مدینہ منورہ میں تھیں آقا علیہ السلام کے زمانہ اطہر میں۔اور لوگ الگ الگ اپنی مساجد میں نماز باجماعت پڑھتے تھے ، قدیم کتب تاریخ اور کتب سیر میں اخبار مکہ اور اخبار مدینہ جسی کتب میں کھنگالنے سے معلوم ہوتا ہے، میں نے جتنا کھنگالا ہے کتب کو عام طور پر محدثین جیسے امام عینی نے عمدۃ القاری میں لکھا ہے کہ آقا علیہ السلام کے مقدس دور میں  مسجد نبوی کے علاوہ نو مسجدیں تھیں ۔مگر جب میں نے ان کتب کو کھنگالا تو 40 مساجد تک پہنچا ہوں ، یہ جز آگے بیان کروں گا۔
 ان میں سے ایک مسجد بنی حارثہ کے قریب سے گزرے تو لوگ نماز عصر پڑھ رہے تھے،سب سے پہلے  مسجد نبوی میںحضرت بلال رض آزان دیتے تھے ۔اور وہاں نماز ہوتی اور اس آزان کو follow کرتے پھر تمام مساجد میں جیسے جیسے اطلاع ملتی تو وہ آذانیں دیکر اپنی اپنی نمازیں ادا کرتے ،تو انہوں نے نماز عصر شروع کی آقا علیہ السلام پڑھ چکے تھے ، انہوں نے دیکھا کہ وہ رکوع میں تھے اور بدستور پچھلے سولہ سترہ ماہ کا جو معمول تھا اس کے مطابق وہ بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھ رہے تھے کہ انہوں نے کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ آقا علیہ السلام کی اقتداء میں قبلہ مکہ کی طرف منہ کرکے  ابھی  نماز پڑھ کر آیا ہوں۔
حدیث کے یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ تحویل قبلہ نماز ظہر میں ہو چکا تھا اور اس کے بعد پہلی نماز عصر آقا علیہ السلام نے مسجد نبوی میں ادا کی ۔
قبلہ بدلنے کا واقعہ نماز ظہر کے وقت مسجد بنی سلمہ میں ہوا تھا ،ایک صحابی کا انتقال ہو گیا تھا تو آقا علیہ السلام اس کے جنازے کے لیے تشریف لے گئے، پھر بعض کتب میں آتا ہے کہ ایک صحابی کی والدہ نے اسی محلے اسی قریہ میں آقا علیہ السلام کی دعوت کی تھی۔تو آپ اس وقت وہاں موجود تھے نماز ظہر کا وقت ہوا اسی علاقے بنی سلمہ کی مسجد میں تشریف لے گئے وہاں نماز ظہر ادا فرما رہے تھے کہ اس دوران تحویل قبلہ کا واقعہ ہوا ۔
اس لئے جب حضرت براء بن عازب بیان کر رہے ہیں تو وہ یہ کہتے ہیں کہ میں آقا علیہ السلام کی اقتداء میں کعبہ مکہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ کر آیا ہوں،اگر اس نماز عصر میں تحویل قبلہ ہوئی ہوتی تو وہ یہ جملہ نہ بولتے کہ میں آقا علیہ السلام کی اقتداء میں مکہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھ کر آیا ہوں ۔وہ یہ جملہ بولتے کہ میں موجود تھا کہ مکہ طرف تحویل قبلہ ہو گیا ہے ۔
اور یہ تحویل قبلہ کا جن کو بتا رہے ہیں وہ بنی حارثہ کے لوگ ہیں اور وہ رکوع میں کھڑے ہیں۔جب انہوں نے ان کی گواہی سنی حلفآ شہادت دی وہ رکوع کی حالت میں ہی پھر گئے اور بیت المقدس کی بجائے اپنا رخ کعبۃ اللہ کی طرف کر لیا۔
اس حدیث میں امام بخاری بیان کرتے ہیں کہ یہود جب خوش ہوتے تھے کہ جب آپ مدینہ منورہ آئے اور بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے دیکھا کہ اس پیغمبر نے اور مسلمانوں نے ہمارا قبلہ adopt کر لیا ہے مگر جب تحویل قبلہ کا حکم آ گیا اور آپ نے چہرہ انور مکہ کی طرف کر لیا تو وہ اس کے منکر ہو گئے۔ 
پہلے بھی طعنہ زنی کرتے تھے بعد میں بھی طعنہ زنی کرنے لگے اور اس پر امام بخاری نے ظہیر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت براء بن عازب رض کی حدیث میں کہ وہ اس قبلہ پر جن لوگوں کی وفات ہو گئی تھی بیت المقدس کے قبلہ پر تحویل قبلہ سے قبل ، ہم نہیں جانتے تھے کہ ان کے بارے میں کیا کہیں ، یہود، کفار و مشرکین  طعنہ دیتے تھے   خاص طور پر یہود اہل کتاب طعنہ دیتے تھے اور ہم سے پوچھتے تھے کہ بتاؤ کہ جب تم بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے تھے تو وہ قبلہ ہدایت پر تھا یا ضلاضت گمراہی پر تھا ،تم ضلاضت پر تھے یا گمراہی پر تھے ۔
اگر تم اس وقت ہدایت  پر  تھے تو تم نے ہدایت چھوڑ دی ہے اور اگر تم اس وقت معاذاللہ گمراہی پر تھے تو اب ہدایت پر آئے ہو ،اس طرح وہ متعین کر کے  leading question کرتے تھے ، اگر اب ہدایت پر آئے ہو تو تمہارے ساتھی صحابہ ادھر منہ کرکے نماز پڑھتے فوت ہو گئے تو  کیا بنے گا ان کی نمازوں کا  ۔اس طرح وہ سوالات کرتے تھے ، صحابہ کرام کہتے ہمیں معلوم نہیں تھا کہ ہم کیا جواب دیں ،آقا علیہ السلام کی بارگاہ میں عرض کیا تو اس کے جواب میں آیت آ گئی کہ اللہ تعالیٰ کسی کا ایمان ضائع کرنے والا نہیں ہے یہ تو اس حدیث کا مضمون ہے۔
اب امام بخاری نے یہ حدیث صحیح بخاری میں کئی مقامات پر بیان کی ہے یہ تو کتاب الایمان میں تھی حدیث نمبر 40 جس کو ابھی ہم نے پڑھا ہے ۔
اس کے بعد امام بخاری کتاب الصلاۃ من بھی حدیث لائے ہیں ،باب التوجہ نحول القبلہ ،
پھر تیسری بار یہ حدیث تفسیر میں لائے ہیں سورہ بقرہ کے تحت اس آیت کی تفسیر میں لائے ہیں اور کئی جگہوں پر امام بخاری یہ حدیث لائے ہیں اسی طرح امام مسلم بھی اس حدیث کو لاتے ہیں ،اب میں صحیح بخاری کا  صرف ایک  اور مقام پڑھوں گا جو کتاب الصلاۃ میں ہے ،باب التوجہ نحول القبلہ یعنی قبلہ کی طرف متوجہ ہو جانا جہاں بھی تھے ۔قبلہ کی طرف منہ کر لو اور یہ ترجمۃ الباب میں حضرت براء بن عازب رض سے ہی روایت لائے ہیں 
پہلا حصہ وہی ہے کہ 16 ماہ بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز ادا کی ۔اگلے جملے میں ایک لفظ کا فرق ہے کہ آپ کو محبت تھی اس آمر سے چاہتے تھے کہ آپ کو کعبہ کی طرف متوجہ کر دیا جائے ، آقا علیہ السلام کی طرف اس جملے میں کتنا ادب ہے ، یہ نہیں فرمایا کہ آپ اس بات کو پسند کرتے تھے کہ رخ ادھر ہو جائے یا میں کعبہ مکہ کی طرف متوجہ ہو جاؤں۔
صیغہ مجہول میں کہا کہ آپ کو اس امر سے محبت تھی کہ انہیں پھیر دیا جائے ، یہ ادب الہویت ہے کیونکہ کعبہ اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمایا ہے اور اللہ کی عبادت کی سمت ہے وہ مجھے اس طرف قبلہ تحویل کر دے وہ میرا رخ ادھر پھیر دے یعنی کعبہ کا زکر کیا ہے عبادت الہیہ کی اور اس کے بیان کے صیغے کا فعل اپنی جانب نہیں بلکہ صیغہ مجہول میں اللہ تعالیٰ کے ادب کو ملحوظ رکھتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ مجھے اس طرف پھیر دیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے آیت نازل کی ،یہ آیت کا ٹکڑا اس روایت میں موجود نہیں تھا ۔
اللہ تعالیٰ نے آیت نازل کی میرے حبیب ہم نے آپ کا چہرہ بار بار آسمان کی طرف پلٹنا دیکھ لیا ہے یعنی آپ کے دل کی خواہش ہم جانتے ہیں ،سو اس آیت کے اترنے سے آقا علیہ السلام نے اپنا چہرہ اقدس کعبہ کی طرف پھیر لیا۔
 لوگوں میں صفہاء تھے انہوں نے کہا کہ کس چیز نے تمہارا رخ پھیر دیا تو پھر آگے وہ پورا واقعہ ہے جو پچھلی حدیث میں بیان ہوا ہے عباد بن بشر کا نماز پڑھنے کے بعد نکلنا اور بنی حارثہ کے لوگوں کو جو حالت رکوع میں نماز پڑھ رہے تھے ان کو گواہی دے کر کہنا کہ میں نے آقا علیہ السلام کے ساتھ نماز پڑھی ہے اور آقا علیہ السلام نے سمت کعبہ چہرہ انور کر لیا ہے تو وہ لوگ بھی اسی سمت پھر گئے اور کعبہ کی طرف متوجہ ہو گئے ، پھر وہ حدیث لائے ہیں امام بخاری۔
یہی جو آیات کریمہ کا حوالہ دے رہے ہیں امام بخاری اور جس مضمون کو بیان فرما رہے ہیں اس مضمون کا زکر قرآن مجید کی سورۃ بقرہ کی آیت نمبر 143 اور 144 میں بھی ہے بلکہ اس سے آگے پورے رکوع میں چلتا ہے ،ان آیتوں کا زکر انہوں نے اس حدیث میں کیا ہے لیکن پورا رکوع اللہ ربّ العزت نے بیان فرمایا ہے۔اس میں اللہ ربّ العزت ارشاد فرماتے ہیں اس حدیث میں اب توضیح کر رہا ہوں قرآن مجید اور حدیث کے مضمون کو جوڑ کر ۔ تھوڑا سا میں حدیث کی روشنی میں بیان کر دوں  کہ تحویل قبلہ کا پس منظر بیان کر دوں ، صحیح مسلم میں بھی احادیث ہیں اس میں 525 اور onward یہ پورا باب ہے باب تحویل من القدس الی الکعبہ ، القدس سے کعبہ کی طرف قبلہ کا پھر جانا تو وہ پھر پوری احادیث آگے لائے ہیں ،دیگر احادیث کا جب ہم مطالعہ کرتے ہیں جس میں مسند احمد بن حنبل، امام طبرانی کی معجم الکبیر ، مسند بزار ، مصنف ابن ابی شیبہ، سنن ابی داؤد، بہقہی بھی ہے ، میری ایک پوری کتاب ہے السنت نبویہ کی حجیت پر یہ عربی میں کوئی بارہ سو یا چودہ سو صفحات کی ہے ۔ابھی چھپی نہیں ہے ترجمے کے ساتھ چار جلدیں بن جائیں گیں۔اس کے اندر ایک تفصیلی باب اس پر قائم ہے ۔ان تمام کتب میں یہ بات تفصیل سے آتی ہے کہ تین اقوال ہیں کہ قبلہ تبدیل کیسے ہوا 
اس کی پہلے تعین کیسے ہوئی تھی۔یہ بات زہن نشین کرنے کے قابل ہے کہ یہ قرآن مجید میں پہلا نسخ ہے جو آیات منسوخ ہونا یا آیات کے احکام کا منسوخ ہونا ،پہلا حک جو منسوخ ہوا وہ تحویل قبلہ کے زریعے قبلہ بیت المقدس کی تبدیلی تھی ،تو نسخ کا پہلا حکم جو آقا علیہ السلام پر نازل ہوا وہ تحویل قبلہ تھا ،یہ کس طرح نسخ ہوا ،
اس پر اقوال ہیں ،اگر جمع کریں اقوال کو تو حضرت عبداللہ ابن عباس رض سے مروی ہے جب مکہ میں تھے تو آپ نماز کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز ادا فرماتے تھے ۔جب ہجرت مدینہ ہوئی تو آقا علیہ السلام نے اللہ کے امر سے بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز ادا کرنا شروع کی ،اس سے یہ بات اخذ ہوتی ہے کہ شاید اس سے قبل جب آقا علیہ السلام مکہ مکرمہ میں تھے تو آپ کعبۃ اللہ ہی کی طرف منہ کرکے نماز ادا فرماتے تھے یہ ایک روایت ہے لیکن امام احمد بن حنبل نے انہوں نے ایک اور طریق سے حضرت عبداللہ ابن عباس رض سے ہی روایت کیا ہے تو اس سے یہ شبہ دور ہو جاتا ہے جو میں نے پہلے عرض کیا کہ اس سے یہ بات اخذ ہوتی ہے اس سے شبہ دور ہو جاتا ہے ۔
دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عبداللہ ابن عباس رض فرماتے ہیں کہ جب مکہ میں تھے تب بھی آپ بیت المقدس کی طرف ہی چہرہ اقدس کر کے نماز ادا کرتے تھے ۔تو قبلہ اس وقت بھی القدس تھا لیکن اس طرح کھڑے ہوتے کہ کعبہ سامنے آ جاتا ،رخ نماز میں بیت المقدس کی طرف کرتے مگر آپ نے ایک سمت نماز کے لیے کھڑے ہونے کی مقرر کر رکھی تھی اور اس سمت ہی کھڑے ہوتے کہ نماز پڑھتے وقت کعبہ آپ کے سامنے ہو یعنی کعبۃ اللہ کی طرف پشت نہیں کرتے تھے تو بیت المقدس کی طرف توجہ ہوتی اور کعبۃ اللہ کی طرف چہرہ اقدس رہتا ۔اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے۔
بعض روایات میں ابن جرید کے طریق سے وہ فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے آقا علیہ السلام مکہ مکرمہ کے زمانہ میں کعبۃ اللہ ہی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے تھے یہ تیسرا قول ہے ۔پھر اللہ ربّ العزت نے اپنے امر سے آپ کا رخ بیت المقدس کی طرف پھیر دیا اور جب امر الٰہی سے بیت المقدس کی طرف نماز پڑھنے لگے تو 3 سال تک ہجرت سے پہلے چہرہ انور ادھر کر کے نماز پڑھتے رہے ۔اوراس سے پہلے کعبہ ہی ہوتا تھا ۔
اب اقوال کی تطبیق یوں ہوتی ہے کہ جب بیت المقدس مقرر ہو گیا تو آپ نے اس طرف چہرہ اقدس کرنا شروع کر دیا مگر کعبۃ اللہ کی طرف پشت نہیں فرمائی سو دوسرے قول کے مطابق وہ صورت اختیار کر لی کہ ایک direction متعین فرما لی اسی جگہ ہی کھڑے ہوتے کہ اس طرح کہ کعبہ سامنے رہتا اور سمت قبلہ بیت المقدس ہی ہوتی۔پھر 3 سال یہ معمول رکھنے کے بعد آپ نے ہجرت فرمائی کیونکہ بیت المقدس قبلہ مقرر ہو چکا تھا لہذا ہجرت مدینہ کے بعد وہی جاری رہا یعنی ہجرت مدینہ کے بعد نیا امر نہیں آیا یہ امر مکہّ میں تین سال قبل جاری ہو چکا تھا اور سولہ یا سترہ ماہ مدینہ منورہ میں بھی اسی معمول میں گزرے پھر تحویل قبلہ ہوئی ۔
یہ تینوں اقوال اس لئے بیان کر دئے تاکہ آپ کو پس منظر معلوم ہو جائے مگر ان میں کوئی تضاد نہیں ہے ،آقا علیہ السلام نے خود اپنے عمل مبارک سے اس کی تطبیق فرما دی تھی ۔اب اس میں ایک اور چیز بڑی توجہ طلب ہے اور وہ یہ میں نے عرض کیا کہ یہ نسخ کا پہلا حکم ہے جو قرآن مجید میں آیا ۔
اب دلچسپ بات بڑی توجہ طلب ہے اہل علم ، طلباء، اساتذہ، محقیقین اور علماء اس کو غور سے سنیں کہ یہ جو نسخ ہے اس کا یہ ہے قرآن مجید میں صراحتاً تحویل قبلہ کا زکر آیا ہے مگر تعجیل قبلہ کا نہیں آیا یعنی یہ پہلی آیت سورہ بقرہ کی جو اتری ہے وہ قبلہ جس پر آپ پہلے تھے اس لئے آپ پر مقرر کیا تھا یعنی وہ بیت المقدس وہ قبلہ ہم نے مقرر کیا تھا جس پر آپ پہلے تھے صرف اس وجہ سے آگے سبب بیان فرماتے ہیں لیکن وہ اللہ نے مقرر کیا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی کسی وحی میں نازل نہیں فرمایا۔
 یہ آیت مبارکہ تصریح فرماتی ہے کہ آقا علیہ السلام نے ازخود اجتہادآ بیت المقدس کو اپنا قبلہ مقرر نہیں فرمایا تھا بلکہ امر الٰہی سے مقرر ہوا تھا۔بیت المقدس کا قبلہ مقرر ہونا بھی اللہ تعالیٰ کے حکم سے تھا مگر وہ حکم قرآن مجید میں کہیں نہیں یہ بات توجہ طلب ہے ۔
اگلا نکتہ کہ پورے قرآن مجید میں تحویل قبلہ کی آیت آئی ہے مگر پہلے قبلہ کا مقرر ہونا خواہ کعبہ مکہ تھا یا بیت المقدس تھا تو تعین کی کوئی آیت قرآن مجید میں نہیں آئی ۔جبکہ قرآن کہتا ہے کہ جس قبلہ پر آپ پہلے تھے کعبہ کی طرف متوجہ ہونے سے قبل وہ بھی ہم نے مقرر کیا تھا اور اس کی حمت یہ تھی تو یہ تصریحآ یہ ثابت ہو گیا کہ وہ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنا اجتہاد یا زاتی پسند نہیں تھی بلکہ وہ بھی حکم الٰہی تھا جس کی وجہ سے آپ بیت المقدس کی طرف چہرہ اقدس کر کے نماز پڑھتے تھے خواہ وہ مکہ مکرمہ میں تین سال پڑھتے تھے یا مدینہ منورہ میں سولہ سترہ مہینے پڑھتے رہے مگر قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے ڈیکلیئر کر دیا کہ وہ ہم نے مقرر کیا تھا مگر وہ اللہ کا مقرر کرنا قرآن مجید کی کسی آیت کریمہ میں نہ اشارہتآ ہے اور نہ صراحتاً ہے ۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر اللہ نے کیسے مقرر کیا تھا یہاں یہ چیز سمجھنے والی ہے اور یہ عقیدہ آقا علیہ السلام کی حدیث اور آقا علیہ السلام کی سنت other than قرآن اس کے حجت مطلقہ حجت واجبہ ہونے پر دلالت کرتی ہے کہ یہ جو قبلہ مقرر کیا تھا تو قبلہ کا مقرر کرنا حدیث کی رو سے ہوا اور قبلہ کا بدلنا قرآن کی رو سے ہوا ۔
اللہ تعالیٰ نے آقا علیہ السلام کے قلب اطہر پر القاء فرمایا ، آپ کو الہام کیا ہو گا وہ جو جبرائیل امین کے زریعے قرآن مجید کی وحی کی صورت میں اترا کرتی تھی وہ وحی کے علاؤہ بھی حضور علیہ السلام کو علم عطا کرتے خبر دیتے ،ہدایت فرماتے ،رہنمائی فرماتے ،اشارات کرتے اور وہ سارا کچھ حق اور صادق ہوتے ، وہ جو آقا علیہ السلام فرماتے جو قرآن میں نہیں ہے وہ حدیث میں ہے یا جو قرآن میں نہیں آیا وہ آقا علیہ السلام کی سیرتِ طیبہ کی صورت میں سامنے آیا اس کو حدیث نبوی، سنت نبوی  کہتے ہیں ، تو گویا حدیث اور سنت نبوی کا درجہ بھی شرعی احکام کے حجت ہونے میں اتھارٹی ہونے میں اسی طرح برابر ہیں جس طرح قرآن مجید کے احکام یعنی اصل حجیت میں  authoritativeness  میں     authenticity  میں واجب ہونے میں ،حدیث سے ثابت ہونے والا حکم اسی طرح معتمد اور معتبر ہے جس طرح قرآن سے ثابت ہونے والا حکم ،تو اصل وجوب میں حجیت میں حدیث اور قرآن میں کوئی فرق نہیں مرتبے کا فرق ہے ۔
قرآن مجید کا مرتبہ پہلے اور حدیث و سنت کا مرتبہ اس کے بعد دوسرا ہے ، مگر قرآن بھی چونکہ اللہ کی وحی ہے وہ وحی ہے جلی جو جبرائیل امین لے کر آتے ہیں اس میں معنی بھی وحی ہے لفظ بھی وحی ہے اور حدیث کا ہر لفظ وہ بھی وحی ہے مگر اس میں لفظ آقا علیہ السلام کے اپنے ہیں اور معنی اللہ کی طرف سے اترا ہوا ہے۔ یہ مفہوم ہے کہ کوئی لفظ بھی یہ رسول اپنی زبان سے اپنی مرضی سے ادا نہیں کرتے جو ایک ایک لفظ بھی ان کے منہ سے نکلتا ہے وہ اللہ کی وحی ہوتی ہے ، لہزا سمجھ لیں قبلے کا بدلنا قرآن سے ثابت ہے اور سب سے پہلے قبلے کا مقرر ہونا حدیث اور سنت سے ثابت ہے وہ قرآن مجید کی آیت میں نہیں ہے اور اس کی حجیت کیسے ہوئی اس کو اللہ رب العزت own فرما رہے ہیں، کہہ رہے ہیں وہ کعبہ جب مقرر ہوا بیت المقدس جس کا زکر قرآن کی کسی آیت میں نہیں ہے جس کا زکر وحی جلی کی شکل میں موجود نہیں ہے کہ تم تلاوت کرو اور قرآن میں کہیں بھی اشارہ ملے وہ حکم بھی ہم نے دیا تھا جس کا مطلب ہے کہ آقا علیہ السلام کی حدیث کی صورت میں ثابت ہونے والے شرعی احکام وہ بھی سارے اللہ کے احکام ہیں وحی ہیں اور حجت ہیں ۔ یہ لفظ جس قبلہ پر آپ پہلے تھے وہ بھی ہم نے مقرر کیا تھا جیسے اب ہم اس کو اب بدل رہے ہیں تو گویا وہ مقرر کرنا حدیث سے ہوا وہ بھی اتنا ہی واجب اور ثابت ہے جتنا قرآن کی رو سے اب قبلے کو بدلنے کا حکم ہے ۔عبداللہ ابنِ عباس رض سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبرائیل امین سے کہا کیونکہ وہ اب طعنہ دینے لگ گئے تھے اب ،جن کو جوڑنا تھا وہ اب جڑ گئے اب situation چینج ہو گئی کہ اب یہود ان کو طعنہ دینے لگ گئے کہ تمہارا پیغمبر دین تو نیا لایا ہے کتاب بھی نئی لے آیا ہے تعلیمات بھی نئی ہیں اور نہ ہمارے مذہب کو مانتے ہیں اور نہ ہمارے طریق کو مانتے ہیں ، ہر چیز پہ اختلاف ہے لیکن قبلہ ہمارا ہے اپنا قبلہ کیوں نہیں بنا سکتے ہمارے قبلے کی پیروی کرتے ہو۔یہ باتیں آقا علیہ السلام سنتے ،وہ جو اصل حکمت تھی وہ بھی پوری ہو چکی تھی کہ لوگ جڑ گئے تھے ، مستحکم ہو گئے تھے ،صاحبان استقامت بن گئے تھے ،اب situation چینج ہو گئی وہ طعنہ زنی ہونے لگی اور آقا علیہ السلام کی طبعی رغبت بھی تھی کہ کعبہ ابراہیم کو اپنایا جائے تو جبرائیل امین سے ایک روز فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ میرا کعبہ بیت المقدس کی بجائے کعبۃ اللہ مقرر ہو جائے تو جبرائیل امین نے ایک بڑا دلچسپ جملہ بولا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں تو خود غلام ہوں جو ملتا ہے آپ کو پہنچا جاتا ہوں ،اشارہ اس امر کی طرف تھا کہ آپ محبوب ہیں
خود اللہ کی بارگاہ میں عرض کریں آپ مانگیں وہ آپ کی بات نہیں موڑے گا تو خود تبدیل کروا لیں ،جبرائیل آمین یہ کہہ کر چلے گئے ، پھر جب نماز کا وقت ہوتا تو آقا علیہ السلام چہرہ انور اوپر اٹھاتے تھے اور ادب الہویت کا عالم دیکھیں کہ زبان پہ نہیں لائے ایک دن بھی نہیں لائے ،جبرائیل آمین سے  رازدارانہ بات کی۔میرا دل یہ چاہتا ہے اور ان کا  جواب  کہ حضور میں غلام  ہوں ،اللہ سے عرض کر لیں ،اللہ سے عرض نہیں کہ کہ باری تعالیٰ قبلہ بدل دے کیونکہ اس نے امر دیا تھا کہ میرے حبیب چہرہ بیت المقدس کی طرف کر لیں امر دیا تھا اب اس کا امر ہے سو اس سے ہٹتے ہوئے التجا بھی نہیں فرمانا چاہتے لیکن دل میں خواہش تھی جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو چہرہ بیت المقدس کی طرف ہوتا اور بار بار چہرہ انور اوپر اٹھاتے ،اس پر قرآن مجید کی یہ آیت آئی ہے کہ میرے حبیب مکرم ہم نے آپ کا چہرہ بار بار آسمان کی طرف پلٹنا دیکھ لیا ہے یہ احادیث میں آتا ہے۔
بنی سلمہ کا واقعہ تھا کہ مسجد بنی سلمہ میں نماز ظہر ادا فرما رہے تھے کہ پھر حسب معمول چہرہ اٹھاتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا جبرائیل یہ آیت لیکر چلا جا ،وہ آیت لے کے اترے اور جس میں یہ حکم آ گیا کہ آپ کا چہرہ ہم نے بار بار  پلٹنا دیکھ لیا ہے ہم آپ کی خواہش سے آگاہ ہیں لہزا اپنا چہرہ بیت المقدس کی بجائے کعبۃ اللہ کی طرف پھیر لیجیے ، تین جملے آئے ہیں ، پہلے فرمایا ہم نے آپ کا چہرہ بار بار آسمان کی طرف پلٹنا دیکھ لیا ہے
دوسرا فرمایا جس قبلہ پر آپ راضی ہیں میرے محبوب ہم اسی کو قبلہ بنا دیں گے ، جس قبلہ پر آپ راضی ہیں۔
 یہ دو باتیں کہہ کر تیسرا جملہ بولا کہ اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیجیے۔ تین جملے آقا علیہ السلام سے مخاطب ہیں خالصیتآ اپنے حبیب سے اور چوتھا جملہ امت کے لئے تھا کہ اے تمام امت مسلمہ کے لوگوں تم بھی جہاں جہاں بھی کہیں ہو اپنے چہرے مسجد حرام کی طرف کر لو ۔
چار segments  میں اللہ ربّ العزت نے بات مکمل کی تو یہ دن جس دن تحویل قبلہ ہوئی 16 یا 17 ماہ ہو چکے تھے اور دو قول آتے جس دن تحویل قبلہ ہوئی وہ تاریخ 15 شعبان تھی اور منگل کا دن تھا یہ ایک قول ہے ۔
دوسرا قول یہ کہ وہ 15 رجب تھی نصف رجب ہے سن دو ہجری مگر وہ پیر کا دن تھا ، صحیح ابن حبان کی روایت کے مطابق 17 ماہ اور 4 دن probably  اتنا عرصہ ہو گیا تھا پورا ، اور یہ count کرتے ہیں ہجرت مدینہ کے دن سے  ، مدینہ منورہ میں آپ کی آمد 12 ربیع الاول کو ہوئی ہے اور وہ پیر کا دن تھا ۔
حافظ ابن حجر عسقلانی کے ہاں وہ کہتے ہیں کہ صحیح قول رجب کا ہے ، کئی آئمہ نے شعبان کے قول کو ترجیح دی ہے مگر مسجد بنی سلمہ میں نماز ادا ہو رہی تھی تو اس نماز میں آقا علیہ السلام کو اللہ رب العزت کی طرف سے چہرہ اقدس سوئے کعبہ پھیرنے کا  امر آ گیا ۔تو نماز ظہر آپ نے مسجد بنی سلمہ میں پڑھی جس میں تحویل قبلہ ہوئی اور اس کے بعد نماز عصر کاملآ کعبۃ اللہ کی طرف آپ نے مسجد نبوی میں ادا کی اور اس کے بعد رہ گئی صحابہ کرام کو خبر ملنا ، پہلی خبر اسی عصر کی نماز میں جس میں عباد بن بشر ایک صحابی آقا علیہ السلام کے پیچھے نماز عصر پڑھ کر گئے انہوں نے مسجد بنی حارثہ والوں کو اطلاع دی وہ حالت نماز میں پھر گئے کہ آقا علیہ السلام نے قبلہ بدل دیا ہے اور پھر اہل قباء وہ عصر، مغرب اور عشاء بیت المقدس کی طرف منہ کرکے پڑھتے رہے وہاں ایک صحابی نماز فجر کے وقت پہنچے ، یہ سب تفصیلات مختلف کتب حدیث میں ہیں ۔وہاں فجر کی نماز پڑھ رہے تھے اسی طرح رکوع کی حالت میں تھے وہاں اس نے کہا کہ آقا علیہ السلام نے قبلہ تبدیل کر دیا ہے اور بیت المقدس کی بجائے آقا علیہ السلام نے کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی ہے ،اگلے دن صبح فجر کی نماز میں بدل گئے یعنی جوں جوں خبر پہنچی تو وہاں توں توں اسی حالت میں نماز کے اندر ہی قبلہ کا رخ بدلتے رہے ،ایک صحابیہ بیان کرتی ہیں ،حضرت نویلہ بنت  اسلم کے الفاظ بھی کتب حدیث میں آتے ہیں اور بعض نسخوں میں فویلہ بنت اسلم کے الفاظ لکھے ہیں ۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ ہم بنی حارثہ میں اپنی جگہ پر تھے نماز پڑھ رہے تھے کہ جب عباد بن بشر قیضی آئے اور انہوں نے آ کر بتایا کہ آقا علیہ السلام نے چہرہ اقدس بیت المقدس سے کعبے کی طرف پھیر لیا ہے تو مرد اس طرح گھومے کہ وہ پیچھے ہٹ کر عورتوں کی صفوں کی طرف چلے گئے اور عورتیں مردوں کی صفوں کی طرف چلی گئیں ، دو رکعتیں پڑھ چکے تھے اور آخری دو رکعتیں کعبہ کی طرف منہ کرکے پڑھیں ، یہی آقا علیہ السلام نے کیا ۔
امام ابنِ حجر عسقلانی نے فتح الباری شرح صحیح بخاری میں پوری تصویر بیان کی ہے ۔کہ بیت المقدس اس طرف تھا اور کعبہ شریف دوسری طرف تھا بلکل opposite سائڈ تھیں ۔ وہ اگر وہی سے چہرہ بیت المقدس سے ہٹا کر کعبہ کی طرف کر لیں تو مقتدی بھی وہیں کھڑے کھڑے اپنے چہرے موڑ لیں تو امام سب کے پیچھے ہو جاتا ہے اور امام کی طرف پشت کر کے مرد حضرات کھڑے ہو جاتے ہیں اور مردوں سے آگے سب سے پہلی صف میں خواتین کھڑی ہو جاتی ہیں تو نماز ہی نہیں ہو سکتی تو یہ اس طرح نہیں کہ انہوں نے circulate کر لیا ہو ، یہ جو امام جو ادھر ہیں وہ اپنا مصلہ چھوڑ کر دوسری سمت مسجد کی ساری صفیں کراس کر کے ادھر چلے گئے تو سب صفوں کے آگے جا کر کھڑے ہوئے دو رکعتیں ہو چکی ہیں نماز توڑی نہیں ہے حالت نماز میں ہٹ کر ادھر جا رہے ہیں آقا علیہ السلام اور جو لوگ ہیں وہ اپنی جگہ پر کھڑے ہو کر رخ نہیں بدل رہے ۔جب آقا علیہ السلام ادھر چلے گئے تو پھر ادھر عورتیں آ گئیں کیونکہ ادھر آخر میں تھیں تو عورتیں ساری move کر کے پیچھے آئیں ہیں ، مرد اپنی صفوں سے ہٹکر آگے گئے ہیں ، نئی صف بندی ہوئی ہے عورتیں پیچھے صف میں آئیں ہیں ،امام نے صف بندی کی اور نماز جاری رہی  کیوں کہ آقا علیہ السلام کروا رہے ہیں ۔
ہم امتحان لینا چاہتے تھے پہلا کعبہ اس لیے مقرر کیا تھا کہ جب تحویل قبلہ ہو اس پر گفتگو اگلی نشست میں کروں گا اشارہ دے رہا ہوں۔
 جب تحویل قبلہ ہو تو لوگوں کے ایمان کا امتحان لیں کہ کس طرح آپ کی اتباع کرتے ہیں یا کس طرح اپنے قبلے کی طرف پلٹ جاتے ہیں یہ سارے عمل ہوتے رہے اور نماز آقا علیہ السلام کے پیچھے پڑھنے والوں کی بھی قائم رہی یہ تو آقا علیہ السلام کی زات گرامی تھی کہ جس آپ گھوم رہے ہیں تو لوگ بھی اسی طرح گھوم رہے ہیں نہ سجدہ سہو ہوا نہ نماز ٹوٹی ۔
مگر جہاں آقا علیہ السلام کا پیغام پہنچا ہے صحابہ کرام کی محبتوں اور عشق ، ان کی متابعات کا عالم  دیکھیں
جہاں خبر پہنچی ہے تو یہی ردعمل وہاں ہؤا ہے ، مسجد بنی حارثہ، مسجد بنی سلمہ ، مسجد قباء میں بھی کہ وہاں امام ہیں آقا علیہ السلام خود نہیں ہیں تو امام بھی ہٹ کے ادھر گیا اور عورتیں ہٹ کے پیچھے آئیں ، مرد ہٹ کر ادھر گئے اور دو رکعتیں ادھر پڑھیں تھیں اور دو اس رخ پہ پڑھیں ۔
نہ کسی کی نماز ٹوٹی اور نہ اعادے کی ضرورت پڑی کیونکہ ان کے کانوں نے سن لیا کہ آقا علیہ السلام نے اپنا چہرہ انور بدل لیا ہے ، بس حضور علیہ السلام کے چہرہ انور کی سمت بدلنا وہ ساری نماز میں گھومتے رہے کسی کی نماز نہیں ٹوٹی ۔
یہ مقام تھا ان کے فہم دین ، معرفت دین حقیقت اور متابعت کو سمجھنے کا اور عمل کرنے کا ،آقا علیہ السلام کے ساتھ عشق محبت ،وارفتگی متابعت اور متابقت کی کیفیت کا ۔ یہاں پر آج کا مضمون ختم 
محمد پرویز رضا فیضانی حشمتی 

جمعہ، 22 مئی، 2020

عیدین کی نماز کا وقت‘ سورج کے مکمل طلوع ہونے پر شروع ہو جاتا ہے

🌹بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عیدین کی نماز کا وقت‘ سورج کے مکمل طلوع ہونے پر شروع ہو جاتا ہے لیکن عید الفطر کی نماز میں تاخیر کرنا بہتر جبکہ عید الاضحی کی نماز جلدی ادا کرنے کا حکم ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو نجران میں حکم دیا:
عَجِّلِ الأَضْحَى وَأَخِّرِ الْفِطْرَ وَذَكِّرِ النَّاسَ.
عید الاضحی کی نماز جلدی ادا کرو اور عید الفطر کی نماز دیر سے ادا کرو اور لوگوں کو وعظ سناؤ۔
بيهقی، السنن الکبری، 3 : 282، رقم : 5944، مكة المكرمة: مكتبة دار الباز
اس لیے نماز فجر کا وقت ختم ہونے کے بعد طلوعِ آفتاب کا انتظار کیا جائے گا اور آفتاب کے مکمل طلوع ہو جانے پر نمازِ عید ادا کر سکتے ہیں۔
2۔ عید کے روز اشراق کے نوافل یا دیگر نفل نماز عیدگاہ کی بجائے گھر آکر ادا کرسکتے ہیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ:
أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم خَرَجَ يَوْمَ الفِطْرِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلاَ بَعْدَهَا وَمَعَهُ بِلاَلٌ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید الفطر کے لیے تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں اور اُن سے پہلے یا بعد میں کوئی نماز نہ پڑھی اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے۔
بخاري، الصحيح، كتاب العيدين، باب الصلاة قبل العيد وبعدها، 1: 335، رقم: 945، بيروت، لبنان: دار ابن كثير اليمامة
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
كَانَ رَسُولُ صلی الله علیه وآله وسلم لَا يُصَلِّي قَبْلَ الْعِيدِ شَيْئًا، فَإِذَا رَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ.
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید سے پہلے کوئی نماز نہ پڑھتے پھر گھر لوٹ کر دو رکعت پڑھتے۔
ابن ماجه، السنن، كتاب إقامة الصلاة والسنة فيها، باب ما جاء في الصلاة قبل صلاة العيد وبعدها، 1: 410، رقم: 1293، بيروت: دار الفكر
علامہ علی بن سلطان محمد القاری رحمہ اللہ، مذکورہ بالا احادیث کی شرح میں نفل کرتے ہیں:
قَالَ ابْنُ الْهُمَامِ: هَذَا النَّفْيُ مَحْمُولٌ عَلَى الْمُصَلَّى لِخَبَرِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلی الله علیه وآله وسلم لَا يُصَلِّي قَبْلَ الْعِيدِ شَيْئًا، فَإِذَا رَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ. قَالَ ابْنُ حَجَرٍ: وَلَا يُكَرَهُ لِلْقَوْمِ التَّنَفُّلُ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا فِي غَيْرِ الْوَقْتِ الْمَنْهِيِّ عَنْهُ لِفِعْلِ أَنَسٍ وَغَيْرِهِ ذَلِكَ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ. وَيُكْرَهُ ذَلِكَ تَنْزِيهًا لِمَنْ يَسْمَعُ الْخُطْبَةَ لِإِعْرَاضِهِ بِهِ عَنِ الْخَطِيبِ بِالْكُلِّيَّةِ، وَعَنْ مَالِكٍ وَأَحْمَدَ: أَنَّهُ لَا يُصَلِّي قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا، وَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ أَنَّهُ يُصَلِّي بَعْدَهَا لَا قَبْلَهَا.
ابن ہمام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت کی بنا پر نفی عید گاہ کے ساتھ خاص ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید سے پہلے کوئی نماز نہیں پڑھتے تھے جب گھر لوٹ آتے تو دو رکعات پڑھا کرتے تھے۔ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگوں کے لیے عید کی نماز سے پہلے یا اس کے بعد نفل پڑھنا مکروہ نہیں ہے کیونکہ بیہقی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کا یہی فعل نقل کیا ہے۔ البتہ ممنوع وقت سے اجتناب کیا جائے۔ اور امام کے خطبہ کے دوران نفل پڑھنا مکروہ تنزیہی ہے کہ اس کی وجہ سے امام سے اعراض ہو جاتا ہے۔ امام مالک اور امام احمد کا مسلک یہ ہے عید کی نماز سے پہلے اور بعد میں نوافل نہیں پڑھ سکتا، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بعد میں پڑھ سکتا ہے پہلے نہیں پڑھ سکتا۔
ملا علي قاري، مرقاة المفاتيح، 3: 482، بيروت، لبنان: دار الكتب العلمية
علامہ مرغینانی فرماتے ہیں:
وَلَا يَتَنَفَّلُ فِي الْمُصَلَّى قَبْلَ الْعِيدِ لِأَنَّ النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مَعَ حِرْصِهِ عَلَى الصَّلَاةِ، ثُمَّ قِيلَ الْكَرَاهَةُ فِي الْمُصَلَّى خَاصَّةً، وَقِيلَ فِيهِ وَفِي غَيْرِهِ عَامَّةً؛ لِأَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ لَمْ يَفْعَلْهُ.
اور کوئی شخص نماز عید سے پہلے عید گاہ میں نفل نہ پڑھے، اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی ایسا نہیں کیا جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے بے حد شوقین تھے، پھر کہا گیا کہ یہ کراہت خاص کر عید گاہ میں ہے، اور دوسرا قول یہ ہے کہ عید گاہ اور اس کے علاوہ میں عام ہے، اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا نہیں کیا ہے۔
مرغيناني، الهداية شرح البداية، 1: 85، المكتبة الاسلامية
درج بالا تصریحات سے معلوم ہوا کہ نمازِ عید کی ادائیگی کے بعد گھر لوٹ کر نفلی عبادات کر سکتے ہیں۔
ضرورت کے وقت۔ سورج کے مکمل طلوع ہونے کے بعد نمازِ عیدالفطر کی نماز ادا کرسکتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نیز عیدین کی نماز نہ پائے تو کیا کرے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس صورت میں گھر پر چار رکعت نماز نفل ادا کرے دو سلام کے ساتھ دو رکعت بھی پڑھ سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وللہ تعالیٰ اعلم ورسولہ اعلم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔احقر تنویررضاحشمتی مرکزی درگاہ مسجد حضرت سید لشکر شاہ ہنگنا روڈ ناگپور مہاراشٹرا بھارت 9161701952

رمضان کاآخری جمعہ اور جمعۃ الوداع کی حقیقت

رمضان کاآخری جمعہ اور جمعۃ الوداع کی حقیقت
از قلم: مولانا محمد پرویز رضا فیضانی حشمتی 
الحمد للّٰہ نحمدہٗ و نستعینہٗ و نستغفرہٗ و نؤمِنُ بہٖ و نتوکّل علیہ و نعوذ باللّٰہِ من شرورِ أنفسنا و من سیّئاتِ أعمالنا مَن یھدہِ اللّٰہ فلامُضِلَّ لہٗ وَ مَنْ یُضللہٗ فلا ھَادِیَ لہٗ وَ أشھد أن لاَّ اِلٰہ اِلاَّ اللّٰہ وحدہٗ لا شریک لہٗ و أشھد أنّ سیّدنا و سندنا و نَبِیّنَا و مولانَا محمّدًا عبدہٗ و رسولہٗ صلّی اللّٰہ تعالٰی علیہ و علٰی آلہٖ و اَصْحَابِہٖ و بارک و
سلَّمَ تسلیمًا کثیرًا
أمّا بعد!
بزرگانِ محترم اوربرادرانِ عزیز!
آج رمضان المبارک کا آخری جمعہ ہے اور اس کی بھی چند گنی چُنی ساعتیں ہی باقی رہ گئی ہیں ،آج کی مجلس میں اسی سے متعلق کچھ گزاشات کرنی ہیں۔
جمعۃ الوداع کے بارے میں ایک غلط فہمی کاازالہ
برصغیر میں عام طور سے رمضان کے آخری جمعہ کو جمعۃ الوداع کہا جاتا ہے،یعنی رمضان کی رخصتی والاجمعہ ہے،اس کے بارے میں لوگوں میں بہت سی باتیں بھی مشہور ہو گئی ہیں۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ اس جمعہ کو جمعۃ الوداع کہنا میں نے برصغیر پاک و ہند کے علاوہ کہیں اور نہیں سنا،اور لوگوں میں جو باتیں اس کے حوالے سے مشہور ہیں کہ اس دن کو عید کی طرح کا کوئی درجہ دیا جاتا ہے اور اس دن میں کوئی خاص عبادت کی جاتی ہے تو یہ باتیں بھی اس انداز میں درست نہیں ہیں،رسول اللہ ﷺ نے کبھی جمعۃ الوداع کا لفظ استعمال نہیں فرمایااور نہ ہی اس دن کے لئے کوئی خاص عبادت مقرر فرمائی اورحضراتِ صحابۂؓ کرام نے بھی اسی پر عمل فرمایا۔
البتہ اس دن کی اہمیت دوسرے دنوںکے مقابلے میں اس لحاظ سے یقیناً زیادہ ہے کہ یہ رمضان کے مہینہ میں آنے والا جمعہ ہے اور اس کے بعد اس سال رمضان میں کوئی اور جمعہ نہیں آئے گا،ویسے تو رمضان میں ہر جمعہ کا دن برکتوں والا ہوتا ہے لیکن اس دن کی یہ خصوصیت ہے کہ اس کے بعد آئندہ رمضان تک برکتوں والا جمعہ نصیب نہیں ہوگا، اس لحاظ سے اس کی اہمیت محسوس کرنی چاہئے اور جس قدر اس دن ہو سکے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنی چاہئے،اللہ جل جلالہ کی طرف رجوع کرنا چاہئے،لیکن اس عبادت میں بھی کسی خاص طریقہ کو متعین نہیں کرنا چاہئے۔
اب جب کہ رمضان رخصت ہورہا ہے تو دو کام ایسے ہیں جس کا ہر مسلمان کو اہتمام کرنا چاہئے۔
عبادت کی توفیق ملنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں
ایک کام تو یہ کہ اللہ تعالیٰ کا شکرادا کیا جائے کہ اس نے اپنے فضل و کرم سے رمضان کا مہینہ عطا فرمایا اور روزہ رکھنے اور تراویح کی توفیق بھی عطا فرمائی ،یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم ہے ورنہ بہت سے گھرانے ایسے بھی ہیں کہ جن میں پتہ ہی نہیں چلتا کہ کب رمضان آیا اور کب گزر گیا،غفلت کے ساتھ پورارمضان گزر جاتا ہے ،نہ ہی روزوں کی توفیق ہوتی ہے اور نہ ہی تراویح کی ،اورنہ ہی کسی خاص عبادت کی ،اس لئے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں میں شامل کرنے کی بجائے ایسے لوگوں میں شامل کیا کہ جن کے گھر میں رمضان آتا ہے،اور کچھ نہ کچھ عبادات کی توفیق بھی ہو جاتی ہے۔
عبادت کی ناقدری نہ کریں،اللہ کا شکر ا دا کریں
بعض لوگ انتہائی انکساری سے کام لیتے ہوئے رمضان میں کی ہوئی عبادات کے بارے میں حد سے گزر جاتے ہیں،اور اللہ کی طرف سے دی ہوئی توفیق کی ناقدری کرتے ہیں،کہتے ہیں کہ بھئی ہم نے کیا عبادات کیں،یہ تو فاقے ہو گئے ،یا ہم نے کیا نمازیں پڑھیں ،یہ نمازیں نہ ہوئیں بلکہ یہ تو ہم نے ٹکریں مار لیں،یہ ناقدری ہے۔
کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے عبادات کی توفیق عطا فرمادی تو اس پر شکر ادا کرنا چاہئے،اس لئے کہ خواہ عبادت کیسی ہی کیوں نہ کی ہو لیکن سجدے میں پیشانی تو اسی رب کی بارگاہ میںجا کر ٹکی ہے ،سجدہ تو اسی ایک اللہ کے لئے ہوا ہے:
وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات
اور:
قبول ہو کہ نہ ہو پھر بھی ایک نعمت ہے
وہ سجدہ جس کو تیرے آستاں سے نسبت ہے
لہٰذا اس مہینے اللہ جل جلالہ کی طرف سے عبادت کی توفیق مل جائے تو اس کو معمولی تصور نہیں کرنا چاہئے،بلکہ اس توفیق پر اللہ تعالیٰ کا شکر ا دا کرنا چاہئے کہ اس نے عبادات کی توفیق عطا فرمادی۔
اور یہ بات بھی اپنی جگہ ایک مسلّم حقیقت ہے کہ ان عبادات میں سے کوئی عبادت بھی ایسی نہیں ہے جس کو ہم نے پورے خشوع و خضوع اور آداب کے ساتھ اس انداز میں ادا کیا ہو جس طرح کہ اس کا حق تھا،اس لئے یہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے توفیق شاملِ حال تھی لیکن ہماری طرف سے کوتاہیاںاور غلطیاں بھی تھیں۔
عبادت میں کوتاہیوں پر اللہ سے استغفار کریں
اس لئے دوسرا کام یہ ہے کہ استغفار کریںکہ یااللہ! آپ نے اپنے فضل و کرم ہمیں عبادت کی توفیق عطا فرمادی تھی لیکن ہم سے اس میں کوتاہیاں ہوئیں اور ہم عبادات کو صحیح طریقہ سے ادا نہیں کر سکے اس لئے ہمیں معاف فرمادے ۔
اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ بندہ جب بھی کوئی عمل کر کے اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے استغفار کی بدولت اس کی غلطیوں کو معاف کر کے اس کو اپنی بارگاہ میں قبولیت کا مقام عطا فرما دیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے نیک مسلمانوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
{ کَانُوا قَلِیلًا مِنَ اللَّیْلِ مَا یَہْجَعُونَ وَبِالْأَسْحَارِ ہُمْ یَسْتَغْفِرُونَ } (الذاریات:۱۷)
یہ ایسے لوگ ہیں جو رات میں کم سوتے ہیں اور سحری کے وقت میں استغفار کرتے ہیں۔
رات کو کم سونے کا مطلب یہ ہے کہ رات کے اکثر حصہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں جس کی وجہ سے سونا کم ہوتا ہے،پھر صبح کو اُٹھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور استغفار کرتے ہیں۔
حضرت عائشہؓ نے دریافت کیا یارسول اللہ! یہ لوگ تو ساری رات عبادت میںگزارتے ہیںپھر صبح کے وقت استغفار کیوں کرتے ہیں؟آپﷺ نے جواب میں فرمایا کہ رات میںکی جانے والی عبادت میں ان سے جو کوتاہیاں ہوئی ہیں اس کی وجہ سے استغفار کرتے ہیں،کہ یا اللہ! ہم آپ کی توفیق سے آپ کی بارگاہ میں عبادت کے لئے کھڑے تو ہو گئے تھے ،لیکن جس طرح عبادت کرنی چاہئے تھے اس طرح ہم کر نہیں پائے ،اس لئے آپ کی بارگاہ میں استغفار کرتے ہیں۔
اسی طرح قرآن مجید میں نیک لوگوں کی صفات بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
{ وَالْمُسْتَغْفِرِینَ بِالْأَسْحَارِ } (آلِ عمران: ۱۷)
اور صبح کے وقت میں استغفار کرنے والے ہیں۔
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں عبادت کا ایک ادب سکھایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اگر عبادت کی توفیق مل جائے تو اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر اداکرو لیکن ساتھ ہی اس عبادت میں ہونے والی کوتاہی پر اس کی بارگاہ میںاستغفار بھی کرو،ان دو کاموں کے کرنے کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کی ذات سے قوی اُمید ہے کہ اپنے بارگاہ میں اس عبادت کوقبول فرمالیں گے۔
رمضان کی ساعتوں کی قدر کریں
دوسری بات یہ کہ رمضان کا آخری وقت چل رہا ہے،اس وقت کی قدر کرنی چاہئے،اس لئے جس کو اس مہینے میں عبادات اور دیگر طاعات میں لگنے کی توفیق نہیں ہوئی اس کے لئے ابھی بھی دورازہ کھلا ہوا ،رمضان ختم ہونے میں چند دن باقی ہیں ،اگر اللہ تعالیٰ چاہیں تو ایک لمحے میں بھی کسی کی کایا پلٹ سکتی ہے،اس لئے جس کو موقع نہیں ملا وہ اس وقت کو غنیمت جان کراس موقع سے فائدہ ا ٹھالے ،اب بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے دروازہ کھلا ہوا ہے ،جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا:
{ یَآأیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَی اللّٰہِ تَوْبَۃً نَصُوحًا } (التحریم: ۸)
اے ایمان والو! اللہ کے حضور خالص توبہ کرلو ۔
سو مرتبہ بھی گناہ کر لو توبہ سے دُھل جاتے ہیں
اللہ تعالیٰ بڑے پیار سے فرمارہے ہیں کہ توبہ کرلو ،اللہ تعالیٰ نے توبہ کا دروازہ اس وقت تک چوپٹ کھلا رکھا ہوا ہے جب تک نزع کی کیفیت طاری نہیں ہو جاتی،اس لئے جس وقت بھی کسی کو تنبہ ہو جائے تو اللہ کی طرف لوٹ کر ا س کے حضور توبہ کر لے،کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ پیغام ہے کہ:
بادا بادا ہر آنچہ ہستی بادا
گر کافر و گر بت پرستی بادا
این درگہِ ما درگہِ نومیدی نیست
صد بار اگر توبہ شکستی بادا
’’ واپس آجاؤ! واپس آجاؤ!جیسے بھی ہو میری طرف لوٹ آؤ،یہاں تک کہ اگر کافر وبت پرست بھی ہو پھر بھی میری طرف لوٹ آؤ،ہماری یہ درگاہ نااُمیدی والی درگاہ نہیں ہے،اگر سو مرتبہ بھی توبہ توڑ چکے ہو تو بھی
میرے پاس آجاؤ۔‘‘
یہ ایک حدیث کا مضمون ہے،رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
{ مَا أَصَرَّ مَنِ اسْتَغْفَرَ، وَإِنْ عَادَ مِائَۃَ مَرَّۃً}
جو شخص اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا رہتاہے ،اللہ تعالیٰ اس کو گناہوں پر اصرار کرنے والوں میں شمار نہیں فرماتے،اگر چہ اس نے ایک گناہ سو مرتبہ کیاہو۔
اس لئے جو شخص اللہ تعالیٰ سے رجوع کر کے اپنے گناہوں کی معافی مانگتا رہے، اس کو گناہوں پر اصرار کرنے والوں میں شمار نہیں کیا جاتا،اس سے جب بھی گناہ ہوتا ہے تو اللہ کے حضور توبہ کرتا ہے کہ یا اللہ! شیطان کے بہکاوے میں آکر مجھ سے گناہ ہو گیا ہے،میں اس گناہ سے توبہ کرتا ہوں ،مجھے معاف فرمادیجئے۔
گناہوں کی وجہ سے مایوس نہ ہوں
کیا اللہ تعالیٰ کی طرح کوئی کریم ایسا ہو گا کہ ایک شخص ایک جرم مسلسل کئے جارہا، لیکن اللہ تعالیٰ فرمارہے ہیں کہ سو مرتبہ بھی کر لو لیکن میری طرف توبہ کر کے آجاؤ تومعاف کردوں گا،اللہ تعالیٰ کی بارگاہ ایسی کریم بارگاہ ہے کہ اس میں مایوسی کا بھی گزر نہیں ہے،ارشاد فرماتے ہیں:
{یٰـعِبَادِیَ الَّذِینَ أَسْرَفُوْا عَلٰٓی أَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَحْمَۃِ اللّٰہِ إِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا } (الزمر: ۵۳)
اے میرے وہ بندوجنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے! تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا،بے شک اللہ تعالیٰ سارے گناہ معاف فرمادیتاہے۔
کیا کوئی ذات ایسی کریم ہے؟اسی طرح ارشاد فرمایا:
{مَا یَفْعَلُ اللّٰہُ بِعَذَابِکُمْ إِنْ شَکَرْتُمْ وَآمَنْتُمْ } (النسائ: ۱۴۷)
اللہ تعالیٰ تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا اگر تم شکر گزار بنو اور ایمان لاؤ۔

محمد پرویز رضا فیضانی حشمتی 
6307986692

اتوار، 17 مئی، 2020

رمضان کریم کی فضیلت از . قلم . مولانا محمد پرویز رضا فیضانی حشمتی مقام لولین ڈیھ پوسٹ بڑھنی چافہ ضلع سدھارتھ نگر یوپیرابطہ نمبر 6307986692

از . قلم . مولانا محمد پرویز رضا فیضانی حشمتی  مقام لولین ڈیھ پوسٹ بڑھنی چافہ ضلع سدھارتھ نگر یوپی
رابطہ نمبر 6307986692

رمضان کریم کی فضیلت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین اور سرکش جن قید کردیے جاتے ہیں، اور دوزخ کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں، پس اس کا کوئی دروازہ کھلانہیں رہتا، اور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، پس اس کاکوئی دروازہ بند نہیں رہتا، اور ایک منادی کرنے والا (فرشتہ) اعلان کرتا ہے کہ : اے خیر کے تلاش کرنے والے! آگے آ، اور اے شر کے تلاش کرنے والے! رُک جا۔ اور اللہ کی طرف سے بہت سے لوگوں کو دوزخ سے آزاد کردیاجاتا ہے، اور یہ رمضان کی ہر رات میں ہوتا ہے۔‘‘

(احمد، ترمذی، ابنِ ماجہ، مشکوٰۃ)

حدیث:۔۔۔۔ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبان کے آخری دن خطبہ میں فرمایا :’’ اے لوگو! تم پر ایک بڑی عظمت والا، بڑا بابرکت مہینہ آرہا ہے، اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینے سے بہتر ہے، اللہ تعالیٰ نے تم پر اس کاروزہ فرض کیا ہے، اور اس کے قیام (تراویح) کو نفل (یعنی سنتِ مؤکدہ) بنایا ہے، جو شخص اس  میں کسی بھلائی کے (نفلی ) کام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرے، وہ ایسا ہے کہ کسی نے غیر رمضان میں فرض ادا کیا، اور جس نے اس میں فرض اداکیا، وہ ایسا ہے کہ کسی نے غیر رمضان میں ستر فرض اداکیے۔ یہ صبر کا مہینہ ہے ،اور صبر کا ثواب جنت ہے، اور یہ ہمدردی و غم خواری کامہینہ ہے، اس میں مؤمن کا رزق بڑھادیا جاتا ہے۔ اور جس نے اس میں کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرایا تو وہ اس کے لیے اس کے گناہوں کی بخشش اور دوزخ سے اس کی گلوخلاصی کا ذریعہ ہے، اور اس کو بھی روزہ دار کے برابر ثواب ملےگا، مگر روزہ دار کے ثواب میں ذرا بھی کمی نہ ہوگی۔ ‘‘ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں سے ہر شخص کو تو وہ چیز میسر نہیں جس سے روزہ افطار کرائے؟ رسول  اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ یہ ثواب اس شخص کو بھی عطا فرمائیں گے جس نے پانی ملے دُودھ کے گھونٹ سے، یا ایک کھجور سے، یا پانی کے گھونٹ سے روزہ افطار کرادیا،اور جس نے روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھلایا پلایا اس کو اللہ تعالیٰ میرے حوض (کوثر) سے پلائیں گے جس کے بعد وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا،یہاں تک کہ جنت میں داخل ہوجائے(اور جنت میں بھوک پیاس کا سوال ہی نہیں) یہ ایسا مہینہ ہے کہ اس کا پہلا حصہ رحمت، درمیان حصہ بخشش اور آخری حصہ دوزخ سے آزادی (کا ) ہے۔ اور جس نے اس مہینے میں اپنے غلام (اور نوکر) کا کام ہلکا کیا ، اللہ تعالیٰ اس کی بخشش فرمائیں گے، اور اسے دوزخ سے آزاد کردیں گے۔‘‘

(بیہقی شعب الایمان، مشکوٰۃ)

حدیث: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’رمضان کی خاطر جنت کو آراستہ کیا جاتا ہے، سا ل کے سرے سے اگلے سال تک، پس جب رمضان کی پہلی تاریخ ہوتی ہے تو عرش کے نیچے سے ایک ہوا چلتی ہے(جو )جنت کے پتوں سے( نکل کر ) جنت کی حوروں پر ( سے  )گزرتی ہے تو وہ کہتی ہیں: اے ہمارے رب!اپنے بندوں میں سے ہمارے ایسے شوہر بنا جن سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور ہم سے ان کی آنکھیں۔

(رواہ البیہقی فی شعب الایمان، ورواہ الطبرانی فی الکبیر والاوسط کما فی المجمع ج:۳ ص :142)

حدیث:۔۔۔۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ  میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتےہوئے  خود سنا ہے کہ : ’’یہ رمضان آچکا ہے، اس میں جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں، دوزخ کے دروازے بند ہوجاتے ہیں، اور شیاطین کو طوق پہنادیے جاتے ہیں ، ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جو رمضان کا مہینہ پائے اور پھر اس کی بخشش نہ ہو۔‘‘جب اس مہینے میں بخشش نہ ہوئی تو  کب ہوگی؟

(رواہ الطبرانی فی الاوسط، وفیہ الفضل بن عیسیٰ الرقاشی مجمع الزوائد ج:۳ ص:۱۴۳)

روزے کی فضیلت
حدیث:۔۔۔۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’جس نے ایمان کے جذبے سے اور طلبِ ثواب کی نیت سے رمضان کا روزہ رکھا ، اس کے گزشتہ گناہوں کی بخشش ہوگئی۔‘‘

(بخاری و مسلم، مشکوٰۃ)

حدیث:۔۔۔۔۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’(نیک) عمل جو آدمی کرتا ہے تو (اس کے لیے عام قانون یہ ہے کہ ) نیکی دس سے لے کر سات سو گنا تک بڑھائی جاتی ہے،اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: مگر روزہ اس (قانون) سے مستثنیٰ ہے ( کہ اس کا ثواب ان اندازوں سے عطا  نہیں کیا جاتا )کیوں کہ وہ میرے لیے ہے اور میں خود ہی اس کا (بے حد و حساب ) بدلہ دوں گا، (اور روزے کے میرے لیے ہونے کا سبب یہ ہے کہ) وہ اپنی خواہش اور کھانے (پینے) کو محض میری (رضا) کی خاطر چھوڑتا ہے، روزہ دار کے لیے دو فرحتیں ہیں،ایک فرحت افطار کے وقت ہوتی ہے، اور دوسری فرحت اپنے رب سے ملاقات کے وقت ہوگی، اور روزہ دار کے منہ کی بو (جو خالی معدہ کی وجہ سے آتی ہے)اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک (و عنبر) سے زیادہ خوشبودار ہے ۔۔۔۔ الخ۔‘‘

(بخاری و مسلم، مشکوٰۃ)

حدیث:۔۔۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’روزہ اور قرآن بندے کی شفاعت کرتے ہیں (یعنی قیامت کے دن کریں گے)، روزہ کہتا ہے: اے رب! میں نے اس کو دن بھر کھانے پینے سے اور دیگر خواہشات سے روکے رکھا، لہٰذا اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرمائیے۔ اور قرآن کہتا ہے کہ : میں نے اس کو رات کی نیند سے محروم رکھا ( کہ رات کی نماز میں قرآن کی تلاوت کرتا تھا) لہٰذا اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرمائیے، چناں چہ دونوں کی شفاعت قبول کی جاتی ہے۔‘‘

(بیہقی،  مشکوٰۃ)

سحری کھانا
حدیث:۔۔۔۔۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :’’سحری کھایا کرو، کیوں کہ سحری کھانے میں برکت ہے۔ ‘‘

(بخاری و مسلم، مشکوٰۃ)

حدیث:۔۔۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہمارے اور اہلِ کتاب کے روزے کے درمیان سحری کھانے کا فرق ہے (کہ اہلِ کتاب کو سوجانے کے بعد کھانا پینا ممنوع تھا، اور ہمیں صبحِ صادق کے طلوع ہونے سے پہلے تک اس کی اجازت ہے۔)‘‘

(مسلم ، مشکوٰۃ)

غروب کے بعد اِفطار میں جلدی کرنا
حدیث: رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لوگ ہمیشہ خیر پر رہیں گے جب تک کہ (غروب کے بعد ) اِفطار میں جلدی کرتے رہیں گے۔‘‘

(بخاری و مسلم، مشکوٰۃ)

حدیث:۔۔۔۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’دین غالب رہے گا،جب تک کہ لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے، کیوں کہ یہود و نصاریٰ تاخیر کرتے ہیں۔‘‘

(ابو داؤد، ابنِ ماجہ، مشکوٰۃ)

حدیث:۔۔۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد نقل فرمایا ہے کہ : ’’مجھے وہ بندے سب سے زیادہ محبوب ہیں جو افطار میں جلدی کرتے ہیں۔‘‘

(ترمذی، مشکوٰۃ)

روزہ کس چیز سے افطار کیا جائے؟
حدیث:۔۔۔۔۔ سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ’’جب تم میں کوئی شخص روزہ افطار کرے تو کھجور سے افطار کرے، کیوں کہ وہ برکت ہے، اگر کھجور نہ ملے تو پانی سے افطار کرلے، کیوں کہ وہ پاک کرنے والا ہے۔(احمد، ترمذی، ابوداؤد، ابنِ ماجہ، دارمی ، مشکوٰۃ)

افطار کی دُعا
حدیث:۔۔۔۔ ابنِ عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب روزہ افطار کرتے تو فرماتے:

 
ذَھَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوْقُ وَثَبَتَ الْاَجْرُ اِنْ شَاءَ اللہ

پیاس جاتی رہی، انتڑیاں تر ہوگئیں، اور اَجر ان شاء اللہ ثابت ہوگیا۔

حدیث:۔۔۔۔۔ حضرت معاذ بن زہرہ فرماتے ہیں کہ  جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزہ افطار کرتے تو یہ دُعا پڑھتے:

اَللّٰھُمَّ لَکَ صُمْتُ وَبِکَ اٰمَنْتُ وَ عَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ وَعَلٰی رِزْقِکَ اَفْطَرْتُ

اے اللہ! میں نے تیرے لیے روزہ رکھا، اور تجھ پر ایمان لایا اور تجھ پر بھروسہ کیا اور

تیرے ہی دیئے ہوئے رزق سے افطار کیا۔

روزے دار کی دعا رد نہیں ہوتی
حدیث:۔۔۔۔ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’تین شخصوں کی دُعا رَد نہیں ہوتی، روزہ دار کی ، یہاں تک کہ افطار کرے، حاکم عادل کی، اور مظلوم کی۔ اللہ تعالیٰ اس کو بادلوں سے اُوپر اُٹھالیتے ہیں اور اس کے لیے آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں، اور رب تعالیٰ فرماتے ہیں: میری عز ت کی قسم! میں ضرور تیری مدد کروں گا، خواہ کچھ مدت کے بعد کروں۔‘‘

(احمد ، ترمذی ، ابنِ حبان، مشکوٰۃ، ترغیب)
رمضان المبارک کے دوسرے عشرے کی دعا جو دوسرے عشرے کے اختتام تک روزہ داروں اور نمازیوں کے زبان زدِ عام ہے :  ترجمہ:’’ میں اللہ سے تمام گناہوں کی بخشش مانگتا ہوں جو میرا رب ہے اور اس کی طرف رجوع کرتا ہوں‘‘۔

 
تین آدمیوں کی دعا رد نہیں ہوتی، ایک روزہ دار کی افطار کے وقت ‘ دوسرے عادل بادشاہ کی دعا اور تیسرے مظلوم کی دعا:حدیث نبویؐ 
اسی لئے ! ہر مسلمان اپنے اپنے حصے کی نیکی اور رمضان میں زیادہ سے زیادہ عبادات کرنے اور نیکیاں سمیٹنے میں ، اور روزہ رکھنے میں مگن ہے کیونکہ حضرت محمد ﷺکا ارشادِ پاک ہے کہ:
تین آدمیوں کی دعا رد نہیں ہوتی۔ ایک روزہ دار کی افطار کے وقت ‘ دوسرے عادل بادشاہ کی دعا اور تیسرے مظلوم کی دعا۔جس کو حق تعالیٰ شانہْ بادلوں سے اوپر اٹھا لیتے ہیں اور آسمان کے دروازے اس کے لئے کھول دیئے جاتے ہیں اور ارشاد ہوتا ہے کہ میں تیری ضرور مدد کروں گا ۔
ایک اور جگہ حضرت سہیل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت محمد مصطفی ﷺنے ارشاد فرمایا کہ:
’’ جنت کے دروازوں میں ایک خاص دروازہ ہے جس کو ’’ باب الریان ‘‘ کہا جاتا ہے، اس دروازے سے قیامت کے دن صرف روزہ داروں کا داخلہ ہو گا، ان کے سوا کوئی اس دروازے سے داخل نہیں ہو سکے گا ، اس دن پکارا جائے گا کہ کدھر ہیں وہ بندے جو اللہ کے لئے روزہ رکھا کرتے تھے، اور بھوک پیاس کی تکلیف اٹھایا کرتے تھے وہ اس پکار پر چل پڑیں گے، ان کے سوا کسی اور کا اس دروازے سے داخلہ نہیں ہو سکے گا ‘ جب روزہ دار اس دروازے سے جنت میں پہنچ جائیں گے تو یہ دروازہ بند کر دیا جائے گا ‘ پھر کسی کا اس سے داخلہ نہیں ہو سکے گا۔‘‘
اسی طرح حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت رسولِ اکرم ؐنے ارشاد فرمایا کہ:
’’ جس شخص نے ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے رمضان کا قیام کیا یعنی رات کو تراویح پڑھیں  اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔‘‘بخاری و مسلم
رمضان المبارک کے فیوض و برکات کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ اور مسلمان مرد و عورت، بچے بوڑھے ، جوان سب ہی عبادات میں مصروف ہیں۔
نماز میں آئمہ و خطباء نے روزے کی فضیلت و اہمیت کی فرضیت روشنی ڈالی۔ اپنے خطبات میں رمضان شریف کے مبارک مہینہ میں غرباء و فقراء اور مساکین کی امداد کرنے پر کافی زور دیا گیااور بتایا گیا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے ایسے بندوں کو جو غرباء و فقراء کا رمضان شریف میں خیال کرتے ہیں انہیں روزہ افطار کراتے ہیں ان کے کھانے پینے کا خیال رکھتے ہیں ۔ جن لوگوں کو انواع اقسام کی نعمتیں میسر نہیں ہیں انہیں اپنے عیش و عشرت کے سامان میں شریک کر لیں اور ان کی غربت و افلاس کو اپنی بھوک و پیاس میں شامل کر لیں تو خدا تعالیٰ ایسے بندوں کو اجرِ عظیم سے نوازتا ہے۔اس مہینہ کو صبر کا مہینہ کہا جاتا ہے اور صبر کا ثواب جنت بتایا گیا ہے۔ یہ ہمدردی و غمخواری کا مہینہ ہے اس میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ روزہ عملی شکر کی بہترین مثال ہے۔ دن بھر بھوک و پیاس سے اللہ کی نعمتوں کا انسان خلوصِ دل سے اعتراف کرتا ہے اور اس کے دل میں شکرِ الٰہی بجا لانے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ روزوں کے باعث باہمی اتفاق و اتحاد کا جذبہ بھی ہر طرف نظر آتا ہے۔دوسرے عشرے میں جتنا زیادہ ہوسکے استغفار کرنے کے ساتھ ساتھ دوسروں کا خیال رکھاجائے اتنا ہی اللہ تعالیٰ بندوں سے خوش ہوگا۔ حدیثِ مبارکہ ہے کہ ایک نفل کا ثواب فرض کے برابر اور ایک فرض کی ادائیگی کا ثواب ستّر فرضوں کے برابر ہے اس لیئے اس مہینے میں جتنا ہو سکے غریبوں و مسکینوں اور یتیموں کی مدد کریں۔
رحمتوں اور برکتوں والا مہینہ اپنی تمام تر تابانیوں کے ساتھ ہمارے سرو پر سایہ فگن ہے، بلا شبہ ماہِ رمضان کی فضیلتیں اور اس کی عظمتیں بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ رمضان شریف میں معمولی کارِ خیر میں ڈھیروں ثواب ملتے ہیں اس لئے امتِ مسلمہ کے اندر بھی نیکیوں کا جذبہ بے حد بڑھ جاتا ہے۔
جس مال کی زکوٰۃ نہیں نکالی جاتی ہے اس میں بے برکتی ہی ہوتی ہے اور دوسرے ذرائع سے مال کہیں نہ کہیں تلف اور برباد ہو جاتا ہے۔ اکثر و بیشتر یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ بہت سارے لوگ زکوٰۃکی رقم غیر مستحقین یا غیر مستحق اداروں میں دے دیتے ہیں اس طور پر ان کی زکوٰۃادا نہیں ہوتی۔ زکوٰۃو فطرہ کی رقم صرف انہیں کو دیں جن سے آپ بخوبی واقف ہوں۔ پڑوسیوں اور رشتہ داروں میں اگر کوئی مستحق زکوٰۃ ہے تو دوسروں پر اس کو ترجیح دیں، بعض لوگ حاجت مند ہوتے ہیں مگر زکوٰۃ و فطرہ لینے میں جھجھک محسوس کرتے ہیں انہیں عیدی کہہ کر بھی زکوٰۃکی رقم دی جاسکتی ہے۔ اسی طرح نیکی کا سلسلہ جاری و ساری رہنا چاہیئے۔
 مغفرت کا عشرہ
اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں کے لیے نعمتوں اور انعامات کا شمار ممکن نہیں لیکن اللہ کی ان نعمتوں میں رمضان المبارک کو ایک منفرد حیثیت حاصل ہے۔ حضوراکرمﷺکو اس مہینے کا انتظار رہتا تھا اور اس کا شوق سے استقبال کرتے تھے۔ رمضان المبارک کا پہلا عشرہ یعنی عشرہ رحمت اختتام پذیر ہوچکا اور دوسرا عشرہ یعنی عشرہ مغفرت کا آغاز ہوچکا ہے۔
رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی رحمت و بخشش اور مغفرت کا مہینہ ہے، وہ لوگ خوش قسمت ہیں جنہوں نے اس مبارک و مقدس مہینے میں روزہ ا ورعبادت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کو راضی کیا، یہ وہ مبارک مہینہ ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب ستر گنا بڑھا دیتا ہے۔
روزہ ایسی عبادت ہے کہ نبی کریم ﷺکے ارشاد کے مطابق زندگی کے ان تمام مراحل میں کار آمد ثابت ہوتا ہے۔ رمضان کا پہلا عشرہ رحمت کا ہے جو زندگی کے خصوصاً پہلے مرحلے میں اشد ضروری ہے۔دوسرا عشرہ مغفرت کا ہے جو زندگی کے دوسرے مرحلے کے لئے کار آمد ہے کہ اس کی وجہ سے قبر میں راحت ملے گی اور تیسرا عشرہ جہنم سے آزادی کا ہے جو زندگی کے تیسرے مرحلے میں کار آمد ہے۔
ماہ رمضان مغفرت کا وہ عظیم الشان مہینہ ہے کہ جو شخص اس کو پانے کے بعد بھی مغفرت سے محروم رہ گیا وہ انتہائی بدقسمت اور حرماں نصیب ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺنے ارشاد فرمایا کہ ’’ تین آدمیوں کی دعا رد نہیں ہوتی، ایک روزہ دار کی افطار کے وقت، دوسرے عادل بادشاہ کی اور تیسرے مظلوم کی۔
حدیث پاک ﷺمیں ارشاد ہے کہ
‘‘اے لوگو ! اتنی ہی عبادت کرو جو قابلِ برداشت ہو کیونکہ اللہ ثواب دینے سے نہیں تھکتا یہاں تک کے تم خود عبادت کرنے سے اْکتا جاؤ گے۔’’
بہت سی قومیں ایسی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے توبہ و استغفار کرنے کی وجہ سے ان پر سے عذاب ٹلا دیا۔
سورہ یونس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کا ذکر فرمایا ! عذاب ان کے قریب آچکا تھا اور انہوں نے اپنی آنکھوں سے عذاب دیکھ لیا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے توفیق ہوئی اور ساری قوم اپنے گھروں سے باہر نکل آئی اور اللہ تعالیٰ سے رو کر اور گڑگڑا کر توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر سے عذاب کو ہٹا دیا۔
حضرت محمد ﷺ کا ارشاد ہے
’’رمضان کو اس لیے رمضان کہا جاتا ہے چونکہ یہ گناہوں کو جلا دیتا ہے‘‘
توبہ واستغفار اس مہینہ کے اہم ترین مقاصد میں سے ہے۔ جس شخص کی توبہ قبول ہوگئی، اور رب نے اسے بخش دیا، وہ رمضان کے فضائل وبرکات سے محظوظ ہوگیا۔ رسول اللہﷺ لمحہ توبہ واستغفار کرتے تھے۔
حضرت عبادہ بن صامتؓ بیان کرتے ہیں کہ جب رمضان آیا تو سرور کائناتؐ نے فرمایا۔
’’تمھارے پاس رمضان آگیا ہے یہ برکت کا مہینہ ہے اللہ تعالیٰ تم کو اِس میں ڈھانپ لیتا ہے اِس میں رحمت نازل ہو تی ہے اور گناہ جھڑ جاتے ہیں اور اِس میں دعا قبول ہوتی ہے اللہ تعالی اِس مہینہ میں تمھاری ر غبت کو دیکھتا ہے سو تم اللہ کو اس مہینہ میں نیک کام کرکے دکھاؤ کیونکہ وہ شخص بد بخت ہے جو اس مہینہ میں اللہ کی رحمت سے محروم رہا‘‘۔
صادق الامین خاتم النبیین ﷺفرماتے ہیں۔
’’جس نے رمضان کے روزے ایمان اور احتساب کی نیت سے رکھے تو اس کے گذشتہ گناہ بخش دیے گئے‘‘۔( بخاری، حدیث ۱۹۰۱، مسلم، حدیث ۱۷۵۔)
اس ماہ مبارک کی آمد کا یہی وہ مبارک دن تھا جب تقریباً ’’پندرہ سو سال قبل مسجد نبویؐ کے منبر سے حضرت محمد ﷺ نے اپنی امت کو یہ خوش خبری سنائی تھی۔
 ’’لوگو ! خدا کا مہینہ برکت و رحمت اور مغفرت کے ساتھ تمہاری طرف آ رہا ہے وہ مہینہ جو خدا کے نزدیک بہترین مہینہ ہے جس کے ایام بہترین ایام جس کی راتیں بہترین راتیں ہیں اور جس کی گھڑیاں بہترین گھڑیاں ہیں ، (اس مہینہ میں ) تمہاری سانسیں ذکر خدا میں پڑھی جانے والی تسبیح کا ثواب رکھتی ہیں تمہاری نیندیں عبادت ، اعمال مقبول اور دعائیں مستجاب ہیں اپنے پروردگار کے سامنے سچی نیتوں اور پاکیزہ دلوں کے ساتھ روزہ رکھنے اور قرآن کریم کی تلاوت کرنے کی توفیق کی دعا کرنی چاہئے وہ شخص بڑا بدقسمت ہے جو اس عظیم مہینے میں خداکی ان برکات سے بہرہ مند نہ ہو سکے‘‘۔
روزہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں روز ہ دار کے لیے شفاعت و سفارش کرے گا۔
حضرت عبداللہ بن عمروؓروایت کرتے ہیں کہ حضور سید عالمﷺ نے ارشاد فرمایا۔
’’روزے اور قرآن دونوں بندے کے لیے شفاعت (سفارش) کریں گے۔ روزے عرض کریں گے: ’’ اے پروردگار! میں نے اس بندے کو کھانے پینے اور نفس کی خواہش پورا کرنے سے روکے رکھا تھا، آج میری سفارش اس کے حق میں قبول فرما اور قرآن کہے گا کہ، ’’ میں نے اس بندے کو رات کو سونے اور آرام کرنے سے روکے رکھا تھا، آج اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما، چناں چہ روزہ اور قرآن دونوں کی سفارش بندے کے حق میں قبول فرمائی جائے گی۔‘‘
بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بخشنے کے لیے دین میں بہت سی آسانیاں فرمائی ہیں۔ ایسی ہی ایک نعمت ماہ رمضان کی صورت میں مسلمانوں کو عطا ہوئی جس میں خالق کائنات نے واضح کر دیا جو لوگ ماہ رمضان کے روزے احکام شریعت کے مطابق رکھیں اور تمام برائیوں سے بچے رہیں ان کے واسطے دنیا اورآخرت کی بھلائی اور بڑا اَجر ہے اور جنہیں اللہ کی ذات انعام واَجرسے نواز دے وہی پرہیزگار اور متقی لوگ ہیں۔
اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم لوگ ماہ رمضان میں اللہ تعالیٰ کی خاص رحمتوں اور برکتوں سے کس قدر فائدہ اٹھاتے ہیں۔

رمضان کا آخری عشرہ
حدیث:۔۔۔۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لنگی مضبوط باندھ لیتے (یعنی کمر ہمت چست باندھ لیتے) خود بھی شب بیدار رہتے اور اپنے گھر کے لوگوں کو بھی بیدار رکھتے۔

(بخاری و مسلم، مشکوٰۃ)

لیلۃالقدر
حدیث:۔۔۔۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رمضان المبارک آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بے شک یہ مہینہ تم پر آیا ہے، اور اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینے سے بہتر ہے، جو شخص اس رات سے محروم رہا ، وہ ہر خیر سے محروم رہا، اور اس کی خیر سے کوئی شخص محروم نہیں رہے گا، سوائے بد قسمت اور حرمان نصیب کے۔‘‘

(ابنِ ماجہ، واسنادہ حسن، ترغیب)

حدیث:۔۔۔۔۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لیلۃ القدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں  تلاش کرو!‘‘

(صحیح بخاری، مشکوٰۃ)

حدیث:۔۔۔۔۔ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب لیلۃ القدر آتی ہے تو جبریل علیہ السلام فرشتوں کی ایک  جماعت کے ساتھ نازل ہوتے ہیں، اور ہربندہ جو کھڑا یا بیٹھا اللہ  تعالیٰ کا ذکر کر رہا ہو (اس میں تلاوت، تسبیح و تہلیل اور نوافل سب شامل ہیں، الغرض کسی طریقے سے ذکر و عبادت میں مشغول ہو) اس کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں۔‘‘

(بیہقی، شعب الایمان، مشکوٰۃ)

لیلۃالقدرکی دعا
حدیث: ۔۔۔۔۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! یہ فرمائیے کہ اگر مجھے یہ معلوم ہوجائے کہ یہ لیلۃ القدر ہے تو کیا پڑھوں؟ فرمایا: یہ دُعا پڑھا کرو:

اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ

اے اللہ! آپ بہت ہی معاف کرنے والے ہیں، معافی کو پسند فرماتے ہیں، پس مجھ  کو بھی معاف کردیجیے۔

 (احمد، ترمذی، ابنِ ماجہ، مشکوٰۃ)
تمام راتوں میں افضل رات لیلة القدر .... لیل کہتے ہیں ”را“ کو اور قدر کے معنی عربی لغت کے اندر قدر و منزل کے ہیں یعنی انتہائی تعظیم والی رات ترجمہ ”یقیناً اسے ہم نے شب قدر میں نازل فرمایا“سورة القدر میں اس رات کی فضیلت اور اس رات میں اﷲ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی رحمتوں اور برکتوں کا ذکر فرمایا اور یہاں تک بتا دیا کہ یہ رات طلوع صبح تک سلامتی والی رات ہے۔مفسرین کی یہ رائے ہے کہ یہ رات رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں یعنی 29, 27, 25, 23, 21 میں سے کسی ایک میں ہے غالب گمان 27 ویں شب کا ہے اور بعض مفسرین کے نزدیک یہ ایک رمضان المبارک میں اگر 27 ویں شب ہے تو اگلے رمضان المبارک میں یہ کسی اور طاق رات میں بھی آسکتی ہے۔ اس رات کی فضیلت کو دیکھا جائے تو ہزار مہینوں سے افضل اس ایک رات کو کہا گیاہے یعنی اس ایک رات میں جو شخص عبادت کرتا ہے تو اس کی عبادت ایک ہزار سال کے برابر ہے اور ایک ہزار سال تقریباً اگر صرف رات کا حساب لگایا جائے تو کم بیش (83 سال چار ماہ) کی عبادت بنتی ہے ۔ مفسرین فرماتے ہیں اﷲ کے حکم سے روح القدس (جبرئیل امین) بیشمار فرشتوں کے ساتھ نیچے اترتے ہیں تاکہ عظیم و الشان خیرو برکت سے زمین والوں کو مستفید کیا جائے۔بہر حال اس مبارک شب میں باطنی حیات اور روحانی خیرو برکت کا خاص نزول ہوتاہے۔ آیت مبارکہ میں لفظ ”من کل امر“ سے مراد ہر کام کے انجام دینے کے لئے اس رات کو جو فرشتے نازل ہوتے ہیں یعنی اﷲ تعالیٰ ان فرشتوں کے ذریعے اپنے بندوں کواس رات چین و امن اور دلجمعی عطا فرماتے ہیں۔ یہ سکون اور اطمینان صرف وہ زاہد و عابد ہی محسوس کر سکتے ہیں جو اس رات کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں

بغیر عذر کے رمضان کا روزہ نہ رکھنا
حدیث: ۔۔۔۔۔ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص نےبغیر عذر اور بیماری کے رمضان کا ایک روزہ بھی چھوڑدیا تو خواہ ساری عمر روزے رکھتا رہے، وہ اس کی تلافی نہیں کرسکتا (یعنی دوسرے وقت میں روزہ رکھنے سے اگر چہ فرض ادا ہوجائے گا، مگر رمضان المبارک کی برکت و فضیلت کا حاصل کرنا ممکن نہیں)۔

(احمد ، ترمذی، ابو داؤد، ابنِ ماجہ، دارمی، بخاری فی ترجمۃ الباب، مشکوٰۃ)

تراویح
حدیث: ۔۔۔۔۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے ایمان کے جذبے سے اور ثواب کی نیت سے رمضان کا روزہ رکھا، اس کے پہلے گناہ بخش دیے گئے، اور جس نے رمضان (کی راتوں) میں قیام کیا، ایمان کے جذبے اور ثواب کی نیت سے، اس کے گزشتہ گناہ بخش دیے گئے، اورجس نے لیلۃ القدر میں قیام کیا، ایمان کے جذبے اور ثواب کی نیت سے، اس کے پہلے گناہ بخش دیے گئے۔‘‘

(بخاری و مسلم، مشکوٰۃ)

اور ایک روایت میں ہے کہ : ’’اس کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیے گئے۔‘‘

(نسائی ، ترغیب)

اعتکاف
حدیث: ۔۔۔۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے رمضان میں (آخری) دس دن کا اِعتکاف کیا، اس کودو حج اور دو عمرے کا ثواب ہوگا۔‘‘

(بیہقی، ترغیب)

حدیث:۔۔۔۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کی خاطر ایک دن کا بھی اعتکاف کیا، اللہ تعالیٰ اس کے اور دوزخ کے درمیان ایسی تین خندقیں بنادیں گے کہ  ہر خندق کا فاصلہ مشرق و مغرب سے زیادہ ہوگا۔ ‘‘

(طبرانی اوسط، بیہقی، حاکم ، ترغیب)

روزہ دار کے لیے پرہیز
حدیث: ۔۔۔۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ :’’جس شخص نے (روزے کی حالت میں ) بیہودہ باتیں (مثلًا: غیبت، بہتان،تہمت، گالی گلوچ، لعن طعن، غلط بیانی وغیرہ) اور گناہ کا کام نہیں چھوڑا، تو اللہ تعالیٰ کو کچھ حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑدے۔‘‘

(بخاری، مشکوٰۃ)

حدیث:۔۔۔۔۔ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : ’’روزہ ڈھال ہے، جب تک کہ اس کو پھاڑے نہیں۔‘‘

(نسائی، ابنِ خزیمہ، بیہقی، ترغیب)

اور ایک روایت میں ہے کہ : عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! یہ ڈھال کس چیز سے پھٹ جاتی ہے؟ فرمایا: ’’جھوٹ اور غیبت سے !‘‘

(طبرانی الاوسط عن ابی ہریرہؓ: ترغیب)

روزے میں کوتاہیاں
حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہٗ نے ’’اصلاح انقلاب‘‘ میں تفصیل سے ان کو تاہیوں کا بھی ذکر فرمایا ہے جو روزے کے بارے میں کی جاتی ہیں، اس کتاب کا مطالعہ کر کے ان تمام کوتاہیوں کی اصلاح کرنی چاہیے، یہاں بھی اس کے ایک دو اقتباس نقل کیے جاتے ہیں، راقم الحروف کے سامنے مولانا عبد الباری ندوی کی ’’جامع المجددین‘‘ہے ، ذیل کے اقتباسات اسی سے منتخب کیے گئے ہیں:

’’بہت سے لوگ بلا کسی قوی عذر کے روزہ نہیں رکھتے، ان میں سے بعض تو محض کم ہمتی کی وجہ سے نہیں رکھتے، ایسے ہی ایک شخص کو، جس نے عمر بھر روزہ نہ رکھا تھا اور سمجھتا تھا کہ پورا نہ کرسکے گا، کہا گیا کہ تم بطور امتحان ہی رکھ کر دیکھ لو، چناں چہ رکھا اور پورا ہوگیا، پھر اس کی ہمت بندھ گئی اور رکھنے لگا۔ ‘‘

بعض بلا عذر تو روزہ ترک نہیں کرتے، مگر اس کی تمیزنہیں کرتے کہ یہ عذر شرعا ًمعتبر ہے یا نہیں؟ ادنیٰ بہانے سے افطار کردیتے ہیں، مثلاً:ایک ہی منزل کا سفر ہو، روزہ افطار کردیا، کچھ محنت مزدوری کاکام ہوا، روزہ چھوڑدیا۔

بعضے لوگوں کا افطار تو عذرِ شرعی سے ہوتاہے، مگر ان سے یہ کوتاہی ہوتی ہے کہ بعض اوقات اس عذر کے رفع ہونے کے وقت کسی قدر دن باقی ہوتا ہے، اور شرعاً بقیہ دن میں امساک یعنی کھانے پینے سے بند رہنا واجب ہوتا ہے،مگر وہ اس کی پروا نہیں کرتے، مثلاً: سفرِ شرعی سے ظہر کے وقت واپس آگیا، یا عورت حیض سے ظہر کے وقت پاک ہوگئی، تو ان کو شام تک کھانا پینا نہ چاہیے ۔

اکثر لوگ روزہ میں بھی معاصی سے نہیں بچتے، اگرغیبت کی عادت تھی، تو وہ بدستور رہتی ہے، اگر بدنگاہی کے خوگر تھے، وہ نہیں چھوڑتے، اگر حقوق العباد کی کوتاہیوں میں مبتلا تھے، ان کی صفائی نہیں کرتے، بلکہ بعض کے معاصی تو غالباً بڑھ جاتے ہیں، کہیں دوستوں میں  جا بیٹھے کہ روزہ بہلے گا، اور باتیں شروع کیں، جن میں زیادہ حصہ غیبت کا ہوگا، یا چوسر، گنجفہ ، تاش، ہارمونیم، گراموفون لے بیٹھے اور دن پورا کردیا۔ اس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ بالکل روزہ ہی  نہ ہوگا، لہٰذا رکھنے ہی سے کیا فائدہ؟ روزہ تو ہوجائے گا، لیکن ادنیٰ درجے کا۔جیسے اندھا، لنگڑا، کانا، گنجا، اپاہج آدمی، آدمی تو ہوتاہے، مگر ناقص۔


از . قلم . مولانا محمد پرویز رضا فیضانی حشمتی  مقام لولین ڈیھ پوسٹ بڑھنی چافہ ضلع سدھارتھ نگر یوپی
رابطہ نمبر 6307986692

ہفتہ، 16 مئی، 2020

Faizane Mustafa Channel: Sabhi Kadar ki Fazilat Barkat

Faizane Mustafa Channel: Sabhi Kadar ki Fazilat Barkat: تمام راتوں میں افضل رات لیلة القدر .... لیل کہتے ہیں ”را“ کو اور قدر کے معنی عربی لغت کے اندر قدر و منزل کے ہیں یعنی انتہائی تعظ...

Sabhi Kadar ki Fazilat Barkat


تمام راتوں میں افضل رات لیلة القدر .... لیل کہتے ہیں ”را“ کو اور قدر کے معنی عربی لغت کے اندر قدر و منزل کے ہیں یعنی انتہائی تعظیم والی رات ترجمہ ”یقیناً اسے ہم نے شب قدر میں نازل فرمایا“سورة القدر میں اس رات کی فضیلت اور اس رات میں اﷲ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی رحمتوں اور برکتوں کا ذکر فرمایا اور یہاں تک بتا دیا کہ یہ رات طلوع صبح تک سلامتی والی رات ہے۔مفسرین کی یہ رائے ہے کہ یہ رات رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں یعنی 29, 27, 25, 23, 21 میں سے کسی ایک میں ہے غالب گمان 27 ویں شب کا ہے اور بعض مفسرین کے نزدیک یہ ایک رمضان المبارک میں اگر 27 ویں شب ہے تو اگلے رمضان المبارک میں یہ کسی اور طاق رات میں بھی آسکتی ہے۔ اس رات کی فضیلت کو دیکھا جائے تو ہزار مہینوں سے افضل اس ایک رات کو کہا گیاہے یعنی اس ایک رات میں جو شخص عبادت کرتا ہے تو اس کی عبادت ایک ہزار سال کے برابر ہے اور ایک ہزار سال تقریباً اگر صرف رات کا حساب لگایا جائے تو کم بیش (83 سال چار ماہ) کی عبادت بنتی ہے ۔ مفسرین فرماتے ہیں اﷲ کے حکم سے روح القدس (جبرئیل امین) بیشمار فرشتوں کے ساتھ نیچے اترتے ہیں تاکہ عظیم و الشان خیرو برکت سے زمین والوں کو مستفید کیا جائے۔بہر حال اس مبارک شب میں باطنی حیات اور روحانی خیرو برکت کا خاص نزول ہوتاہے۔ آیت مبارکہ میں لفظ ”من کل امر“ سے مراد ہر کام کے انجام دینے کے لئے اس رات کو جو فرشتے نازل ہوتے ہیں یعنی اﷲ تعالیٰ ان فرشتوں کے ذریعے اپنے بندوں کواس رات چین و امن اور دلجمعی عطا فرماتے ہیں۔ یہ سکون اور اطمینان صرف وہ زاہد و عابد ہی محسوس کر سکتے ہیں جو اس رات کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں
محمد پرویز رضا حشمتی فیضان 
6307986692