جمعہ، 17 اپریل، 2020

Deobandi kya hai

•┈┈❍﷽❍┈┈•🌹📿

وھابی کسے کہتے ہیں اور بانی کون 
غیر مقلد اور دیوبندی میں کیا فرق 
ان کے عقائد و حکم شرع کیا ہے
📌ــــــــــــــــــ✿📍✿ـــــــــــــــــــ 📌

📿السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ📿     
                
کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام مسئلہ ہٰذا میں کہ👇👇👇

🔮وہابی کسے کہتے ہیں اور اس کا بانی کون ہے
🔮 غیر مقلد اور دیوبندی میں کیا فرق ہے 

🔮غیر مقلد کے چند  مسائل بیان کیجیے 

🔮وھابیوں کے عقائد کیا ہیں نیز حکم شرع بیان کریں 

🔮 قرآن و احادیث کی روشنی میں جواب  عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی

📌ــــــــــــــــــ✿📍✿ـــــــــــــــــــ 📌

●سائل● محمد عمران رضا ردرور منڈل ضلع نظام آباد تلنگانہ الھند 

*وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ* 

*الجواب بعون الملک الوہاب* 

📌ــــــــــــــــــ✿📍✿ـــــــــــــــــــ 📌

📚✒ مذکورہ بالا صورت مستفسرہ میں جواب یہ ہے کہ 👇👇 

📿1📿وہابی👇
👈 محمد بن عبد الوہاب نجدی اور مولوی اسماعیل دہلوی کے ماننے والوں کو وہابی کہتے ہیں۔

📚بخاری شریف میں ہےکہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی اللھم بارک لنا فی شامنا اللھم بارک لنا فی یمننا قالوا و فی نجدنا قال اللھم بارک لنا فی شامنا اللھم بارک لنا فی یمننا قالوا و فی نجدنا یا رسول اللہ قال فی الثالثۃ ھنالک الزلازل و الفتن و بھا یطلع قرن الشیطان یعنی یا اللہ ہمارے لئے ہمارے شام میں برکت دے اے اللہ ہمارے لئے ہمارے یمن میں برکت دے  کچھ لوگوں نے عرض کی اور ہمارے نجد میں بھی اس پر حضور نے فرمایا اے اللہ برکت دے ہمارے لئے ہمارے شام میں اے اللہ برکت دے ہمارے  لئے ہمارے یمن میں  ان لوگوں نے پھر عرض کیا اور ہمارے نجد میں یا رسول اللہ (راوی نے کہا )میں گمان کرتا ہوں کہ تیسری بار یہ فرمایا وہاں زلزلے اور فتنے ہیں وہاں سے شیطان کے ساتھی نکلیں گے( یعنی تو پھر نجد کے لیے کیسے دعا کروں) 

✒بخاری شریف جلد اول صفحہ 141

حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد گرامی کے مطابق سرزمین نجد سے بے شمار  فتنے اٹھے مسیلمہ کذاب کا فتنہ نجد ہی سے اٹھاتا 
( تفصیلی معلومات کے لئے دیکھئے فتنوں کی سرزمین کون از شارح بخاری حضرت علامہ مولانا  مفتی محمد  شریف الحق امجدی رحمتہ اللہ علیہ)
لیکن تیرہویں صدی کے شروع میں نجد سے سب سے عظیم فتنہ فتنئہ وہابیت اٹھا جس نے مسلمانوں کو تباہ کر ڈالا محمد بن عبدالوہاب نام کا ایک شخص وہی سے پیدا ہوا اور کتاب التوحید نام کی ایک کتاب لکھ کر ایک نئے مذہب کی بنیاد ڈالی اس کا کہنا تھا کہ روئے زمین پر جتنے مسلمان ہیں خواہ وہ کہیں کے باشندے ہوں سب کافر مشرک ہیں اور مسلمان تو صرف وہی لوگ ہیں جو اس کے ماننے والے ہیں اس کا حکم تھا کہ چونکہ  دنیا کے تمام مسلمان کافر و مشرک ہیں اس لیے فرض ہے کہ ہم ان سے لڑیں اور وہ ہماری اطاعت نہ کریں تو ہم انہیں قتل کر ڈالیں  

✒ شامی جلد 3 باب المرتدین ص 309

اس عقیدے کو پھیلانے کے لئے طاقت کی ضرورت تھی اس لئے اس نے نجد کے مشہور شہر درعیہ کے حکم ابن سعود کو لالچ دے کر اپنے ساتھ ملایا 👇

✒(تفصیل کیلئے دیکھئے مسعود عالم ندوی کی کتاب ایک مظلوم مصلح صفحہ 33  وغیرہ  یہ کتاب ندوی صاحب نے ابن عبدالوہاب نجدی کی مدح اور مدافعت میں لکھی ہے مگر حقیقت کو وہ نہ چھپا سکے اگرچہ بسیار کوشاں رہے)


📿اور تحفے میں اسے اپنی بیٹی پیش کیا  

✒التاج المکلل  صفحہ 300

جب فتنے وھابیت کے بانی ابن عبدالوہاب نجدی کو دنیاوی طاقت بھی حاصل ہوگئی تو پھر اس نے مسلمانوں کے دین و ایمان اور مال و دولت دونوں کو لوٹنا شروع کردیا صوبئہ نجد  سے نکل کر حجاز مقدس کے شہروں پر حملہ شروع کر دیا اور قتل و غارت کا بازار گرم کیا انگریزوں کی مدد سے مکہ شریف اور مدینہ شریف پر بھی نجد کے درندے ڈاکؤوں نے حملہ کیا لوٹ مار کر کے ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کو قتل کیا اور قبضہ جمالیا 

✒تفصیل کیلئے دیکھئے سیف الجبار  از حضرت علامہ مولانا محمد فضل رسول بدایونی رحمتہ اللہ علیہ

بعد میں عرب شریف کا نام بدل کر سعودیہ عربیہ رکھا

✒صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت  علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رضی اللہ تعالی عنہ وہابی کا تعارف آپنی تصنیف  بہار شریعت میں ان الفاظ میں کرتے ہیں

 وہابی یہ ایک نیا فرقہ ہے جو سن 1209 ہجری میں پیدا ہوا اس مذہب کا بانی محمد بن عبدالوہاب نجدی تھا جس نے تمام عرب خصوصا حرمین شریفین میں بہت شدید فتنے پھیلائے علماء کو قتل کیا صحابہ کرام و ائمہ و علماء و شہداء کی قبریں کھود ڈالیں روضئہ انور کا نام معاذ اللہ صنم اکبر رکھا تھا 👇

✒ بہار شریعت حصہ 1 ص 58/57

🕹مذکورہ بالا حوالہ جات سے معلوم ہوا کہ وہابی مذھب کا بانی ابن عبد الوھاب نجدی ہے 

📌ــــــــــــــــــ✿📍✿ـــــــــــــــــــ 📌
                                        👇📿2📿

👈 غیر مقلد وہابی ______ اور دیوبندی وہابیوں میں ظاہری اعتبار  سے کچھ فرق ضرور ہے مگر عقیدے میں دونوں فرقے بالکل ایک ہیں  تقویۃ الایمان پر دونوں ایمان رکھتے ہیں👇

✒ دیکھئے فتاویٰ رشیدیہ ص 78 از مولوی رشید احمد گنگوہی

🔖نجدی وہابیوں کی بنیادی کتاب کتاب التوحید ہندوستان میں آئی تو شہر دہلی کے مولوی اسماعیل دہلوی نے اردو زبان میں اس کا خلاصہ کیا اور تقویت الایمان اس کا نام رکھا  

سیف الجبار

اس کتاب نے ہندوستان کے اندر مسلمانوں کے گھروں میں آگ لگادی ہزاروں مسلمانوں کے دین و ایمان کو بگاڑ دیا اور کلمہ پڑھنے والوں میں ایسا اختلاف پیدا کیا جس کا ختم ہونا ناممکن معلوم ہوتا ہے بعض دیوبندی مصنفین نے بھی اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ واقعی تقویۃالایمان نے ہندوستان کے بیس کروڑ مسلمانوں کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کردیا  

✒انوار الباری جلد 11 صفحہ 107 

مولوی احمد رضا بجنوری دیوبندی  

بحوالہ اختلافات کا جائزہ ص 38
از علامہ مفتی شریف الحق امجدی

پھر مولوی اسماعیل دہلوی انگریزوں کی حمایت میں لڑتے ہوئے سرحدی پٹھانوں کے ہاتھوں قتل ہوگئے تو ان کے ماننے والے دو فرقے میں ہوگئے

🔮 ایک فرقہ وہ جس نے اماموں کی تقلید کا انکار کیا اور غیر مقلد وھابی کہلائے یہ اپنے آپ کو اہل حدیث کہتے ہیں

🔮 دوسرا فرقہ ان مکاروں کا ہے جو اپنے آپ کو سنی حنفی کہلاتے ہیں مگر اندر سے پکے وہابی ہوتے ہیں انہیں دیوبندی کہا جاتا ہے 

✒جاء الحق حصہ 1 ص 5 از حکیم الامت حضرت العلام مولانا مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ  

🕹شارح بخاری فقیہ اعظم ہند حضرت مولانا مفتی محمد شریف الحق امجدی رحمتہ اللہ علیہ  تحریر فرماتے ہیں

دیوبندی وہابی تبلیغی مودودی( جماعت اسلامی) اپنے بنیادی عقائد میں ایک ہیں  یہ سب عقائد میں مولوی اسماعیل دہلوی کے پیرو ہیں اگرچہ بعض فروعی  باتوں میں ان کے اندر اختلاف ہے ان سب عقائد  کی تفصیل مندرجہ ذیل کتابوں میں مذکور ہے الکوکبۃ الشہابیہ  سل السیوف الہندیہ حسام الحرمین المصباح الجدید مصنفانہ  جائزہ ان کا مطالعہ کریں 

✒فتاوی شارح بخاری  کتاب العقائد جلد 3 ص 27 

🕹دوسری جگہ تحریر فرماتے ہیں کہ  

 وہابیوں کی چار شاخیں ہیں ایک غیر مقلد دوسرے دیوبندی تیسرے ندوی چوتھے مودودی چاروں اپنے بنیادی عقائد میں متفق ہیں  یہ چاروں مولوی اسماعیل دہلوی مصنف  تقویۃ الایمان اور  ابن عبدالوہاب نجدی کی کتاب التوحید کے مصنف کو اپنا مقتدا و پیشوا مانتے  ہیں چند فروعی  باتوں میں آپس میں اختلاف رکھتے ہیں وہ بھی محض دکھاوے کے لیے غیر مقلدین کا مرکز اس وقت دہلی اور بنارس ہے  دیوبندیوں کا مرکز دیوبند سہارنپور اور ڈھابیل ہے ندویوں  کا مرکز  ندوۃ العلماء لکھنؤ ہے  مودودیوں کا مرکز دہلی و رامپور میں ہے 

🕹فتاویٰ شارح بخاری کتاب العقائد جلد 3 صفحہ 262

مذکورہ بالا حوالہ جات سے معلوم ہوا کہ غیر مقلد اور دیوبندی دونوں سوتیلے مذھبی بھائی ہیں تمام عقائد میں دونوں متفق ہیں صرف اعمال کا فرق ہے اور آپس میں جھگڑا روٹی بوٹی کا ہے

📌ــــــــــــــــــ✿📍✿ـــــــــــــــــــ 📌

📿3📿غیر مقلد کے چند مسائل 👇

📚✒  بہار شریعت میں ہے کہ  غیر مقلد  (جسے اہلحدیث بھی کہتے ہیں) یہ بھی وہابیت ہی کی ایک شاخ ہے وہ چند باتیں جو وہابیوں نے اللہ تعالی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بکی ہیں غیر مقلدین سے ثابت نہیں باقی تمام عقائد  میں دونوں شریک ہیں اور ان حال کے اشد  دیوبندی کفروں  میں بھی وہ یوں شریک ہیں کہ ان پر ان قائلوں  کو کافر نہیں جانتے اور ان کی نسبت حکم ہے جو ان کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے یہ  ایک نمبر  ان کا زائد یہ ہے کہ چاروں مذہبوں سے جدا تمام مسلمانوں سے الگ انہوں نے  ایک راہ نکالی کہ  تقلید کو حرام و بدعت کہتے ہیں اور ائمہ دین کو سب و شتم سے یاد کرتے ہیں مگر حقیقتاً تقلید  سے خالی نہیں ائمہ دین کی تقلید تو نہیں مگر شیطان لعین کے ضرور مقلد ہیں یہ لوگ قیاس کے منکر ہیں اور قیاس کا مطلق انکار کفر ہے 

📚صفحہ نمبر 64 جلد نمبر 1         

📓🖋تقلید کرنے والے کو مشرک بتاتے ہیں اس فرقہ نے اپنا نام عامل بالحدیث رکھا اس کے پیشوا اسمعیل دہلوی اور صدیق حسن خان بھوپالی اور نذیر حسین دہلوی ہیں اسماعیل دہلوی نے یہ نیا مذھب  نکالا اور ہندوستان میں پھیلایا ان کا عقیدہ وہی ہے جو وہابی دیوبندیوں کا ہے بلکہ ان سے بھی ایک درجہ آگے مزید ان کے مذہب میں یہ ہے کہ رام چندر لچھمن کرشن  جو ہندوؤں کے پیشوا ہیں  نبی ہیں کافر کا ذبح کیا ہوا جانور حلال اس کا کھانا جائز ہے مرد ایک وقت میں جتنی عورتوں سے چاہے نکاح کرسکتا ہے اس کی حد نہیں کی چارہی ہوں منی پاک ہے متعہ جائز ہے وغیرہ 👇👇

📚🖊 اظہار الحق صفحہ نمبر 418 فتاوی رضویہ جلد 9 صفحہ نمبر 41 غیر مقلدوں کے فریب صفحہ نمبر59 تا 64

غیرمقلدوں کے چند جدید گندے عقائد و مسائل 

👈غیر مقلدین کے نزدیک لفظ اللہ کے ساتھ ذکر کرنا بدعت ہے 

👈خدا تعالی جس شکل میں چاہے تجلی فرماتا ہے 

👈رام چندر لچھمن اور کرشن نبی ہیں جو ہندوؤں میں مشہور ہیں اسی طرح فارسیوں  میں زر تشت اور چین و جاپان والوں میں نفسیوس اور بدھ سقراط اور فیشا غورس یونانیوں میں ہم ان کی  نبوت کا انکار نہیں کرسکتے  یہ انبیاء و صلحاء تھے 
 معروف غیر مقلد عالم نواب نور الحسن خان لکھتے ہیں:

”نماز میں جس کی شرمگاہ سب کے سامنے نمایاں رہی اس کی نماز صحیح ہے۔“

عرف الجادی ص22

مشہور غیر مقلد عالم نواب صدیق حسن خان لکھتے ہیں:

”عورت تنہا بالکل ننگی نماز پڑھ سکتی ہے۔ عورت دوسری عورتوں کے ساتھ سب ننگی نماز پڑھیں تو نماز صحیح ہے۔ میاں بیوی اکٹھے مادر زاد ننگے نماز پڑھیں تو نماز صحیح ہے۔ عورت اپنے باپ، بیٹے، بھائی، چچا، ماموں سب کے ساتھ مادر زاد ننگی نماز پڑھے تو نماز صحیح ہے۔“

بدور الاہلہ ص39

یہ نہ سمجھیں کہ یہ مجبوری کے مسائل ہوں گے۔ علامہ وحید الزماں فرماتے ہیں:

”کپڑے پاس ہوتے ہوئے بھی ننگے نماز پڑھیں تو نماز صحیح ہے۔“

نزل الابرار ج1 ص65

آلہ تناسل کو ہاتھ لگواناجائز

غیر مقلدین کے شیخ الکل فی الکل میاں نذیر حسین دہلوی لکھتے ہیں:

”ہر شخص اپنی بہن، بیٹی اور بہو سے اپنی رانوں کی مالش کروا سکتا ہے، اور بوقت ضرورت اپنے آلہ تناسل کو بھی ہاتھ لگوا سکتا ہے۔“

فتاویٰ نذیریہ ج3 ص176

وطی فی الدبر جائز

پیچھے کے راستے صحبت کرنا غیر مقلدین کے نزدیک جائز ہے۔ غسل بھی واجب نہیں۔

معروف غیر مقلد عالم نواب صدیق حسن خان لکھتے ہیں:

”شرمگاہ کے اندر جھانکنے کے مکروہ ہونے پر کوئی دلیل نہیں۔“

بدور الاہلہ ص175

آگے لکھتے ہیں:

”رانوں میں صحبت کرنا اور دبر (پیچھے کے راستے) میں صحبت کرنا جائز ہے۔ کوئی شک نہیں بلکہ یہ سنت سے ثابت ہے۔“ (معاذ اﷲ)

بدور الاہلہ ص175

اور مشہور غیر مقلد عالم علامہ وحید الزماں لکھتے ہیں:

”بیویوں اور لونڈیوں کے غیر فطری مقام کے استعمال پر انکار جائز نہیں۔“

ہدیہ المہدی ج1 ص118

آگے لکھتے ہیں:

”دبر (پیچھے کے راستے) میں صحبت کرنے سے غسل بھی واجب نہیں ہوتا۔“

ہدیۃ المہدی ص34

علامہ وحید الزماں نے ایک عجیب و غریب مسئلہ غیر مقلدین کے لیے یہ بھی بیان کیا ہے کہ ”خود اپنا آلہ تناسل اپنی ہی دبر میں کسی نے داخل کیا تو غسل واجب نہیں۔“

نزل الابرار ج1 ص41

متعہ جائز

غیر مقلدین کے نزدیک متعہ جائز ہے۔

علامہ وحید الزماں خاں لکھتے ہیں:

”متعہ کی اباحت (جائز ہونا) قرآن کی قطعی آیت سے ثابت ہے۔“

نزل الابرار ج2 ص3

زنا جائز

غیر مقلدین کے نزدیک زنا جائز ہے، کوئی حد بھی نہیں:

معروف غیر مقلد عالم نواب نور الحسن خان لکھتے ہیں۔

”جن کو زنا پر مجبور کیا جائے ان کو زنا کرنا جائز ہے اور کوئی حد واجب نہیں۔ عورت کی مجبوری تو ظاہر ہے۔ مرد بھی اگر کہے کہ میرا ارادہ نہ تھا مگر مجھے قوت شہوت نے مجبور کیا تو مان لیا جائے گا اگرچہ ارادہ زنا کا نہ ہو۔“

عرف الجادی ص208

ماں، بہن، بیٹی کا جسم دیکھنا جائز

مشہور غیر مقلد عالم نواب نور الحسن خان لکھتے ہیں:

”ماں، بہن، بیٹی وغیرہ کی قبل و دبر (یعنی اگلی اور پچھلی شرمگاہ) کے سوا پورا بدن دیکھنا جائز ہے۔“

عرف الجادی ص52

غیر عورت کا داڑھی والے مرد کو دودھ پلانا جائز

علامہ وحید الزماں لکھتے ہیں:

”جائز ہے کہ عورت غیر مرد کو اپنا دودھ چھاتیوں سے پلائے اگرچہ وہ مرد داڑھی والا ہو تاکہ ایک دوسرے کو دیکھنا جائز ہو جائے۔“

نزل الابرار ج2 ص77

چار سے زائد نکاح جائز

غیر مقلدین کے نزدیک آدمی ایک وقت میں چار سے زائد بیویاں رکھ سکتا ہے۔

نواب صدیق حسن خان لکھتے ہیں:

”چار کی کوئی حد نہیں جتنی عورتیں چاہیں نکاح میں رکھ سکتا ہے۔“

ظفر الامانی ص141

اپنی ہی بیٹی سے نکاح جائز

غیر مقلدین کے نزدیک اپنے نطفے سے پیدا شدہ بیٹی سے نکاح جائز ہے:

نواب نور الحسن خان لکھتے ہیں۔

”اگر کسی عورت سے زید نے زنا کیا اور اسی زنا سے لڑکی پیدا ہوئی تو زید خود اپنی بیٹی سے نکاح کر سکتا ہے۔“

عرف الجادی ص109

علامہ وحید الزماں لکھتے ہیں:

”ایک عورت سے تین مرد باری باری صحبت کرتے رہے اور ان تینوں کی صحبت سے لڑکا پیدا ہوا تو لڑکے پر قرعہ اندازی ہو گی۔ جس کے نام پر قرعہ نکل آیا اس کو بیٹا مل جائے گا اور باقی دو کو یہ بیٹا لینے والا دو تہائی دیت دے گا۔“

نزل الابرار ج2 ص75

غیر مقلدین کے لیے بہترین عورت

غیر مقلدین کے نام نہاد علامہ وحید الزماں بہترین عورت کی پہچان کراتے ہوئے لکھتے ہیں:

”بہتر عورت وہ ہے جس کی فرج (شرمگاہ) تنگ ہو اور جو شہوت کے مارے دانت رگڑ رہی ہو اور جو جماع کراتے وقت کروٹ سے لیٹتی ہو۔“

لغات الحدیث پ6 ص156

شرمگاہ کا محل قائم رکھنے کا نسخہ

غیر مقلدین کے شیخ الکل فی الکل میاں نذیر حسین دہلوی لکھتے ہیں:

”عورت کو زیر ناف بال استرے سے صاف کرنے چاہییں۔ اکھاڑنے سے محل (شرمگاہ کا مقام) ڈھیلا ہو جاتا ہے۔“

فتاویٰ نذیریہ ج2 ص526

علامہ وحید الزماں لکھتے ہیں:

”خنزیر پاک ہے، خنزیر کی ہڈی، پٹھے، کھر، سینگ اور تھوتھنی سب پاک ہیں۔“

کنز الحقائق ص13

خنزیر ماں کی طرح پاک

علامہ صدیق حسن خان لکھتے ہیں:

”خنزیر کے حرام ہونے سے اس کا ناپاک ہونا ہر گز ثابت نہیں ہوتا جیسا کہ ماں حرام ہے مگر ناپاک نہیں۔“

بدور الاہلہ ص16

خنزیر کا جھوٹا اور کتے کا پیشاب پاخانہ پاک

غیر مقلدین کے محدث روپڑی صاحب لکھتے ہیں:

”آلت (آلہ تناسل) بمنزلہ گردن رحم کے ہے اور خصیتین بمنزلہ پچھلے رحم کے ہیں۔ پچھلا حصہ رحم کا ناف کے قریب سے شروع ہوتا ہے اور گردن رحم کی عورت کی شرمگاہ میں واقع ہوتی ہے۔ جیسے ایک آستین دوسرے آستین میں ہو۔ گردنِ رحم پر زائد گوشت لگا ہوتا ہے۔ اس کو رحم کا منہ کہتے ہیں اور یہ منہ ہمیشہ بند رہتا ہے۔ ہم بستری کے وقت آلت کے اندر جانے سے کھلتا ہے یا جب بچہ پیدا ہوتا ہے۔

قدرت نے رحم کے منہ میں خصوصیت کے ساتھ لذت کا احساس رکھا ہے۔ اگر آلت اس کو چھوئے تو مرد و عورت دونوں محفوظ ہوتے ہیں، خاص کر جب آلت اور گردنِ رحم کی لمبائی یکساں ہو تو یہ مرد عورت کی کمال محبت اور زیادتی لذت اور قرارِ حمل کا ذریعہ ہے۔

غیر مقلدین کے محدث اعظم حافظ عبد اﷲ روپڑی لکھتے ہیں:

”اور ہم بستری کی بہتر صورت یہ ہے کہ عورت چت لیٹی ہو اور مرد اوپر ہو۔ عورت کی رانیں اٹھا کر بہت سی چھیڑ چھاڑ کے بعد جب عورت کی آنکھوں کی رنگت بدل جائے اور اس کی طبیعت میں کمال جوش آ جائے اور مرد کو اپنی جانب کھینچے تو اس وقت دخول کرے۔ اس سے مرد عورت کا پانی اکٹھے نکل کر عموماً حمل قرار پاتا ہے۔“

بحوالہ اخبارِ محمدی، 15 جنوری 1939ئ، ص13، کالم نمبر3

قارئین یہ تھے حافظ عبداﷲ روپڑی کے قرآنی معارف، معروف غیر مقلد عالم مولانا محمد جونا گڑھی نے بھی یہ معارف اپنے ”اخبار محمدی“ میں نقل کیے اور عنوان دیا:

”عبداﷲ روپڑی‘ ایڈیٹر تنظیم کے معارفِ قرآنی، اسے کوک شاستر کہیں یا لذت النساء یا ترغیت بدکاری؟“

مولانا جونا گڑھی کا ان معارف قرآنی پر تبصرہ

ان معارف قرآنی پر تبصرہ کرتے ہوئے معروف غیر مقلد عالم محمد جونا گڑھی، غیر مقلدین کے مفسر قرآن اور محدث ذی شان حافظ عبداﷲ روپڑی کے بارے میں لکھتے ہیں:

”روپڑی نے معارف قرآن بیان کرتے ہوئے رنڈیوں اور بھڑووں کا ارمان پورا کیا اور تماش بینوں کے تمام ہتھکنڈے ادا کیے۔“

اخبارِ محمدی، 15؍اپریل 1939ئ، ص13

مولانا جونا گڑھی کی مہذب زبان

قارئین محمد جونا گڑھی صاحب کی ”مہذب“ زبان کا نمونہ آپ نے ملاحظہ فرمایا۔ افسوس کہ آج سعودیہ میں جو اردو ترجمہ قرآن تقسیم ہو رہا ہے وہ انہیں شیخ محمد جونا گڑھی کا ہے۔
  
       
🔮 اس طرح کی بے سر و پا کے عقائد و مسائل غیر مقلدوں کی سیکڑوں کتب ورسائل میں موجود ہیں اور ہر ایک کی ان کتابوں تک رسائی بآسانی ممکن نہیں کیونکہ وہ ممکن حد تک علماء اہلسنت سے چھپاتے اور عوام میں مفت تقسیم کرتے ہیں بہرحال اتنے ہی مسائل رذیلہ  اور عقائد باطلہ کو دیکھنے کے بعد ایک اسلامی اسکالر یہ فیصلہ کر لے جائے گا کہ یہ وہابی عقائد و مسائل اسلامی ہیں یا یہودی فطرت ہیں یقینا ان عقائد و مسائل کا قرآن و حدیث سے کوسوں دور کا بھی واسطہ نہیں ہے بلکہ سچائی یہ ہے کہ یہ یہودیوں کی سازش ہے جو مسلمانوں کے بیچ گھس کر  اس طرح کے خبیث گندے عقائد کو پھیلا رہے ہیں اور اپنا نام اہلحدیث رکھ کر صرف اپنی حقیقت یہودیت کو چھپانا چاہتے ہیں ورنہ سارا کام تو وہی کر رہے ہیں جو یہودی ہی کر سکتے ہیں

📌ــــــــــــــــــ✿📍✿ـــــــــــــــــــ 📌

📿4📿دیوبندیوں کے عقائد و حکم شرع

👈وہابی دیوبندی مذھب کے باطل عقائد و نظریات انہیں کی کتابوں سے👇

🕹مولوی  اشرف علی تھانوی اپنی کتاب حفظ الایمان میں لکھتا ہے کہ : پھر یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا اگر بقول زید صحیح ہوتو دریافت طلب یہ امر ہے کہ غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل غیب ۔اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی کیا تخصیص ہے ۔ایسا علم غیب تو زید وعمر و بلکہ ہر صبی (بچہ )مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کے لئے بھی حاصل ہے 

📚✒۔(حفظ الایمان ص8کتب خانہ اشرفیہ راشد کمپنی دیوبند مصنف :اشرف علی تھانوی )

 تھانوی صاحب کی اس کفری عبارت کا صریح معنی یہی ہے کہ جو بعض علم غیب   سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ خصوصیت نہیں ایسا علم  غیب تو کلو بدھو نتھو خیرو کو بلکہ ہر ایک بچے ہر ایک پاگل کو بلکہ ہر ایک جانور کو بھی حاصل ہے 

👈دیکھو مسلمانوں دیوبندی پیشوا اشرف علی تھانوی کو کہ جس نے ہمارے نبی آقا و مولیٰ پیارے مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم پاک کو بچوں پاگلو جانوروں کے برابر بتا کر کس طرح ہمارے حضور کی توہین کیا اور اب تک کر رہے ہیں بھلا ایسے لوگ مسلمان ہو سکتے ہیں ہرگز نہیں

🕹بانی دیوبند علامہ محمد قاسم نانوتوی اپنی کتاب تحذیر الناس میں لکھتے ہیں کہ : اگر بالغرض زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی کوئی نبی پیدا ہوتو پھر بھی خاتمیت محمد ی صلی اللہ علیہ وسلم میں کچھ فرق نہیں آئیگا ۔

📚✒( تحذیر النّاس ،صفحہ نمبر 34دارالاشاعت مقابل مولوی مسافر خانہ کراچی ، مصنف :قاسم نانوتوی)

 اس کفری عبارت کا مطلب بھی صاف ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی جدید نبیوں نئے پیغمبروں کے پیدا ہونے سے حضور کے خاتم النبیین ہونے میں کچھ خلل نہیں پڑھ سکتا حالانکہ اگر فرض کرلیا جائے کہ حضور کے بعد بھی دوسرا نبی ہوسکتا ہے تو پھر حضور آخر الانبیاء کیسے قرار پائیں گے اور حضور کو آخری الانبیاء نہ تسلیم کرنا قرآن و حدیث دونوں کا انکار ہے اور کفر صریح  ہے جس کا قائل یقینا  کافر ہے

📚✒(تفصیل کیلئے دیکھیں سنی دیوبندی اختلافات کا مصنفانہ جائزہ صفحہ 58  علامہ شریف الحق امجدی رحمتہ اللہ علیہ)

🕹مولوی خلیل احمد انبیٹھوی دیوبندی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ : شیطان وملک الموت کا حال دیکھ کر علم محیط زمین کا فخر عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو خلاف نصوص قطعیہ کے بلادلیل محض قیاسِ فاسدہ سے ثابت کرنا شرک نہیں تو کونسا ایمان کاحصّہ ہے شیطان وملک الموت کو یہ وسعت نص سے ثابت ہوئی ۔
فخر عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی وسعت علم کی کونسی نص قطعی ہے کہ جس سے تمام نصوص کو رد کرکے ایک شرک ثابت کرتا ہے ۔

📚✒(براہین قاطعہ صفحہ نمبر 51مطبوعہ بلال ڈھور ،مصنف :مولوی خلیل احمد ابنیٹھوی مصدّقہ ،مولوی رشیداحمد گنگوہی)

براہین قاطعہ کی اس کفریہ عبارت کا کھلا ہوا اور واضح مطلب صرف یہی ہے کہ 

🔮شیطان کے لیے اور فرشتئہ موت کے لئے علم کا زیادہ ہونا قرآن و حدیث سے ثابت ہے 

🔮 لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے علم کا زیادہ ہونا قرآن و حدیث سے ثابت نہیں 

🔮جو شخص فرشتئہ موت کے لیے اور شیطان لعین کے لئے وسیع اور زائد علم مانے وہ مسلمان ہے 

🔮لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کو وسیع اور زائد ماننے والا مشرک بے ایمان ہے (معاذاللہ رب العالمین) 

👈مسلمانوں! دیکھو  دیوبندیوں کے پیشواؤں کو کہ وہ لوگ  ہمارے آقا و مولیٰ پیارے مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں  کیسی توہین کر رہے ہیں کہ ہمارے آقا کے علم کو شیطان کے علم سے گھٹا  رہے ہیں

🕹 مولوی خلیل احمد انبیٹھوی کی اس کتاب کی تصدیق دیوبندی مولوی رشید احمد گنگوہی نے  کی ہے۔

🕹مولوی رشید احمد گنگوہی صاحب سے سوال ہوا کہ ایک شخص وقوع کذب  باری کا قائل ہے یعنی معاذ اللہ وہ کہتا ہے  کہ خدا تعالی جھوٹ بولا تو ایسا شخص مسلمان ہے یا کافر مولوی رشید احمد گنگوہی نے جواب دیا اگر اس شخص نے تاویل الایات میں خطا کی مگر تاہم اس کو کافر کہنا یا بدعتی  کہنا نہیں چاہیے 

اور کچھ آگے اس پر دلیل فاسد پیش کرتے ہوئے لکھا 

لہذا وقوع کذب کے معنی درست ہوگئے  اس شخص کو کوئی سخت کلمہ نہ کہنا چاہئے لہذا اس کو تضلیل و تفسیق سے مامون کرنا چاہیے  

📚✒دستخطی و مہری فتوی منقول در رد شہاب ثاقب ص 286
بحوالہ سوانح اعلی حضرت ص 231
سنی دیوبندی اختلافات کا جائزہ ص 133 


🕹اس فتوی کا صاف مطلب یہی ہے کہ جو شخص کہے کہ خدا جھوٹا ہے خدا جھوٹ بولا معاذاللہ 

مولوی رشید گنگوہی کے نزدیک سنی مسلمان ہے اسے گمراہ اور فاسق بھی نہ کہنا چاہیے حالانکہ علماء اسلام فرماتے ہیں کہ اللہ کہنے والا کافر ہے اور جو اسے کافر نہ مانے وہ خود کافر ہے

📚✒ دیکھئے فتاویٰ حسام الحرمین

📌ــــــــــــــــــ✿📍✿ـــــــــــــــــــ 📌

         🔮🕹نیز حکم شرع🕹🔮

🕹سرکار اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان قادری بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ نے سن 1320ہجری میں المعتمدالمستند( شرح المعتقد المنتقد) کے اندر دیوبندیوں کے ان چاروں بڑے پیشواؤں  مولوی اشرف علی تھانوی مولوی خلیل احمد امبیٹھوی مولوی قاسم نانوتوی مولوی رشید احمد گنگوہی  اور مرزا غلام احمد قادیانی پر ان کے انھیں عقائد کفریہ التزامیہ کے سبب کفر کا  فتویٰ دیا پھر جب آپ سن 1323 ھجری کعبہ معظمہ اور مدینہ طیبہ کی زیارت کے لئے حاضر ہوئے تو آپ نے اسی فتوی کو علماء حرمین و طیبین  کے سامنے پیش کیا دونوں مقدس شہروں کے بڑے بڑے علمائے کرام و فقہائے عظام نے اعلی حضرت کے اس فتوی کی تصدیق کرتے ہوئے چاروں دیوبندی پیشواؤں تھانوی، انبیٹھوی ،گنگوہی، نانوتوی کو اور مرزا غلام احمد قادیانی کو کافر و مرتد قرار دیا اور لکھا کہ جو شخص دیوبندیوں قادیانیوں کے کفریہ عقیدہ پر مطلع ہونے کے باوجود انہیں کافر نہ مانے یا ان کے کافر ہونے میں شک کرے وہ خود کافر ہے  علمائے حرمین طیبین کی تصدیقات کو اعلی حضرت کے فتاویٰ کے ساتھ کتابی شکل میں اکٹھا کیا گیا اور اس کا نام  حسام الحرمین رکھا گیا👇

👈ایسے ہی بدعقیدے والوں کے متعلق

📚سرکار اعلی حضرت امام احمدرضا خان  فاضل بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں کہ 👇👇

🕹وہابی دیوبندی نیچری قادیانی اپنے کفری  عقائد کے بناء پر کافر و مرتد ہیں جو ان کے کفریات پر مطلع ہونے کے باوجود انھیں کافر نہ مانے یا ان کے کافر ہونے میں شک کرے وہ بھی کافر ہے 

🔮حسام الحرمین ص 32/50🔮

🕹وہابیوں دیوبندیوں سے دوستی کرنا حرام ہے اور ان سے دلی دوستی یا قلبی محبت کفر ہے 

🔮فتاویٰ رضویہ جلد 6 ص 91/92 🔮

🔮تمہید ایمان صفحہ نمبر 9🔮

🕹جو شخص ان لوگوں سے میل جول رکھتا ہے اس پر اندیشہ کفر ہے ایسے شخص کو مرتے وقت کلمہ نصیب ہونا دشوار ہے

🔮 فتاویٰ رضویہ جلد 9 ص 311🔮

🕹دیوبندی عقیدے والوں کی پیچھے نماز بالکل باطل ہے نماز ہوگی ہی نہیں فرض سر پر رہے گا اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے کا سخت گناہ  بھی سر پر آئے گا 

🔮فتاویٰ رضویہ جلد 3 ص 235🔮

🕹 اور بغیر عذر شرعی ان کے ساتھ نماز پڑھنا بھی حرام ہے

🔮فتاویٰ رضویہ ج 6ص91ص531🔮

🔮فتاوی رضویہ جلد 3 صفحہ225🔮

🕹جسے یہ معلوم ہو کہ دیوبندیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی ہے پھر بھی ان کے پیچھے نماز پڑھتا ہے تو اسے مسلمان نہ کہا جائے گا کیونکہ ان کے پیچھے نماز پڑھنا اس کی ظاہر دلیل ہے کہ ان لوگوں کو مسلمان سمجھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرنے والے کو مسلمان سمجھنا کفر ہے 

🔮فتاویٰ رضویہ ج6 ص 76ص109🔮

📚حدیث پاک میں ہے انظرو اعمن تاخذون دینکم یعنی جس سے اپنے دین کا علم حاصل کرو اسے دیکھ لو کہ گمراہ بدمذہب تو نہیں

اسی کے متعلق اعلی حضرت احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں کہ 

🕹وہابی دیوبندی مولویوں سے یا کسی بھی بے دین سے علم دین سیکھنا اور ان کو اپنا استاد بنانا ہرگز جائز نہیں ہے اسی طرح ان سے دینی مسئلہ پوچھنا بھی ناجائز و حرام ہے 

🔮فتاویٰ رضویہ ج3ص246ص247 🔮

🔮فتاویٰ  رضویہ  جلد  5 ص 333 🔮

🔮فتاویٰ امجدیہ جلد 3 ص 251🔮

🕹وہابیوں دیوبندیوں کو دعوت کھلانا یا ان کی دعوت کھانا دونوں باتیں ناجائز ہیں

🔮فتاویٰ رضویہ دہم نص آخر ص39🔮

خلاصہ کلام یہ ہے کہ  دیوبندی مذہب کے پیشواؤں کے بارے میں علماء عرب و عجم حل و حرم و ہند و سندھ کی نے اتفاق رائے سے فرمایا کہ یہ مرتد ہیں اور جو ان کے کفریہ عقائد جانتے ہوئے ان کو مسلمان مانے یا ان کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر و مرتد ہے اسی لئے ان سے میل جول رکھنا ان کے ساتھ کھانا کھانا پانی پینا ان کے یہاں شادی بیاں کرنا ان سے چندہ لینا انہیں اپنی کمیٹی کا ممبر بنانا ان کے نماز جنازہ میں شرکت کرنا انہیں سلام کرنا حرام و گناہ ہے 👇

📗🖋حدیث شریف میں ہے ایاکم وایاھم لا یضلونکم ولا یفتندنکم ان مرضوا فلا تعودوھم وان ناروا فلا تشھدوھم وان لقیتموھم فلا تسلموا علیھم لا تجالسوھم ولا تشاربوھم ولا تواکلوا ھم ولا تناکحوھم یعنی ان سے الگ رہو انہیں اپنے سے دور رکھوں کہیں وہ تمہیں بہکا نہ دے وہ تمہیں فتنے میں نہ ڈال دیں وہ بیمار پڑیں تو پوچھنے نہ جاؤ مر جائیں  تو جنازے پر حاضر نہ ہو جب انہیں ملو تو سلام نہ کرو ان کے پاس نہ بیٹھو ساتھ پانی نہ پیو ساتھ کھانا نہ کھائو شادی بیاہ نہ کرو  یہ حدیث مسلم ابو داؤد ابن ماجہ اور عقیلی کی روایات کا مجموعہ ہے 👇

📙✒انوارالحدیث صفحہ 103 

📘🖋فتاوی مرکز تربیت افتا ج2ص90
     
📚اللہ تعالی فرماتا ہے و اما ینسینک الشیطان فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظالمین یعنی اور اگر تجھے شیطان بھلا دے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ

📌ــــــــــــــــــ✿📍✿ـــــــــــــــــــ 📌

      *(🌺واللہ اعلم بالصواب🌺)* 

📌ــــــــــــــــــ✿📍✿ـــــــــــــــــــ 📌

*✍ کتبہ: ابو محمد بدرالکمال رضا، جلال الدین احمد امجدی رضوی نائےگائوں ضلع ناندیڑ  مہاراشٹرا مدرس جامعہ قادریہ رضویہ ردرور منڈل ضلع نظام آباد تلنگانہ الھند ـ*
*(بتاریخ ۷/ اگسٹ بروز جمعرات  ۲۰۱۹/ عیسوی)*
*( موبائل نمبر 📞8390418344📱)*

📌ــــــــــــــــــ✿📍✿ـــــــــــــــــــ 📌
[4/18, 1:52 AM] Qari Saheb: 🌹قوانین تحفظ ناموسِ رسالت 🌹
1مسلک اعلیٰ حضرت پر سختی سے کاربند رہنا 

2تعلمات اعلیٰ حضرت آسان کر عوام اہلسنت کے سامنے پیش کر نا
3علمائےاہلسنت کاادب خاطر ملحوظ رکھنا 

4عصرحاضر کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال صرف اور صرف علمائے کرام کا کرنا اور اس میں بھی اپنے مسلک کا خیال رکھنا 

5ماضی قریب کے تمام اختلافات  کو بالائے طاق رکھ کر مسلک امام احمد رضا کوفروغ دینا 

6دینی پوسٹر ویڈیوز کے علاوہ دنیاوی پوسٹ مثلاً ٹک ٹوک تصاویر جاندار ارسال نہ کرنا 

7اردو پوسٹ ہی ارسال کرنا اردو ٹائپنگ کرنا 

8آپسی معاملات پرسنل نمبر پرکرنا

9مسائل شرعیہ کے لئے علمائے کرام سے رجوع کرنا 

10وہابیہ دیابنہ دشمن خداورسول کی تردید کرنا تحریر سے یاتقریر سے

11ایک پوسٹ صرف ایک بار ارسال کرنا ایک دن میں ایک پوسٹ مختصر ارسال کر نا

12ملکی آئین یا حکومت کے خلاف پوسٹ ارسال نہ کرنا 
برعکس پوسٹ کرنے والا خود مختار ہوگا جواب کے لیے 

نوٹ. جو حضرات اردو لکھنے پڑھنے سے قاصر ہوں ان کواجازت ہے ہندی انگریزی میں بھی پوسٹ کرسکتے ہیں 
Muhammad IBRAHEEM:
📝 *فیضان خلاصہ تراویح*📝

✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی*

👑 *پارہ 16،قَالَ اَلَمْ*

📢 پارہ 15 کے خلاصے کے آخر میں بیان کیا گیا تھا کہ موسی علیہ السلام خضر علیہ السلام کے پاس پہنچے تھے، اور ان کے درمیان کچھ گفتگو ہوئی جو 15ویں پارے کے آخر سے شروع ہوتی ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام   نے حضرت خضر علیہ السلام سے کہا: کیا اس شرط پر میں آپ کے ساتھ رہوں کہ آپ مجھے وہ درست بات سکھا دیں جو آپ کو سکھائی گئی ہے، حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا: آپ میرے ساتھ ہرگز نہ ٹھہر سکیں گے۔حضرت خضر علیہ السلام نے اس کی وجہ خود ہی بیان فرما دی اور فرمایا ’’ اور آپ اس بات پر کس طرح صبر کریں گے جسے آپ کا علم محیط نہیں اور ظاہر میں  وہ منع ہیں۔حضرت خضر علیہ السلام  نے فرمایاکہ اگر آپ کو میرے ساتھ رہنا ہے تو آپ میرے کسی ایسے عمل کے بارے میں  مجھ سے سوال نہ کرنا جو آپ کی نظر میں  ناپسندیدہ ہو جب تک میں  خود آپ کے سامنے اس کا ذکر نہ کردوں۔
 حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کشتی کی تلاش میں ساحل کے کنارے چلنے لگے۔جب ان کے پاس سے ایک کشتی گزری تو کشتی والوں نے حضرت خضر علیہ السلام کو پہچان کر بغیر معاوضہ کے سوار کرلیا، جب کشتی سمندر کے بیچ میں پہنچی تو حضرت خضر علیہ السلام نے کلہاڑی کے ذریعے اس کا ایک تختہ یا دو تختے اکھاڑ ڈالے۔ یہ دیکھ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام خاموش نہ رہ سکے اور فرمایا: کیا تم نے اس کشتی کو اس لیے چیر دیا تاکہ کشتی والوں کو غرق کردو، بیشک یہ تم نے بہت برا کام کیا۔ حضرت خضر علیہ السلام  نے ان سے فرمایا: کیا میں نہ کہتا تھا کہ آپ میرے ساتھ ہرگز نہ ٹھہر سکیں گے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے معذرت  فرمائی کہ میں  آپ سے کیا وعدہ بھول گیا تھا لہٰذا اس پر میرا مواخذہ نہ کریں۔ 
 کشتی سے اتر کر وہ دونوں  چلے اور ایک ایسے مقام پر گزرے جہاں  لڑکے کھیل رہے تھے۔ وہاں  انہیں  ایک لڑکا ملا جوکافی خوبصورت تھا اور حدِ بلوغ کو نہ پہنچا تھا۔ بعض مفسرین نے کہا وہ لڑکا جوان تھا اور رہزنی کیا کرتا تھا۔حضرت خضر علیہ السلام نے اسے قتل کردیا۔ یہ دیکھ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پھر نہ رہا گیا اور آپ نے فرمایا: کیا تم نے کسی جان کے بدلے کے بغیر ایک پاکیزہ جان جس کا کوئی گناہ ثابت نہ تھا کو قتل کردیا؟ بیشک تم نے بہت ناپسندیدہ کام کیا ہے۔جب حضرت موسیٰ علیہ السلام  نے حضرت خضر علیہ السلام  کے فعل پر کلام فرمایا تو آپ علیہ السلام نے کہا: اے موسیٰ! علیہ السلام  ، میں نے آپ سے نہ کہا تھا کہ آپ ہرگز میرے ساتھ نہ ٹھہر سکیں گے۔حضرت خضر علیہ السلام کی بات کے جواب میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اگر اس مرتبہ کے بعد میں آپ سے کسی شے کے بارے میں سوال کروں     تو پھر مجھے اپنا ساتھی نہ رکھنا اگرچہ میں آپ کے ساتھ رہنے کا تقاضا کروں اور جب میں  تیسری بار ایسا کروں تو بیشک اس صورت میں میری طرف سے آپ    کے ساتھ نہ رہنے میں آپ کا عذر پورا ہوچکا۔
اس گفتگو کے بعد حضرت خضر علیہ السلام  اور حضرت موسیٰ علیہ السلام چلنے لگے یہاں تک کہ جب ایک بستی والوں کے پاس آئے توان حضرات نے اس بستی کے باشندوں  سے کھانا مانگا، انہوں نے ان دونوں کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کردیا۔ پھر دونوں نے اس گاؤں میں ایک دیوار پائی جو گرنے والی تھی تو حضرت خضر علیہ السلام  نے اپنے دستِ مبارک سے اسے سیدھا کردیا۔ یہ دیکھ کرحضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: اگر آپ چاہتے تو اس دیوار کو سیدھی کرنے پر کچھ مزدوری لے لیتے کیونکہ یہ ہماری حاجت کا وقت ہے اور بستی والوں     نے ہماری کچھ مہمان نوازی نہیں کی، اس لئے ایسی حالت میں ان کا کام بنانے پر اجرت لینا مناسب تھا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام  کی طرف سے تیسری مرتبہ اپنے فعل پر کلام سن کر حضرت خضر علیہ السلام نے ان سے فرمایا ’’ یہ میری اور آپ  علیہ السلام کی جدائی کا وقت ہے۔ اب میں جدا ہونے سے پہلے آپ علیہ السلام کو ان باتوں کا اصل مطلب بتاؤں گا جن پر آپ علیہ السلام صبر نہ فرما سکے اور اُن کے اندر جو راز تھے ان کا اظہار کردوں گا۔
حضرت خضر علیہ السلام ے اپنے افعال کی حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے فرمایا ’’وہ جو میں  نے کشتی کا تختہ اکھاڑا تھا، اس سے میرا مقصد کشتی والوں  کو ڈبو دینا نہیں  تھا بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ کشتی دس مسکین بھائیوں  کی تھی، ان میں  پانچ تو اپاہج تھے جو کچھ نہیں  کرسکتے تھے اور پانچ تندرست تھے جو دریا میں  کام کرتے تھے اور اسی پر ان کے روزگار کا دارومدار تھا۔ ان کے آگے ایک بادشاہ تھا اور انہیں  واپسی میں  اس کے پاس سے گزرنا تھا، کشتی والوں  کو اس کا حال معلوم نہ تھا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ وہ ہرصحیح سلامت کشتی کو زبردستی چھین لیتا اور اگر عیب دار ہوتی تو چھوڑ دیتا تھا اس لئے میں  نے اس کشتی کو عیب دار کردیا تاکہ وہ ان غریبوں  کے لئے بچ جائے۔ 
اپنے دوسرے فعل کی حکمت بیان   کرتے ہوئے حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا کہ و

ہ لڑکا جسے میں نے قتل کیا تھا، اس کے ماں باپ مسلمان تھے تو ہمیں ڈر ہوا کہ وہ بڑا ہوکر انہیں    بھی سرکشی اور کفر میں ڈال دے گا اور وہ اس لڑکے کی محبت میں دین سے پھر جائیں اور گمراہ ہوجائیں گے، اس لئے ہم نے چاہا کہ ان کا رب اس لڑکے سے بہتر ،گناہوں    اور نجاستوں سے پاک اور ستھرا اور پہلے سے زیادہ اچھا لڑکا عطا فرمائے جو والدین کے ساتھ ادب سے پیش آئے، ان سے حسنِ سلوک کرے   اور ان سے دلی محبت رکھتا ہو۔ حضرت خضر علیہ السلام  کا یہ اندیشہ اس سبب سے تھا کہ وہ اللہ پاک کے خبر دینے کی وجہ سے اس لڑکے کے باطنی حال کو جانتے تھے۔ یہ بھی یاد رہے کہ ہمارے زمانے میں اگر کوئی ولی کسی کے ایسے باطنی حال پر مطلع ہوجائے کہ یہ آگے جا کر کفر اختیار کر لے گا اور دوسروں    کو کافر بھی بنا دے گا اور اس کی موت بھی حالتِ کفر میں ہوگی تو وہ ولی اس بنا پر اسے قتل نہیں کر سکتا، اللہ پاک نے انہیں اس کے بدلے ایک مسلمان لڑکا عطا کیا اور ایک قول یہ ہے کہ اللہ پاک نے انہیں ایک بیٹی عطا کی جو ایک نبی علیہ السلام کے نکاح میں آئی اور اس سے نبی علیہ السلام پیدا ہوئے جن کے ہاتھ پر اللہ پاک نے ایک اُمت کو ہدایت دی۔
حضرت خضر علیہ السلام نے اپنے تیسرے فعل یعنی دیوار سیدھی کرنے کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا ’’اور بہرحال دیوار کا جہاں تک تعلق ہے تو وہ شہرکے دو یتیم لڑکوں کی تھی جن کے نام اصرم اور صریم تھے اور اس دیوار کے نیچے ان دونوں کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک آدمی تھا تو اللہ پاک نے چاہا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچیں اور اُن کی عقل کامل ہوجائے اور وہ قوی و توانا ہوجائیں اور اپنا خزانہ نکالیں یہ سب اللہ پاک کی رحمت سے ہے اور جو کچھ میں نے کیا وہ میری اپنی مرضی سے نہ تھا بلکہ اللہ پاک  کے حکم سے تھا۔یہ ان باتوں کا اصل مطلب ہے جس پر آپ علیہ السلام  صبر نہ کرسکے۔

⁉️ اس کے بعد حضرت ذوالقرنین رضی اللہ عنہ کے سفر کا تذکرہ ہے۔
 حضرت ذوالقرنین رضی اللہ عنہ کے سفر کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ انہوں نے کتابوں میں دیکھا تھا کہ حضرت نوح علیہ السلام  کے بیٹے سام کی اولاد میں سے ایک شخص چشمۂ حیات سے پانی پئے گا اور اس کو موت نہ آئے گی۔ یہ دیکھ کر وہ چشمۂ حیات کی طلب میں مغرب و مشرق کی طرف روانہ ہوئے ، اس سفر میں آپ رضی اللہ عنہ  کے ساتھ حضرت خضر علیہ السلام بھی تھے، وہ تو چشمۂ حیات تک پہنچ گئے اور انہوں نے اس میں سے پی بھی لیا مگر حضرت ذوالقرنین رضی اللہ عنہ کے مقدر میں  نہ تھا اس لئے انہوں نے وہ چشمہ نہ پایا ۔ اس سفر میں  مغرب کی جانب روانہ ہوئے تو جہاں تک آبادی ہے وہ سب منزلیں طے کر ڈالیں اور مغرب کی سمت میں  وہاں تک پہنچے جہاں آبادی کا نام و نشان باقی نہ رہا ، وہاں انہیں سورج غروب ہوتے وقت ایسا نظر آیا گویا کہ وہ سیاہ چشمہ میں ڈوبتا ہے جیسا کہ دریائی سفر کرنے والے کو پانی میں ڈوبتا معلوم ہوتا ہے۔حضرت ذوالقرنین رضی اللہ عنہ نے اس چشمے کے پاس ہی ایک ایسی قوم کو پایا جو شکار کئے ہوئے جانوروں کے چمڑے پہنے تھے، اس کے سوا اُن کے بدن پر اور کوئی لباس نہ تھے اور دریائی مردہ جانور اُن کی غذا تھے۔ یہ لوگ کافر تھے۔اللہ پاک نے اِلہام کے طور پرفرمایا: اے ذوالقرنین! یا تو تُو انہیں سزا دے اور اُن میں سے جو اسلام میں  داخل نہ ہو اس کو قتل کردے یا اگر وہ ایمان لائیں تو ان کے بارے میں بھلائی اختیار کر اور انہیں اَحکامِ شرع کی تعلیم دے۔
حضرت ذوالقر نین نے اللہ پاک کی طرف سے حکم ملنے کے بعد کہا ’’بہرحال جس نے کفرو شرک اختیار کیا اور میری دعوت کو ٹھکرا کر ایمان نہ لایا تو عنقریب ہم اسے قتل کردیں گے، یہ تو اس کی دُنْیَوی سزا ہے ، پھر وہ قیامت کے دن اپنے رب کی طرف لوٹایا جائے گا تو وہ اسے جہنم کابہت برا عذاب دے گا اور جو ایمان لایا اور اس نے ایمان کے تقاضوں کے مطابق نیک عمل کیا تو اس کیلئے جزا کے طور پر بھلائی یعنی جنت ہے اور عنقریب ہم اس ایمان والے کو آسان کام کہیں گے اور اس کو ایسی چیزوں کا حکم دیں گے جو اس پر دشوار نہ ہوں۔پھر حضرت ذوالقرنین رضی اللہ عنہ مشرق کی طرف ایک راستے کے پیچھے چلے۔وہاں ایک قوم اس جگہ پر تھی جہاں ان کے اور سورج کے درمیان کوئی چیز پہاڑ درخت وغیرہ حائل نہ تھی اور نہ وہاں زمین کی نرمی کی وجہ سے کوئی عمارت قائم ہو سکتی تھی اور وہاں کے لوگوں کا یہ حال تھا کہ طلوعِ آفتاب کے وقت زمین کے اندر بنائے ہوئے تہ خانوں میں گھس جاتے تھے اور زوال کے بعد نکل کر اپنا کام کاج کرتے تھے۔
حضرت ذوالقرنین  رضی اللہ عنہ جب مشرق و مغرب تک پہنچ گئے تو اب کی بار انہوں نے شمال کی جانب سفر شروع فرمایا یہاں تک کہ وہ دو پہاڑوں کے درمیان تک جا پہنچے اور یہ سب اللہ پاک کی طرف سے عطا کردہ علم اور قدرت   کی وجہ سے واقع ہوا۔جب حضرت ذوالقرنین رضی اللہ عنہ شمال کی جانب ا س جگہ پہنچے جہاں انسانی آبادی ختم   ہو جاتی تھی تووہاں دو بڑے عالیشان پہاڑ دیکھے جن کے اُس طرف یاجوج ماجوج کی قوم آباد تھی جو کہ دو

پہاڑوں    کے درمیانی راستے سے اِس طرف آکر قتل و غارت کیا کرتی تھی۔ یہ جگہ ترکستان کے مشرقی کنارہ پر واقع تھی۔ یہاں حضرت ذوالقرنین رضی اللہ عنہ نے ایک ایسی قوم کو پایا جو کوئی بات سمجھتے معلوم نہ ہوتے تھے کیونکہ اُن کی زبان عجیب و غریب تھی اس لئے اُن کے ساتھ اشارہ وغیرہ کی مدد سے بہ مشقت بات کی جاسکتی تھی۔
حضرت ذوالقرنین رضی اللہ عنہ  سے لوگوں نے ان کی شکایت کی کہ وہ زمین میں فساد مچانے والے لوگ ہیں تو کیا ہم آپ کے لیے اس بات پر کچھ مال مقرر کردیں کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار بنادیں تاکہ وہ ہم تک نہ پہنچ سکیں اور ہم ان کے شر و اِیذا سے محفوظ رہیں۔
 آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ’’میرے پاس پتھر کے سائز کے لوہے کے ٹکڑے لاؤ ۔جب وہ لے آئے تواس کے بعد ان سے بنیاد کھدوائی ، جب وہ پانی تک پہنچی تو اس میں   پتھر پگھلائے ہوئے تانبے سے جمائے گئے اور لوہے کے تختے اوپر نیچے چن کر اُن کے درمیان لکڑی اور کوئلہ بھروا دیا اور آگ دے دی اس طرح یہ دیوار پہاڑ کی بلندی تک اونچی کردی گئی اور دونوں پہاڑوں کے درمیان کوئی جگہ نہ چھوڑی گئی، پھر اوپر سے پگھلایا ہوا تانبہ دیوار میں پلا دیا گیا تو یہ سب مل کر ایک سخت جسم بن گیا۔ جب حضرت ذوالقرنین رضی اللہ عنہ نے دیوار مکمل کر لی تو یاجوج اور ماجوج آئے اور انہوں نے اس دیوار پر چڑھنے کا ارادہ کیا تو اس کی بلندی اور ملائمت کی وجہ سے اس پر نہ چڑھ سکے، پھر انہوں نے نیچے سے اس میں سوراخ کرنے کی کوشش کی تو اس دیوار کی سختی اور موٹائی کی وجہ سے اس میں سوراخ نہ کر سکے۔حضرت ذوالقرنین رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ دیوار میرے رب کی رحمت اور اس کی نعمت ہے کیونکہ یہ یاجوج اور ماجوج کے نکلنے میں رکاوٹ ہے، پھر جب میرے رب کا وعدہ آئے گا اور قیامت کے قریب یاجوج ماجوج کے خُروج کا وقت آپہنچے گا تو میرا رب اس دیوار کو پاش پاش کردے گا اور میرے رب نے ان کے نکلنے کا جو وعدہ فرمایا ہے وہ اور اس کے علاوہ ہر وعدہ سچا ہے۔

📖 آخر میں اللہ پاک نے اس حقیقت کو بیان فرمایا کہ اگر سارے سمندر اور ان جیسے اور بھی آجائیں مل کر روشنائی بن جائیں تو میرے رب کے کلمات ختم ہونے سے پہلے ہی سمندروں کی روشناٸیاں ختم ہو جائیں گی.

🌳 *سوہ مریم*
سورۂ مریم مکہ مکرمہ میں  نازل ہوئی ہے۔
اس سورت میں6 رکوع اور  98 آیتیں ہیں ۔

*وجہ*
 اس سورت میں  حضرت مریم  رضی اللہ عنہا  کی عظمت ، آپ کے واقعات اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کا واقعہ بیان کیا گیاہے ،اس مناسبت سے اس سورت کانام ’’ سورۂ مریم‘‘ رکھا گیا ہے۔ 

 دیگر مکی سورتوں کی طرح اس میں بھی اللہ پاک کے وجود، توحید و رسالت اور آخرت میں اٹھنے اور اس کے بعد جزا ملنے کے ساتھ ساتھ بہت  سے انبیاء کرام علیہم السلام کے حالات بھی بیان ہوئے۔

🤲🏻  زکریا علیہ السلام کی اولاد کے حصول کے لیے رقت انگیز دعا کے ساتھ سورت کا آغاز ہوتا ہے جو بڑی عمر کو پہنچ چکے تھے اور بال بھی سفید ہوگئے تھے اور ان کی زوجہ کی کیفیت بھی ایسی تھی کہ بظاہر اولاد ہونا ممکن نظر نہیں آتا تھا، لیکن پھر بھی اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا فرماتے تھے،  چنانچہ آپ علیہ السلام کی دعا قبول ہوئی اور یحییٰ علیہ السلام جیسے نبی بیٹے کی ولادت کی خوشخبری سنائی گئی۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام کو اللہ پاک نے بچپن ہی میں نبوت عطا کی اور کتاب دی، آپ علیہ السلام متقی اور ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے والے تھے، اللہ پاک نے فرمایا کہ ان پر سلام ہو ان کی پیدائش کے دن، وفات کے دن اور جب قیامت کے دن انہیں اٹھایا جائے گا۔  
 
☄️ حضرات زکریا اوریحییٰ علیہما السلام کا قصہ بیان کرنے کے بعد اس سے بھی زیادہ  عجیب قصہ بیان کیا گیا اور وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کا واقعہ ہے۔ ایک مرتبہ حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہا تشریف فرما تھیں ایک شخص انکے سامنے ظاہر ہوا، وہ اسے انسان سمجھ کر اللہ کی پناہ مانگنے لگیں مگر اس نے بتایا کہ وہ انسان نہیں بلکہ ایک فرشتہ ہے اور  اللہ کے حکم سے بیٹے کی بشارت دینے آیا ہے، انہیں تعجب ہوا کہ شوہر کے بغیر کیسے بیٹا پیدا ہوگا اور میں ہوں  بھی پاکدامن، تو انہیں بتایا گیا کہ اللہ پاک کے لیے کوئی بات مشکل نہیں ہے ،وہ فرشتے جبراٸیل علیہ السلام تھے، مریم رضی اللہ تعالی عنہا پر حمل کے آثار ظاہر ہوئے تو ان کے دل میں ڈالا گیا کہ وہ قوم سے الگ ہوجائیں، جب ولادت کا درد شروع ہوا تو پریشان ہو کر کہنے لگیں کہ کاش تکلیف کا یہ وقت آنے سے پہلے ہی میں اس دنیا سے چلی جاتی۔ آپ رضی اللہ عنھا ویرانے میں کھجور کے خشک تنے کے سہارے بیٹھی ہوئی تھیں، جب حضرت مریم  رضی اللہ عنھا نے درد کی شدت سے مرنے کی تمنا کی تو اس وقت حضرت جبرئیل  علیہ السلام  نے وادی کے نیچے سے پکارا کہ غم نہ کرو، اللہ پاک نے آپ کے لیے آپ کے قریب ایک نہر بنا دی ہے۔حضرت مریم! رضی اللہ عنھا ، سے کہا گیا کہ آپ جس سوکھے تنے کے نیچے بیٹھی ہیں اسے اپنی طرف حرکت دیں تو اس سے آپ پر عمدہ اور تا

زہ پکی ہوئی کھجوریں گریں گی۔
 حضرت مریم  رضی اللہ عنہا  سے فرمایا گیا کہ آپ کھجوریں   کھائیں  اور پانی پئیں اور اپنے فرزند حضرت عیسیٰ  علیہ السلام سے اپنی آنکھ ٹھنڈی رکھیں ، پھر اگر آپ کسی آدمی کو دیکھیں کہ وہ آپ سے بچے کے بارے میں دریافت کرتا ہے تو اشارے سے اسے کہہ دیں کہ میں نے آج رحمٰن کیلئے روزہ کی نذر مانی ہے تو آج ہرگز میں کسی آدمی سے بات نہیں کروں گی۔ حضرت مریم رضی اللہ عنہا کو خاموش رہنے کی نذر ماننے کا اس لئے حکم دیا گیا تاکہ کلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں اور ان کا کلام مضبوط حجت ہو جس سے تہمت زائل ہو جائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ بیوقوف کے جواب میں خاموش رہنا اور منہ پھیر لینا چاہئے کہ جاہلوں کے جواب میں خاموشی ہی بہتر ہے اور یہ بھی معلوم ہو اکہ کلام کو افضل شخص کے حوالے کر دینا اَولیٰ ہے۔ 
  یاد رہے کہ پہلے زمانہ میں    بولنے اور کلام کرنے کا بھی روزہ ہوتا تھا جیسا کہ ہماری شریعت میں    کھانے اور پینے کا روزہ ہوتا ہے، البتہ ہماری شریعت میں چپ رہنے کا روزہ منسوخ ہوگیا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے بعد حضرت مریم رضی اللہ عنہا انہیں اُٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس آئیں ، جب لوگوں    نے حضرت مریم رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ ان کی گود میں بچہ ہے تو وہ روئے اور غمگین ہوئے ، کیونکہ وہ صالحین کے گھرانے کے لوگ تھے اور کہنے لگے : اے مریم! بیشک تم بہت ہی عجیب و غریب چیز لائی   ہو۔ اے ہارون کی بہن! نہ تو تیرا باپ عمران کوئی برا آدمی تھا اور نہ ہی تیری ماں حنہ بدکار عورت تھی تو پھر تیرے ہاں یہ بچہ کہاں سے ہو گیا۔
جب لوگوں نے حضرت مریم رضی اللہ عنہا سے تفصیل   پوچھنی چاہی تو چونکہ آپ رضی اللہ عنہا  نے اللہ پاک کے حکم سے چپ کاروزہ رکھا ہوا تھا اس لئے آپ نے حضرت   عیسیٰ علیہ السلام کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ اگر کچھ پوچھنا ہے تواس بچے سے پوچھ لویہ جواب دے گا۔ اس پر لوگوں کو غصہ آیا اور انہوں نے کہا کہ جوبچہ ابھی پیدا ہوا ہے وہ کیسے ہم سے بات کرے گا! کیا تم ہم سے مذاق کر رہی ہو؟ یہ گفتگو سن کر حضرت عیسی علیہ السلام  نے دودھ پینا چھوڑ دیا اور بائیں  ہاتھ پر ٹیک لگا کر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے   اور سیدھے ہاتھ مبارک سے اشارہ کرکے بات کرنا شروع کی، آپ نے پہلا جملہ یہ ارشاد فرمایا میں اللہ کا بندہ ہوں، پھر آپ نے سلسلہ گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے مزید فرمایا کہ میں بابرکت رسول بنایا گیا ہوں مجھے نماز اور زکوۃ کے اہتمام کی تعلیم دے کر بھیجا گیا ہے میں تقوی کا پیکر اور والدہ کا فرمانبردار ہوں، اس گفتگو نے مریم رضی  اللہ تعالی عنہا کو پاکباز بھی ثابت کردیا اور اللہ پاک کی قدرت کو ثابت کر کے لوگوں کے تعجب میں بھی اضافہ کردیا۔

🌼 اس کے بعد اگلی آیتوں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اخلاق کریمہ اور اوصاف عالیہ پر بھی  بھرپور روشنی ڈالی گئی ہے، اس کے بعد مختلف انبیاء کرام علیہم السلام کا ذکر ہے، حضرات موسی و ہارون علیہما السلام کی نبوت اور کوہ طور پر اللہ سے ہم کلامی کا تذکرہ پھر حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نبوت و رسالت اور وعدے کی پاسداری اور نماز و زکوۃ کے اہتمام کا ذکر ہے، ساتھ ہی حضرت ادریس علیہ السلام کی صداقت و نبوت کا بھی تذکرہ موجود ہے. سورة کی آخری آیات میں انسان کے مرنے کے بعد دوبارہ زندگی کا تذکرہ کرتے ہوئے  قیامت کے منکرین کو بالکل واضح انداز میں بتا دیا گیا ہے کہ دنیا کے اندر  امتحان ہے اس کے بعد مرنا ہے مرنے کے بعد دوبارہ انسان کو اٹھایا جائے گا اور اس کے اعمال کا حساب ہوگا۔

🌹 *سورہ طہ*
سورۂ  طٰہٰ مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔
 اس میں8 رکوع اور  135آیتیں ہیں ۔ 

*وجہ*
طٰہٰ،  نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ناموں میں سے ایک نام ہے، اور اس سورت کی ابتداء  میں  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس نام سے نداء کی گئی اس مناسبت سے اس سورت کا نام ’’طٰہٰ‘‘ رکھا گیا ہے۔  

🔥 شروع میں حضرت موسی علیہ السلام کا قصہ  تفصیل کے ساتھ آیا ہے، اسی طرح  حضرت آدم علیہ السلام کا واقعہ کچھ تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ 
آیت نمبر 10 سے حضرت موسی علیہ السلام کے واقعے کی تفصیلات شروع ہوتی ہیں جب وہ اپنی زوجہ کے ساتھ مدین سے واپس ہوئے،  تو راستے میں موسی علیہ السلام کی زوجہ کو
درد زہ شروع ہوگیا اور پھر موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ مجھے سامنے سے ایک آگ نظر  آرہی ہے میں وہاں جاتا ہوں کچھ خبر لے کر آتا ہوں۔وہاں پر اللہ  پاک نے درخت پر تجلی فرمائی اور  موسی علیہ السلام کو نبوت کی خوشخبری ملی اسی موقع پر آپ کو عصا  اور ہاتھ کو روشن اور چمکدار بنانے کے معجزات عطا ہوئے اور آپ کو حکم ہوا کہ جاکر فرعون کو دعوت حق دیجئے۔

🤲🏻 آیت نمبر 25 سےعلیہ
میں موسی علیہ السلام کی دعا کا ذکر ہے کہ ”اے میرے رب میرے لئے میرا سینہ کشادہ  فرمادے، میرے لئے میرا کام آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ وہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں“، پھر اللہ کی بارگاہ میں عرض کی کہ می

رے خاندان میں سے میرے بھائی ہارون علیہ السلام کواس معاملے میں میرا وزیر بنا دے اور میرے ساتھ کر دے تاکہ مجھے کچھ تقویت مل جائے۔


🌱 اگلی آیات میں موسی علیہ السلام کی پیداٸش کے وقت کے حالات کا ذکر ہے۔ فرعون نے حکم دے رکھا تھا کہ بنی اسرائیل میں پیدا ہونے والے ہر لڑکے کو قتل کر دیا جائے، اللہ پاک نے موسی علیہ السلام کی والدہ کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ وہ اپنے بیٹے یعنی موسی علیہ السلام کو ایک صندوق میں بند کرکے دریا میں ڈال دیں۔ اللہ کے حکم سے یہ تابوت کنارے لگے گا اور اللہ پاک کے دشمن فرعون کے ہاتھ لگ جائے گا ، موسی علیہ السلام کی والدہ نے ایسا ہی کیا، اس دریا سے ایک بڑی نہر نکل کر فرعون کے محل میں سے گزرتی تھی ۔ فرعون اپنی بیوی آسیہ کے ساتھ نہر کے کنارہ بیٹھا تھا ، اس نے نہر میں صندوق آتا دیکھ کر غلاموں اور کنیزوں   کو اسے نکالنے کا حکم دیا ۔ وہ صندوق نکال کر سامنے لایا گیا اور جب اسے کھولا گیا تو اس میں   ایک نورانی شکل کا فرزند  جس کی پیشانی سے وجاہت و اِقبال کے آثار نمودار تھے نظر آیا،اسے دیکھتے ہی فرعون کے دل میں   بے پناہ محبت پیدا ہوئی۔حضرت موسیٰ  علیہ السلام کی بہن کانام مریم تھا، جب آپ علیہ السلام کی والدہ نے آپ علیہ السلام کوصندوق میں بندکرکے دریا میں ڈال دیا تھا تو اس وقت آپ  علیہ السلام کی بہن صندوق کے متعلق معلوم کرنے کہ وہ کہاں پہنچتا ہے اس کے ساتھ چلتی رہی یہاں تک کے صندوق فرعون کے محل میں پہنچ گیا، وہاں     فرعون اور اس کی بیوی آسیہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنے پاس رکھ لیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کواپنا بیٹا بنالیا مگر جب دودھ پلانے کے لیے دائیاں حاضر کی گئیں     تو آپ علیہ السلام نے کسی بھی دائی کادودھ قبول نہ کیا، اس پر آپ کی بہن نے کہا کہ مصر میں  ایک اور دائی بھی ہے جس کا دودھ نہایت عمدہ ہے، یہ بچہ اس کادودھ پی لے گا۔ چنانچہ آپ  علیہ السلام کی والدہ کو بلایا گیا تو آپ علیہ السلام نے دودھ پینا شروع کردیا، یوں     آپ  علیہ السلام   کو پرورش کے لیے آپ علیہ السلام  کی والدہ کے سپرد کر دیا گیا اور اللہ پاک کافرمان پورا ہوا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کی آنکھیں  ٹھنڈی ہوئیں۔

📢پھر فرمایا کہ موسی و ہارون علیھما السلام کو حکم دیا کہ فرعون کے پاس جائیں وہ سرکش ہو چکا ہے، اسے نرمی کے ساتھ دعوت حق دیں، تاکہ وہ نصیحت حاصل کرلے، موسی و ہارون علیہما السلام نے اللہ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ ہم پر زیادتی کرے گا اللہ پاک نے فرمایا کہ تم گھبراؤ نہیں! میں تمہارے ساتھ ہوں، وہ دونوں حضرات فرعون کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا کہ ہم اللہ کے رسول ہیں، بنی اسرائیل کو اذیت نہ دو  اور انہیں ہمارے ساتھ دے دو، فرعون نے اللہ کی ذات کے بارے میں موسی و ہارون علیہم السلام سے بحث کی، پھر ان پر جادوگر ہونے کا الزام لگا دیا اور اپنے جادوگروں کو بلا کر مقررہ دن پر مقابلے کا چیلنج دیا، اس کی تفصیل  پچھلی سورتوں  میں بیان کر دی ہے، 

 📿 صبح و شام دن اور رات میں تسبیح و تحمید کا اہتمام کرنے کی ترغیب دلائی گئی۔کافروں کے لیے وسائل زندگی کی فراوانی اور عیش  کو دیکھ کر حسرت میں نہ پڑ جانے اور للچائی ہوئی نظروں سے نہ دیکھنے کا حکم ہے۔پھر خود بھی نماز کی پابندی کرنے اور اپنے اہل خانہ کو بھی نماز کا پابند بنانے کا حکم ہے اور اعلان فرما دیا گیا کہ ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ ملے گا لہذا  تم بھی انتظار  کرو ہم بھی انتظار کر رہے ہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ کون راہ  ہدایت پر ہے اور کون گمراہی  کی گہرائیوں میں گرا ہوا ہے۔
*📲+92-3212094919*

@faizanealahazrat

📖 *فیضان خلاصہ تراویح*📖

✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی*

🌐 *پارہ 17، اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ*

*سورہ انبیاء*

سورۂ انبیاء مکہ مکرمہ میں  نازل ہوئی ہے۔اس میں7 رکوع اور 112 آیتیں ہیں۔ 
*وجہ*
اس سورت میں  بکثرت انبیاء علیھم السلام کاذکر ہے مثلاً حضرت موسیٰ،حضرت عیسیٰ ،حضرت ہارون ، حضرت لوط، حضرت ابراہیم  علیھم السلام اور بالخصوص سرکارِ دو عالَم  صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہے، اسی وجہ سے اس سورت کانام سُوْرَۃُ الْاَنْبِیَاء ہے۔ 

📝 اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں اسلام کے بنیادی عقائد جیسے توحید،نبوت و رسالت،قیامت کے دن دوبارہ زندہ کئے جانے اور اعمال کی جزاء و سزا ملنے کو دلائل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، 
ابتدائی آیات میں دنیا کی زندگی کے زوال کا منظر پیش کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ قیامت کا وقوع اور حساب کا وقت قریب آگیا ہے، لیکن لوگ اس ہولناک دن سے غافل ہیں، اگلی آیتوں میں بتایا گیا ہے کہ اللہ پاک نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے پہلے بھی کسی انسان کو ہمیشگی نہیں دی، ہوا یہ کہ مشرکینِ مکہ یہ کہا کرتے تھے کہ جب آقا صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوجائیں گے، تو یہ سب کچھ ختم ہو جائے گا اور اسلام کی دعوت بھی ختم ہو جائے گی، اللہ پاک نے انہیں تنبیہ کر تے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ظاہری وفات سے متصف ہونا ہے تو تم بھی زیادہ عرصہ نہیں رہو گے اور دنیا میں اس سے پہلے بھی کوئی ہمیشہ نہیں رہا، اگرچہ انبیاء کرام کو  ایک آن کے لیے وفات آتی ہے پھر دوبارہ ان کی زندگی مثلِ سابق ہوتی ہے اور جہاں تک اللہ پاک کے دین کا تعلق ہے تو اللہ ہی غالب حکمت والا ہے وہی اپنے بندوں کے ذریعے اپنے دین کی بات کو عام فرما دے گا اور نہ وہ محتاج ہے ، جس طرح چاہے اپنے دین کو غالب کر سکتا ہے۔

🌍 اگلی آیت میں بتایا گیا کہ آسمان و زمین کے نظام کا بہترین اور معتدل ہونا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کائنات کو چلانے والا وحدہ لا شریک ہے۔ اگر اس نظام کو چلانے والی ایک سے زیادہ بااختیار شخصیات ہوتیں تو دنیا کا نظام درہم برہم ہو کر رہ جاتا۔

☀️ آیت 30 سے اللہ پاک نےتخلیقِ کائنات کے سلسلے کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ آسمان و زمین بند تھے،نہ بارش برستی تھی نہ نباتات پیدا ہو رہے تھے، اللہ پاک نے ان کو کھول دیا ان میں پانی اترا اور فرمایا کہ ہم نے ہر جاندار چیز پانی سے بنائی ہے، زمین میں توازن قائم رکھنے کے لیے اونچے اونچے پہاڑ بنائے، ان کے درمیان کشادہ راستے بنائے اور آسمان کو بغیر ستونوں کے محفوظ چھت بنا دیا رات، دن، سورج اور چاند کو پیدا فرمایا، ہر ایک اپنے اپنے دائرے کے اندر گھوم رہا ہے۔

🛑 آیت 35 کے اندر قانونِ قدرت بیان کیا گیا کہ ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے، پھر آگے چل کر بتایا گیا کہ قیامت اچانک آئے گی، حیرت زدہ کردے گی، نہ کوئی اس کو رد کر سکے گا اور نہ کسی کو مہلت ملے گی۔

💡پھر اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جوانی کے واقعات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کی قوم بت پرستی کرتی تھی، ہر سال ان کے یہاں ایک میلہ لگتا تھا جس کے لیے وہ شہر سے باہر جاتے تھے اور اپنے بتوں کے سامنے چڑھاوے چڑھایا کرتے تھے، ابراہیم علیہ السلام نے ان بتوں کو کلہاڑے سے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور جب کافر قوم لوٹ کر واپس آئی اور اپنے باطل معبودوں کی حالت دیکھی تو ابراہیم علیہ السلام کو بلا کر پوچھنے لگے کہ ان کی یہ حالت کس نے کی ہے ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ تم سمجھتے ہو کہ بت کچھ کرسکتے ہیں اور بولتے بھی ہیں اور ان کو قدرت بھی حاصل ہے تو تم خود پوچھ لو ، آپ علیہ السلام نے بڑے بت کے کندھے پر  کلہاڑا رکھ دیا تھا اور کافروں سے کہا کہ اس بڑے والے سے پوچھ لو ، اس کو تو معلوم ہوگا تو وہ بے اختیار پکار اٹھے کہ یہ پتھر کے بت بول ہی نہیں سکتے، ابراہیم علیہ السلام کہنے لگے کہ افسوس ہے کہ ایسے بےاختیار معبودوں کی تم عبادت کرتے ہوجو بول نہیں سکتے، وہ لاجواب ہوگئے، انتہائی نادم اور شرمندہ ہوئے لیکن غصے میں ایسے بھڑک پڑے کہ ابراہیم علیہ السلام کو انھوں نے جلانے کا ارادہ کر لیا، اور اس کے لیے انھوں نے لکڑیاں جمع کیں اور بہت بڑا  کھڈا کھدوادیا اور اس میں ابراہیم علیہ السلام کو ڈالنے کا ارادہ کیا اور ابراہیم علیہ السلام نے دعا مانگی" مجھے اللہ کافی ہے اور وہ کیا ہی بہترین کارساز ہے" ، ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو اللہ پاک نے آگ کو حکم دیا کہ اے آگ ابراہیم علیہ السلام پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوجا۔چناچہ آگ کی گرمی زائل ہوگئی اور روشنی  باقی رہی اور آگ نے آپ کو نقصان نہ پہنچایا۔

🌿آیت نمبر 78 سے داؤد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام کے ایک واقعے کا ذکر ہے۔
رات کے وقت کچھ لوگوں کی بکریاں کھیتی میں چھوٹ گئیں ، ان کے ساتھ کوئی چَرانے والا نہ تھا اور وہ کھیتی کھا گئیں تو یہ مقدمہ حضرت داؤد علیہ السلام  کے سامنے پیش ہوا، آپ علیہ السلام نے تجویز کی کہ بکریاں کھیتی وال

ے کو دے دی جائیں کیونکہ بکریوں کی قیمت کھیتی کے نقصان کے برابر ہے اور ہم ان کے فیصلے کا مشاہدہ کر رہے تھے اور ہم نے وہ معاملہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو سمجھا دیا ۔جب یہ معاملہ حضرت سلیمان علیہ السلام   کے سامنے پیش ہوا تو آپ نے فرمایا کہ فریقین کے لئے اس سے زیادہ آسانی کی شکل بھی ہو سکتی ہے۔ اس وقت حضرت سلیمان علیہ السلام کی عمر شریف گیارہ سال کی تھی ۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے آپ سے فرمایا کہ وہ صورت بیا ن کریں ، چنانچہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے یہ تجویز پیش کی کہ بکری والا کاشت کرے اور جب تک کھیتی اس حالت کو پہنچے جس حالت میں بکریوں نے کھائی ہے اس وقت تک کھیتی والا بکریوں کے دودھ وغیرہ سے نفع اٹھائے اور کھیتی اس حالت پر پہنچ جانے کے بعد کھیتی والے کو کھیتی دے دی جائے ، بکری والے کو اس کی بکریاں واپس کر دی جائیں۔ یہ تجویز حضرت داؤد علیہ السلام  نے پسند فرمائی۔   
 یاد رہے کہ اس معاملہ میں یہ دونوں حکم اجتہادی تھے اور ان کی شریعت کے مطابق تھے ۔ ہماری شریعت میں حکم یہ ہے کہ اگر چَرانے والا ساتھ نہ ہو تو جانور جو نقصانات کرے اس کا ضمان لازم نہیں۔

🌄 اس کے بعد سلیمان علیہ السلام پر کیے جانے والے انعامات کا ذکر ہے، پہاڑوں کا ان کے تابع ہوجانا، پہاڑوں اور پرندوں کا ان کے ساتھ تسبیح کرنا، اللہ پاک نے ہوا کو سلیمان علیہ السلام کے تابع کردیا تھا جو ان کے حکم سے تخت کو ایک ماہ کی مسافت تک اڑا کر لے جاتی تھی اور جنات کو ان کے تابع کردیا کہ وہ سلیمان علیہ السلام کے حکم سے سمندروں میں غوطہ زن ہوجاتے اور دیگر معاملات بھی انجام دیا کرتے تھے۔

🚨 اللہ پاک نے آپ کو ہر طرح کی نعمتیں عطا فرمائی تھیں، صورت کا حسن بھی، اولاد کی کثرت اور مال کی وسعت بھی عطا ہوئی تھی۔اللہ پاک نے آپ علیہ السلام کوآزمائش میں  مبتلا کیا، چنانچہ آ پ کی اولاد مکان گرنے سے دب کر مر گئی، تمام جانور جس میں  ہزارہا اونٹ اور ہزارہا بکریاں  تھیں  ،سب مر گئے ۔ تمام کھیتیاں  اور باغات برباد ہو گئے حتّٰی کہ کچھ بھی باقی نہ رہا، اور جب آپ  علیہ السلام  کو ان چیزوں  کے ہلاک اور ضائع ہونے کی خبر دی جاتی تھی تو آپ علیہ السلام اللہ پاک کی حمد بجا لاتے اور فرماتے تھے’’ میرا کیا ہے! جس کا تھا اس نے لیا، جب تک ا س نے مجھے دے رکھا تھا میرے پاس تھا، جب ا س نے چاہا لے لیا۔ اس کا شکر ادا ہو ہی نہیں  ہو سکتا اور میں  اس کی مرضی پر راضی ہوں ۔ اس کے بعد آپ  علیہ السلام بیمار ہوگئے ، تمام جسم شریف میں  آبلے پڑگئے اور بدن مبارک سب کا سب زخموں  سے بھر گیا ۔اس حال میں  سب لوگوں  نے چھوڑ دیا البتہ آپ کی زوجہ محترمہ رحمت بنتِ افرائیم نے نہ چھوڑا اور وہ آپ کی خدمت کرتی رہیں۔آپ علیہ السلام کی یہ حالت سالہا سال رہی ، آخر کار کوئی ایسا سبب پیش آیا کہ آپ نے بارگاہِ الٰہی میں  دعا کی :اے میرے رب! ، بیشک مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو سب رحم کرنے والوں  سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔  
حضرت ایوب علیہ السلام کی بیماری کے بارے میں  علامہ عبد المصطفٰی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’ عام طور پر لوگوں  میں  مشہور ہے کہ مَعَاذَ اللہ آپ کو کوڑھ کی بیماری ہو گئی تھی۔ چنانچہ بعض غیر معتبر کتابوں  میں  آپ کے کوڑھ کے بارے میں  بہت سی غیر معتبر داستانیں  بھی تحریر ہیں ، مگر یاد رکھو کہ یہ سب باتیں  سرتا پا بالکل غلط ہیں اور ہر گز ہرگز آپ یا کوئی نبی بھی کبھی کوڑھ اور جذام کی بیماری میں  مبتلا نہیں  ہوا، اس لئے کہ یہ مسئلہ مُتَّفَق علیہ ہے کہ اَنبیاء علیھم السلام کا تمام اُن بیماریوں  سے محفوظ رہنا ضروری ہے جو عوام کے نزدیک باعث ِنفرت و حقارت ہیں ۔ کیونکہ انبیاء علیھم السلام کا یہ فرضِ منصبی ہے کہ وہ تبلیغ و ہدایت کرتے رہیں  تو ظاہر ہے کہ جب عوام ان کی بیماریوں  سے نفرت کر کے ان سے دور بھاگیں  گے تو بھلا تبلیغ کا فریضہ کیونکر ادا ہو سکے گا؟ الغرض حضرت ایوب علیہ السلام ہرگز کبھی کوڑھ اور جذام کی بیماری میں  مبتلا نہیں  ہوئے بلکہ آپ کے بدن پر کچھ آبلے اور پھوڑے پھنسیاں  نکل آئی تھیں  جن سے آپ برسوں  تکلیف اور مشقت جھیلتے رہے اور برابر صابر و شاکر رہے۔یونہی بعض کتابوں  میں  جو یہ واقعہ مذکور ہے کہ بیماری کے دوران حضرت ایوب علیہ السلام  کے جسم مبارک میں  کیڑے پیدا ہو گئے تھے جو آپ کا جسم شریف کھاتے تھے، یہ بھی درست نہیں  کیونکہ ظاہری جسم میں  کیڑوں  کا پیدا ہونا بھی عوام کے لئے نفرت و حقارت کا باعث ہے اور لوگ ایسی چیز سے گھن کھاتے ہیں ۔

🌹پھر حضرت اسماعیل، ادریس، ذوالکفل اور یونس علیہم السلام کا تذکرہ ہے

🌼 آیت 94میں یہ بشارت دی گئی ہے کہ کہ جو کوئی ایمان اور اخلاص کے ساتھ نیک کام کرے گا اس کو بھرپور اجر ملے گا اور ہر نیکی محفوظ کی جارہی ہے، البتہ جن بد نصیبوں نے غفلت کی زندگی بسر کی انھوں نے اپنی زندگی کو برباد کر دیا، ان کو دوبارہ دنیا میں آنے اور سابقہ گناہوں کی تلافی کا موقع ہر گز نہیں ملے گا، جو کرنا ہے دنیا

میں کرنا ہے، ہر انسان کو دنیا میں ایک ہی بار آنے اور آخرت کی تیاری کر نے کا موقع ملتا ہے۔
علاماتِ قیامت میں بڑی علامت یاجوج ماجوج کا تذکرہ فرما کر قیامت اور اس کے ہولناک منظر کا بیان شروع کیا گیا اور پھر بتایا کہ رسالتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ و سلم تمام کائنات کے لئیے باعثِ رحمت ہے اور تلقین فرمائی کہ حق و باطل کا فیصلہ کر نے کا اختیار صرف اللہ ہی کے پاس ہے لہذا اسی سے دینِ اسلام کی حقانیت کا فیصلہ طلب کرنا چاہیے۔
اس سورت کے آخری رکوع میں اللہ پاک نے اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بے مثل و بے مثال اعزاز سے نوازا اور وہ ہے:
*وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ(۱۰۷)*
اور ہم نے تمہیں تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر ہی بھیجا ۔

🕋 *سورہ حج*
اس سورت میں 10رکوع اور 78 آیتیں ہیں ۔  
*وجہ*
اس سورۂ مبارکہ میں حج کے اعلانِ عام اورحج کے اَحکام کا ذکر ہے، اسی مناسبت کی وجہ سے اس سورت کو ’’سورۃ الحج‘‘ کے نام سے مَوسوم کیا گیا ہے ۔  


🚫 پہلی آیت میں اللہ پاک نے تقوی اختیار کر نے کا حکم دیتے ہوئے قیامت کی ہولناکیوں کو بیان فرمایا کہ قیامت ایک زلزلے کے طور پر برپا ہوگی اور اس کا منظر دہشت ناک ہوگا، دودھ پلانے والی مائیں اپنے دودھ پیتے بچوں کو بھول جائیں گی، حاملہ عورتوں کا حمل ساقط ہو جائے گا، لوگ نشے میں نظر آئیں گے حالانکہ وہ نشے میں نہ ہوں گے لیکن دراصل اللہ کے عذاب کی شدت کے باعث ان کی کیفیت ایسی ہو جائے گی، پھر موت کے بعد اٹھنے کی حقانیت کو بیان فرمایا کہ اپنی پیدائش پر غور کرنے سے یہ عقیدہ تمہیں بہت اچھی طرح سمجھ آسکتا ہے کہ مرنے کے بعد اٹھنا بھی ہے، پھر ان مراحل کو بیان کیا گیا ہے کہ بندہ مٹی سے نطفہ ہوتا ہے، پھر نطفے سے لوتھڑا بنتا ہے پھر گوشت کا ٹکڑا بنتا ہے، پھر اسکے اعضاء بنتے ہیں اور وہ ماں کے پیٹ میں ایک لمبے عرصے تک رہتا ہے کمزوری کی حالت میں بچہ باہر آتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ بڑا ہوتا ہے،جوانی کی حد تک پہنچتا ہے پھر مزید توانا ہوتا ہے، آگے بڑھتا ہے پھر ایک وقت آتا ہے کہ وہ بڑھاپے کی منزل تک پہنچ جاتا ہے، پھر اس کا جسم گھلنے لگتا ہے، تو یہ سارے مراحل اس بات کو بیان کرتے ہیں کہ انسان نے ایک دن مرنا ہے اور مر کر دوبارہ اٹھنا ہےاور یہ اللہ پاک کے لیے مشکل نہیں ہے،فرمایا گیا کہ جو رب انسان کو ان مراحل سے گزار سکتا ہے وہ مارنے کے بعد دوبارہ اٹھانے پر بھی قادر ہے،
پھر دوسری دلیل یہ بیان کی گئی کہ زمین کو دیکھو تو وہ بنجر ہوتی ہے، پھر بارش برستی ہے تو دیکھتے ہی دیکھتے کھیتیاں اگتی ہیں، باغات اگتے ہیں اور وہ پھلنے پھولنے اور لہلہانے لگتے ہیں۔

🕋 آیت 27 سےابراھیم علیہ السلام کے تعمیرِ کعبہ کے شاندار کارنامے کا تذکرہ ہے پھر انھیں حکم دیا گیا کہ بلند آواز میں لوگوں میں حج کا اعلان کیجئے وہ آپ کے پاس پیدل اور سوار ہو کر آئیں گے ، ابراہیم علیہ السلام نے ایک پتھر پر کھڑے ہو کر ندا دی "اے لوگو اللہ پاک نے تمہارے اوپر حج کو فرض کر دیا ہے"  اللہ پاک نے یہ آواز ان سب کو سنا دی، جن کی قسمت میں حج کرنا تھا انھوں نے باپوں کی پشتوں اور ماؤں کے پیٹوں سے جواب دیا *لبیک اللھم لبیک*۔

🐫  آگے چل کر قربانی کی ترغیب دلائی گئی، جانوروں کا انسان کے قابو میں آجانا یہ اللہ پاک کا احسان ہے، اس احسان کو یاد دلایا گیا اور اس پر شکر ادا کرنے کا حکم دیا گیا اور اخلاص اور پرہیزگاری کے ساتھ قربانی کرنے کا حکم دیا گیا۔

⛰️ آیت 61 سے کائنات کے نظام میں غور و خوض کرنے کی دعوت دی گئی،موت اور زندگی اللہ کے اختیار میں ہے ہر امت کو علیحدہ نظامِ حیات دیا گیا لہذا اختلاف کرنے کی بجائے اس پر عمل کرنا چاہیے، پھر معبودِ حقیقی اور معبودانِ باطل کے درمیان امتیاز کی ایک زبردست مثال قائم کی گئی کہ اللہ پاک کے علاوہ جن کی پرستش کرتے ہو وہ ایک مکھی پیدا کرنے کی بھی صلاحیت نہیں رکھتے بلکہ مکھی تو کمزور ترین مخلوق ہے، اگر یہ ان کے کھانے کا ایک ذرّہ اٹھا کر لے جائے تو مل کر اسے واپس لانے کی طاقت نہیں رکھتے، بت اور اس کے پجاری بہت کمزور اور ضعیف ہیں یہ لوگ انبیاء اور رسل کا انکار کر کے اللہ کی نعمتوں کی ناقدری کرتے ہیں۔ اسی پر سورت اور پارے دونوں کا اختتام ہوتا ہ

@faizanealahazrat
فقط محمد پرویز رضا دارالعلوم اہلسنت فیضان مصطفی اشرف نگر بھوانی گنج 

بدھ، 15 اپریل، 2020

Mahe Ramzan 2020

: اللّٰہ کے لئے ایک بارپورا ضرور پڑھیں شاید آپ کا ایمان مضبوط اور ہوجائے۔۔///////////////////بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم**************************حق کی آواز ہمیشہ بلند رہتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں یہاں مولانا احمد رضا خان کا ترجمہ تحریر کرتاہوں کیوں کہ مجھے اور مولویوں پر سے پھروسہ اٹھ چکاہے  ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔: خَتَمَ اللّٰهُ عَلَىٰ o8 وَعَلٰى سَمۡعِهِمۡ‌ؕ وَعَلٰىٓ اَبۡصَارِهِمۡ غِشَاوَةٌ  وَّلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ‏ 

اللہ نے ان کے دلوں پر اور کانوں پر مہر کردی اور ان کی آنکھوں پر گھٹاٹوپ ہے، اور ان کے لئے بڑا عذاب،۔۔۔۔ اب آپ کسی ایک تبلیغی جماعت والے کو صوفیزم کاقائل کرلیں نہیں ہونگے
: وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ يَّقُوۡلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَبِالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَمَا هُمۡ بِمُؤۡمِنِيۡنَ‌ۘ

اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لائے اور وہ ایمان والے نہیں،۔۔۔۔یہ کیسا ایمان اللّٰہ زانی رسول بے اختیار بتانا

: يُخٰدِعُوۡنَ اللّٰهَ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ‌ۚ وَمَا يَخۡدَعُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَهُمۡ وَمَا يَشۡعُرُوۡنَؕ‏

فریب دیا چاہتے ہیں اللہ اور ایمان والوں کو اور حقیقت میں فریب نہیں دیتے مگر اپنی جانوں کو اور انہیں شعور نہیں۔۔۔۔۔۔۔یہ اپنے آپ کو ایسے نرک میں ڈال چکے ہیں جس میں وہ ہر ایمان والے کو لانا چاہتے ہیں

: فِىۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌۙ فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًا ‌ۚ وَّلَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌۙۢبِمَا كَانُوۡا يَكۡذِبُوۡنَ

ان کے دلوں میں بیماری ہے تو اللہ نے ان کی بیماری اور بڑھائی اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے، بدلا ان کے جھوٹ کا -۔۔۔۔۔۔۔۔۔قرآن ۔حدیث کا غلط استعمال اس جماعت نے کیا

: وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ لَا تُفۡسِدُوۡا فِىۡ الۡاَرۡضِۙ قَالُوۡاۤ اِنَّمَا نَحۡنُ مُصۡلِحُوۡنَ

اوران سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو، تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں،۔۔۔۔۔۔۔۔۔جیش محمد۔لشکرطیبہ۔طالبان جیسی تنظیموں سے آج پوری دنیا پریشان ہے مگر ان کا کہنا ہے ہم دنیا کواچھی طرح سنوارنے والے لوگ ہیں

 اَلَا ۤ اِنَّهُمۡ هُمُ الۡمُفۡسِدُوۡنَ وَلٰـكِنۡ لَّا يَشۡعُرُوۡنَ

سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔:یہ لوگ جانتے ہیں حقیقت میں ہم ہی روئے زمین پر فساد برپا کرتے ہیں لیکن اپنے فسادی نہیں کہلوانا نہیں چاہتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ اٰمِنُوۡا كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوۡاۤ اَنُؤۡمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُ‌ ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمۡ هُمُ السُّفَهَآءُ وَلٰـكِنۡ لَّا يَعۡلَمُوۡنَ

اور جب ان سے کہا جائے ایمان لاؤ جیسے اور لوگ ایمان لائے تو کہیں کیا ہم احمقوں کی طرح ایمان لے آئیں سنتا ہے وہی احمق ہیں مگر جانتے نہیں -۔۔۔۔۔اب ان کے نزدیک ابوبکر وعمر وعثمان وعلی حسن و حسین غوث وخواجہ۔۔ابدال وقطب وقلندر۔سب۔احمق ہیں معاذاللہ اللّٰہ تیری پناہ

 وَاِذَا لَقُوۡا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا قَالُوۡاۤ اٰمَنَّا ۖۚ وَاِذَا خَلَوۡا اِلٰى شَيٰطِيۡنِهِمۡۙ قَالُوۡاۤ اِنَّا مَعَكُمۡۙ اِنَّمَا نَحۡنُ مُسۡتَهۡزِءُوۡنَ‏ 

اور جب ایمان والوں سے ملیں تو کہیں ہم ایمان لائے اور جب اپنے شیطانوں کے پاس اکیلے ہوں تو کہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں، ہم تو یونہی ہنسی کرتے ہیں-۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان کی یہ عادت بہت گھٹیا ہے جب آپ سے یعنی اہلسنت والجماعت سے ملاقات کریں گے تو ایسی صورت بنا لیتے ہیں جیسے یہ تو سب سے بڑے عاشق ۔ہیں مگر اپنی جماعت میں کہتے ہیں ہم تو ان کا مزا لے رہے تھے ہے**********************************کیاآپ تو شامل نہیں۔*********************************************۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ قتل ہے دین کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ اچھا موقع تھا ملک سے ان ناپاک عزائم کے نظریات کو ملک سے نکالکر اس زمیں کو پاک کرنے کی جو قریب 100سال والے عقائد پیش کرکے لوگوں کو گمراہ کرنے کی بے لگام کوششوں میں مصروف رہے ہیں لیکن افسوس ہے ان لوگوں پر جو بے موقع محل ان کی تائید میں آگئے ہیں اب ان کے بارے میں کیا کہا جائے ایمان کی سلامتی بہت ضروری ہے کوئی بھی شخص کسی کی قبر میں نہیں جانے والا لفظ دیگر ان سے یارانہ کربیٹھے ہیں ابھی وقت ہے اپنے ایمان کو بچاؤ جیسا کہ معلوم ہونا چاہئے ایمان مکمل تب ہوتا ہےکہ دشمن خداورسول عزوجل صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کو اپنا دشمن جانے اور ان سے علاقہ برداری کی جائے۔کیاآپ نہیں چاہتے کہ مصطفیٰ کائنات علیہ السلام آپ کی شفاعت کریں لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ یہ جماعت مصطفیٰ کریم علیہ السلام کی شفاعت کی قائل نہیں اب آپ  تائید کیسے کرسکتے ہیں۔ کیا حق وانصاف کے لیے امام حسین علی جدہ السلام نے اپنے بچوں کی قربانی پیش نہیں کی ۔لیکن کیا یہ بھی غلط ہے کہ اسی جماعت نے آپ کو باغی ٹھرایا اور غاصب کہا آپ کو کچھ وقت کے لئے اس فانی دنیا میں رہنا ہے تو مرکزاصلی کیوں بھلا بیٹھے ہیں آپ ان کی تائید کیسے کرسکتے ہیں جب کہ آپ کریم آقا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی شفاعت چاہتے ہیں آپ کے نزدیک ان کی تائید کیسے ممکن ہے جو  امام حسین اور ان ساتھیوں  کو دشنام  کرتے ہیں یہ مسلمان ہیں کیا۔ میرے لحاظ سے تو ہرگز نہیں ہمیں تو بہت خوشی ہوئی کہ کوئی تو ان لوطیوں کے بارے میں کھل کر سامنے آیا میں نہ ان کے گھر ہوں نہ ان کے گاؤں شہر کا صحیح بات تو یہ ہے کہ نہ وہ ہم کو جانتے ہیں نہ ہی میں ان کو پھر بھی میں موجودہ وقت میں ان کے ساتھ ہوں مجھے یہ بات کہنے پر کوئی افسوس نہیں کہ ان کے والد کے والد بھی ایک بار اکیلے میدان میں اترے تھے اور ان کافتوی تھا تقسیم ہند پر وہ اس کے خلاف تھے وہ بھی حکومت کے خلاف لیکن یہی جماعت  ہے جو اپنے کو تبلیغی جماعت کہتے ہیں اس وقت ان خلاف فتویٰ دیا تھا غالباً ان کا نام مولانا حشمت علی خان لکھنوی تھا ان کہنا تھا اس سب ایک ساتھ فتویٰ جاری کرو کی تقسیم ہند حرام تو حکومت گٹھنوں کے بل آجائے گی اگر ایسا نہ ہوا تو تم لوگ ہمیشہ تکلیف کے دور سے گزرو گے آج ان کی بات ہمیں یاد آتی ہے اگر ۔۔چہ ان کے لڑکے پوتے ہمارے خیالات سے متفق نہ ہوں ہمیں اپنا نہیں جانتےپھربھی ان کی بات میں سچائی ہے جو بیان انہوں نے دیا ہے میڈیا پر کاش اگر سبھی خانقاہ والے لوگ ان کے ساتھ ہوجاتے تو اس جماعت پر ہمیشہ کے لئے پابندی عائد کردی جاتی لیکن جو ہم کہ رہے ہیں وہ ان تمام خانقاہوں سے آواز اٹھنی چاہیئے لیکن نہیں آپ کواس چیز کا ڈر ہے کہ مرید ناراض ہوجائیں گے اب میں ان مسلمان حضرات سے ایک سوال کرتا ہوں آپ ایمان پیر صاحب پر نہیں لائے ہیں اللّٰہ ورسول عزوجل صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر لائیں ہیں اور جو بنیاد کاقائل نہیں اس سے نرمی کیسی مطلب آپ مسلمان نہیں اللّٰہ کے واسطے ایسا نہ کریں آپ کی قبر میں نہ راقم الحروف جائے گا نہ آپ کا بھائی باپ ماں ماموں بھتیجا بھانجہ کوئی آپ بھی آپ کی قبر میں نہیں جانے والا آپ کو پچاس ساٹھ سال کے بعد اسی کالی کوٹھری میں اکیلے جانا ہے تو ان بدعقیدوں کا ساتھ نہ دیں ورنہ قبر کی تنہائی آپ کو بہت رلائے گی اور وفادارئیے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم آپ کو آرام سکون بخشے گی اب آپ کی مرضی ہے کہ آپ کسے چنتے ہیں اللّٰہ ورسول عزوجل صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو یا چار دن کی حمایت کرکے ہمیشگی کے عذاب کو اپنے سرلینا چاہیتے ہیں ہم تو ان لوگوں سے بہت خوش ہیں جو اللّٰہ کے دین میں فساد کرنے والے کی تردید کرتے ہیں بھلے وہ ہم سے متفق نہیں  میرے دوست آپ کا ایمان اتنا کمزور ہوگیا کہ بجائے انہیں کچھ کہنے کے آپ اپنے رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے غلاموں کو گمراہ بدین کہنے لگے اگر آپ ان کی مدد نہیں کرسکتے تو خاموش ہی ہوجاتے کہ کم ازکم کوئی تو ان فسادیوں کے خلاف بولا اسے ان کی حالت پرہی چھوڑ دیتے مگر کیسے آپ کو مسلمان ہونا ثابت کرنا تھا کہ وہ مسلمان ہیں یاد رکھیں عام آدمی کی آپ تائید کریں کہ وہ نہیں جانتا کہ یہ کس مرض میں مبتلا ہیں لیکن ان کی تائید آپ کو محشر میں بہت بھاری قیمت چکانی پڑے گی کہ یہ سب کچھ حق جانتے ہوئے بھی حق تسلیم نہیں کرتے مزید جتنی جماعتیں ہیں غیر مقلدین کی ہر کسی فرد کو چالیس دن کے بعد گستاخیاں سکھائی جاتی ہیں پہلے نہیں اگر آپ جاننا چاہتے ہیں تو تجربہ کرلیں پھر وہ لوگ کبھی حق جاننا نہیں چاہتے وہ صرف چلہ گاہ تک محدود رہ جاتے ہیں ہم ان لوگوں کو بہت قریب سے جانتے ہیں اس بلاء کو ہم نے بہت قریب سے دیکھا ہے  ہم جانتے ہیں ہم نے خود اس جماعت میں جانے والے تین بچوں نکالا ہے ان کے بیان نے میری روح وجود کو ہلاکررکھ دیا جب ان لوگوں نے بتایا جماعت کے امیر نے ان لوگوں کے ساتھ کیا کیا ۔کیا سنوکیاکچھ ہوتا ہے جماعت میں جانے والے 15.16.14سال کے بچوں کے ساتھ وہ حرکتیں ہوتی ہیں جو قوم لوط کرگئی ہے وہ بھی خانئہ خدا میں اس سے زیادہ کیا بیان کروں فقط اس جماعت سے دور رہنا ہی بھلائی ہے شیطان کا بھل سپورٹ دستیاب ہے اس جماعت کو ان کی انہیں حرکتوں سے بیزار ہوں مہربانی کرکے اس جماعت کے قریب نہ آئیں ورنہ آخرت برباد ہو جائے گی میں ان مولویوں کی طرف سے نہیں کہ رہا ہوں جو ان کو گمراہ بدین مرتد آتنک وادی کہتے ہیں بلکہ خداورسول عزوجل صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے۔۔آپ خودبچیں اور اپنی نسلوں کو بھی بچائیں بہت افسوس گا کہ خدانخواستہ اسی حالت میں موت واقع ہوئی تو کل آپ اللّٰہ کے حضور کیا جواب دیں گے کیا اپنے آپ کو بچاپائیں گے ہر گز نہیں بلکہ کچھ جواب نہ ہوگا پھر بھی آپ دل سے بتائیں کہ یہ عذاب یعنی بدنامی کسی اہلسنت والجماعت پر بھی لگ سکتی تھی آخر کیوں انہیں لوگوں پر گری یہی مشیت ایزدی ہے کہ اس پرفتن دور میں کون اپنے آپ کو بچاپاتا میں اس  بات پر کافی وقت سے غور کررہاتھا آخر کار اس طرح سمجھا کہ یہ بھی ایمان والوں پر ایک طرح سے امتحان ہے جس کا ریجلٹ بروز حشر مل ہی جائے گا ہم ان  لوگوں سے نفرت نہیں کرتے ہیں بلکہ اپنا سمجھ کر بتارہے ہیں ہم تو دشمن خداورسول عزوجل صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم سے دل نفرت کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے ان شاءاللہ آپ کا کیا معاملہ ہے وللہ تعالیٰ اعلم لیکن کچھ بھی ہو آپ ان لوگوں سے نفرت نہ کریں جنہیں یہ سب معاملات کفر ان کے معلوم نہیں ان کو سمجھائیں کہ ان لوگوں نے دین میں کتنا رخنہ ڈالا ہے اور کتنی نفرت کی بیج کو پانی دیا ہے کیا آپ کو نہیں معلوم کہ حضرت ابرہیم علیہ السلام کو جب آگے نمرود میں ڈالا گیا تو وہاں دو قسم کے جانوروں کا ظہور ہوا تھا ایک مینڈک دریائی دوسرا بڑا بچکھپڑا جسے گرگٹ غالباً کہا گیاہے ان دونوں کی پہلے بڑی اچھی دوستی تھی لیکن دشمنی اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب آپ کے یار کے ساتھ آپ کا ساتھی دھوکہ کرے کچھ ایسا ہی ہوا تھا اس جگے جب آگے نمرود میں  حضرت ابرہیم علیہ السلام کوڈالا گیا مینڈک دریائی جوتھا وہ   دوڑا گرگٹ نے پوچھا صاحب کہاں کہا اللّٰہ کے نبی کو نمرود نے آگ میں ڈالا ہے میں آگ بچھانے جانے جارہاہوں بولا ٹھیک ہے پھر تو ہم بھی جائیں گے پھر کیا تھا دونوں پہنچ گئے اور اپنے اپنے کام میں لگ گئے ایک پانی ڈالتا تو ایک پھونک مارتا بہر کیف اب آپ سمجھیں کہ مینڈک کے تھوڑے سے پانی سے آگ کا کیا ہوتا اور گرگٹ کی تھوڑی سی ہوا سے آگ کاکیا ہوتا یہاں وفاداری اور بے وفائی ظاہر ہونا تھا ایک نے چاہا آگ بچھے ایک نے چاہا آگ لگے اب غور کریں کہ کیا ہماری طرف سے تھوڑی سی کوشش وفاداری اور بے وفائی کا ثبوت کل محشر میں پیش کرنے والی ہے ہمارے ساتھ بظاہر تھوڑی جماعت ہے تو اس کامطلب یہ نہیں ہم حق پر نہیں ایمان والوں کی تعداد ہمیشہ سے کم رہی ہے اور آگے بھی کم رہے گی اب ان کی بات کرلیں جو یہ کہتے ہیں کہ کئی ملکوں میں یہ کام کررہے ہیں کون تبلیغی جماعت والے تو آپ اپنے اوپر کسی ایک چیز کی چاہت لیکر دل ودماغ سے سنجیدہ ہوکر سوچیں کہ ہماری زندگی میں کسی نیک نیت سے پانے والا پھل کتنےمنہگااورکتنے وقت میں ملتا ہے چاہے اولاد کی نعمت ہویانیک مال کی نعمت آپ کہیں گے کافی وقت لگتا ہے تو ہماری آنکھیں بند ہیں اسے کھونے کی ضرورت ہے جیسے شیطانی کام بہت تیزی سے کام کرتا ہے جب کہ ہمیں معلوم تک نہیں ہوتا کہ کس مقصد سے یہ لوگ کام کررہے ہیں برعکس اس کے کہ ہم کوئی ایسا طریق اپنی زندگی میں اپنائیں جو اللہ ورسول عزوجل صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم تک لے جاتا ہو کافی عرصہ لگ جائے گا لیکن وہ مژدہ آپ کو جلدی نہیں ملے گا لیکن دونوں کاموں میں فرق ہے کیسے تو بتا دیں کہ ہمارے معاشرے میں آج کل کالے جادو کے اثرات مرتب جلد جاتے ہیں لیکن اس کے برعکس آپ کسی کی بھلائی کے لئے کوئی اسم اعظم لکھ کردیں وہ بہت دیر سے کام کریگا اب آپ کو کیسے سمجھائیں آپ نے انگریزی دوا کا استعمال کیا ہوگا جو فوراً درد دور کرتا ہے لیکن اس کے اثرات ختم ہوتے ہی پھر وہی حال ہوجاتا ہے برعکس اس کے کہ آپ حکیمانہ نسخے اپنائیں وہ بہت تاخیر سے کام کریگا لیکن آپ کو ہمیشہ کے لئے اس مرض سے نجات دلاتا ہے بلکل یہی حال ہے حق اور باطل کا باطل کے پیچھے ہزاروں شیطانی ہاتھ موجود ہوتے ہیں ۔وہ بھی جب وہ اپنے کومسلمان کہکر اپنے ہی نبی کی امت ہوکر اپنے ہی نبی کو بےیارومددگار کہے اپنے ہی نبی کی بیوی جو امت کی ماں ہوتی ہیں ان کو گالی دے یہاں تک اپنے خالق ومالک کو زنا کرنے والا اور شراب پینے والا بتائے تو شیطان ان کی انہیں عادتوں سے خوش ہوکر ان کو بڑھاوا دیتا ہے اور یہ لوگ روئے زمین پر تیزی پھیلنا شروع کر دیتے ہیں اب ان کے مقابل ہمارے جیسے لوگ جو رات دن برائیوں میں گزار دیتے ہیں اتر تو سکتے نہیں ان کے لئے اللّٰہ پاک ان کا انتخاب فرماتا ہے جو ان کو بدتر مخلوق سمجھتے ہیں وہ بھی وقت کے ساتھ ان کو گرفت میں لاتے ہیں جس سے شیطانی جال کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہوجاتا ہے لیکن یہ آسان نہیں جو شیطانی قوتوں کے خلاف زہر افشانی کرتا ہے اس کے ہزاروں افراد دشمن ہو جاتے ہیں اور ان کو انسانیت کا دشمن سمجھ بیٹھے ہیں مگر ان کے ایک جملے اس وقت کام آتے ہیں جب ملک الموت سامنے ہوتے ہیں اور معاذاللہ کلمہ طیبہ پڑھنے نہیں دیتے استغفر اللّٰہ۔۔اللہ تیری پناہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔**کیا آپ عقلمندہیں**۔___________________________________________________________________________ میرے دوست اپنے باپ کے دشمن کواپنا دشمن جانا ماں کو کوئی زندگی میں ایک بار گالی دے اسے آپ کبھی نہیں بھول سکتے۔ ===============================================تونبی کے دشمن کو اپنا دوست کیسے بناسکتے ہیں جوقوم ام المومنین عائشہ صدیقہ کو گالی دے اس کی حمایت کیسے ممکن ہے        ========================اب ذرا انصاف سے کام لینا==========یہ دین ہے گھر کا کھیل نہیں۔۔  از۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  ایک گمنام ۔آپ کے ایمانی رشتے میں بھائی ہے
 اللّٰہ کے لئے ایک بارپورا ضرور پڑھیں شاید آپ کا ایمان مضبوط اور ہوجائے۔۔///////////////////بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم**************************حق کی آواز ہمیشہ بلند رہتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں یہاں مولانا احمد رضا خان کا ترجمہ تحریر کرتاہوں کیوں کہ مجھے اور مولویوں پر سے پھروسہ اٹھ چکاہے  ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔: خَتَمَ اللّٰهُ عَلَىٰ قُلُوۡبِهِمۡ وَعَلٰى سَمۡعِهِمۡ‌ؕ وَعَلٰىٓ اَبۡصَارِهِمۡ غِشَاوَةٌ  وَّلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ‏ 

اللہ نے ان کے دلوں پر اور کانوں پر مہر کردی اور ان کی آنکھوں پر گھٹاٹوپ ہے، اور ان کے لئے بڑا عذاب،۔۔۔۔ اب آپ کسی ایک تبلیغی جماعت والے کو صوفیزم کاقائل کرلیں نہیں ہونگے
: وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ يَّقُوۡلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَبِالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَمَا هُمۡ بِمُؤۡمِنِيۡنَ‌ۘ

اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لائے اور وہ ایمان والے نہیں،۔۔۔۔یہ کیسا ایمان اللّٰہ زانی رسول بے اختیار بتانا

: يُخٰدِعُوۡنَ اللّٰهَ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ‌ۚ وَمَا يَخۡدَعُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَهُمۡ وَمَا يَشۡعُرُوۡنَؕ‏

فریب دیا چاہتے ہیں اللہ اور ایمان والوں کو اور حقیقت میں فریب نہیں دیتے مگر اپنی جانوں کو اور انہیں شعور نہیں۔۔۔۔۔۔۔یہ اپنے آپ کو ایسے نرک میں ڈال چکے ہیں جس میں وہ ہر ایمان والے کو لانا چاہتے ہیں

: فِىۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌۙ فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًا ‌ۚ وَّلَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌۙۢبِمَا كَانُوۡا يَكۡذِبُوۡنَ

ان کے دلوں میں بیماری ہے تو اللہ نے ان کی بیماری اور بڑھائی اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے، بدلا ان کے جھوٹ کا -۔۔۔۔۔۔۔۔۔قرآن ۔حدیث کا غلط استعمال اس جماعت نے کیا

: وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ لَا تُفۡسِدُوۡا فِىۡ الۡاَرۡضِۙ قَالُوۡاۤ اِنَّمَا نَحۡنُ مُصۡلِحُوۡنَ

اوران سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو، تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں،۔۔۔۔۔۔۔۔۔جیش محمد۔لشکرطیبہ۔طالبان جیسی تنظیموں سے آج پوری دنیا پریشان ہے مگر ان کا کہنا ہے ہم دنیا کواچھی طرح سنوارنے والے لوگ ہیں

 اَلَا ۤ اِنَّهُمۡ هُمُ الۡمُفۡسِدُوۡنَ وَلٰـكِنۡ لَّا يَشۡعُرُوۡنَ

سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔:یہ لوگ جانتے ہیں حقیقت میں ہم ہی روئے زمین پر فساد برپا کرتے ہیں لیکن اپنے فسادی نہیں کہلوانا نہیں چاہتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ اٰمِنُوۡا كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوۡاۤ اَنُؤۡمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُ‌ ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمۡ هُمُ السُّفَهَآءُ وَلٰـكِنۡ لَّا يَعۡلَمُوۡنَ

اور جب ان سے کہا جائے ایمان لاؤ جیسے اور لوگ ایمان لائے تو کہیں کیا ہم احمقوں کی طرح ایمان لے آئیں سنتا ہے وہی احمق ہیں مگر جانتے نہیں -۔۔۔۔۔اب ان کے نزدیک ابوبکر وعمر وعثمان وعلی حسن و حسین غوث وخواجہ۔۔ابدال وقطب وقلندر۔سب۔احمق ہیں معاذاللہ اللّٰہ تیری پناہ

 وَاِذَا لَقُوۡا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا قَالُوۡاۤ اٰمَنَّا ۖۚ وَاِذَا خَلَوۡا اِلٰى شَيٰطِيۡنِهِمۡۙ قَالُوۡاۤ اِنَّا مَعَكُمۡۙ اِنَّمَا نَحۡنُ مُسۡتَهۡزِءُوۡنَ‏ 

اور جب ایمان والوں سے ملیں تو کہیں ہم ایمان لائے اور جب اپنے شیطانوں کے پاس اکیلے ہوں تو کہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں، ہم تو یونہی ہنسی کرتے ہیں-۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان کی یہ عادت بہت گھٹیا ہے جب آپ سے یعنی اہلسنت والجماعت سے ملاقات کریں گے تو ایسی صورت بنا لیتے ہیں جیسے یہ تو سب سے بڑے عاشق ۔ہیں مگر اپنی جماعت میں کہتے ہیں ہم تو ان کا مزا لے رہے تھے ہے**********************************کیاآپ تو شامل نہیں۔*********************************************۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ قتل ہے دین کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ اچھا موقع تھا ملک سے ان ناپاک عزائم کے نظریات کو ملک سے نکالکر اس زمیں کو پاک کرنے کی جو قریب 100سال والے عقائد پیش کرکے لوگوں کو گمراہ کرنے کی بے لگام کوششوں میں مصروف رہے ہیں لیکن افسوس ہے ان لوگوں پر جو بے موقع محل ان کی تائید میں آگئے ہیں اب ان کے بارے میں کیا کہا جائے ایمان کی سلامتی بہت ضروری ہے کوئی بھی شخص کسی کی قبر میں نہیں جانے والا لفظ دیگر ان سے یارانہ کربیٹھے ہیں ابھی وقت ہے اپنے ایمان کو بچاؤ جیسا کہ معلوم ہونا چاہئے ایمان مکمل تب ہوتا ہےکہ دشمن خداورسول عزوجل صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کو اپنا دشمن جانے اور ان سے علاقہ برداری کی جائے۔کیاآپ نہیں چاہتے کہ مصطفیٰ کائنات علیہ السلام آپ کی شفاعت کریں لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ یہ جماعت مصطفیٰ کریم علیہ السلام کی شفاعت کی قائل نہیں اب آپ  تائید کیسے کرسکتے ہیں۔ کیا حق وانصاف کے لیے امام حسین علی جدہ السلام نے اپنے بچوں کی قربانی پیش نہیں کی ۔لیکن کیا یہ بھی غلط ہے کہ اسی جماعت نے آپ کو باغی ٹھرایا اور غاصب کہا آپ کو کچھ وقت کے لئے اس فانی دنیا میں رہنا ہے تو مرکزاصلی کیوں بھلا بیٹھے ہیں آپ ان کی تائید کیسے کرسکتے ہیں جب کہ آپ کریم آقا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی شفاعت چاہتے ہیں آپ کے نزدیک ان کی تائید کیسے ممکن ہے جو  امام حسین اور ان ساتھیوں  کو دشنام  کرتے ہیں یہ مسلمان ہیں کیا۔ میرے لحاظ سے تو ہرگز نہیں ہمیں تو بہت خوشی ہوئی کہ کوئی تو ان لوطیوں کے بارے میں کھل کر سامنے آیا میں نہ ان کے گھر ہوں نہ ان کے گاؤں شہر کا صحیح بات تو یہ ہے کہ نہ وہ ہم کو جانتے ہیں نہ ہی میں ان کو پھر بھی میں موجودہ وقت میں ان کے ساتھ ہوں مجھے یہ بات کہنے پر کوئی افسوس نہیں کہ ان کے والد کے والد بھی ایک بار اکیلے میدان میں اترے تھے اور ان کافتوی تھا تقسیم ہند پر وہ اس کے خلاف تھے وہ بھی حکومت کے خلاف لیکن یہی جماعت  ہے جو اپنے کو تبلیغی جماعت کہتے ہیں اس وقت ان خلاف فتویٰ دیا تھا غالباً ان کا نام مولانا حشمت علی خان لکھنوی تھا ان کہنا تھا اس سب ایک ساتھ فتویٰ جاری کرو کی تقسیم ہند حرام تو حکومت گٹھنوں کے بل آجائے گی اگر ایسا نہ ہوا تو تم لوگ ہمیشہ تکلیف کے دور سے گزرو گے آج ان کی بات ہمیں یاد آتی ہے اگر ۔۔چہ ان کے لڑکے پوتے ہمارے خیالات سے متفق نہ ہوں ہمیں اپنا نہیں جانتےپھربھی ان کی بات میں سچائی ہے جو بیان انہوں نے دیا ہے میڈیا پر کاش اگر سبھی خانقاہ والے لوگ ان کے ساتھ ہوجاتے تو اس جماعت پر ہمیشہ کے لئے پابندی عائد کردی جاتی لیکن جو ہم کہ رہے ہیں وہ ان تمام خانقاہوں سے آواز اٹھنی چاہیئے لیکن نہیں آپ کواس چیز کا ڈر ہے کہ مرید ناراض ہوجائیں گے اب میں ان مسلمان حضرات سے ایک سوال کرتا ہوں آپ ایمان پیر صاحب پر نہیں لائے ہیں اللّٰہ ورسول عزوجل صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر لائیں ہیں اور جو بنیاد کاقائل نہیں اس سے نرمی کیسی مطلب آپ مسلمان نہیں اللّٰہ کے واسطے ایسا نہ کریں آپ کی قبر میں نہ راقم الحروف جائے گا نہ آپ کا بھائی باپ ماں ماموں بھتیجا بھانجہ کوئی آپ بھی آپ کی قبر میں نہیں جانے والا آپ کو پچاس ساٹھ سال کے بعد اسی کالی کوٹھری میں اکیلے جانا ہے تو ان بدعقیدوں کا ساتھ نہ دیں ورنہ قبر کی تنہائی آپ کو بہت رلائے گی اور وفادارئیے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم آپ کو آرام سکون بخشے گی اب آپ کی مرضی ہے کہ آپ کسے چنتے ہیں اللّٰہ ورسول عزوجل صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو یا چار دن کی حمایت کرکے ہمیشگی کے عذاب کو اپنے سرلینا چاہیتے ہیں ہم تو ان لوگوں سے بہت خوش ہیں جو اللّٰہ کے دین میں فساد کرنے والے کی تردید کرتے ہیں بھلے وہ ہم سے متفق نہیں  میرے دوست آپ کا ایمان اتنا کمزور ہوگیا کہ بجائے انہیں کچھ کہنے کے آپ اپنے رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے غلاموں کو گمراہ بدین کہنے لگے اگر آپ ان کی مدد نہیں کرسکتے تو خاموش ہی ہوجاتے کہ کم ازکم کوئی تو ان فسادیوں کے خلاف بولا اسے ان کی حالت پرہی چھوڑ دیتے مگر کیسے آپ کو مسلمان ہونا ثابت کرنا تھا کہ وہ مسلمان ہیں یاد رکھیں عام آدمی کی آپ تائید کریں کہ وہ نہیں جانتا کہ یہ کس مرض میں مبتلا ہیں لیکن ان کی تائید آپ کو محشر میں بہت بھاری قیمت چکانی پڑے گی کہ یہ سب کچھ حق جانتے ہوئے بھی حق تسلیم نہیں کرتے مزید جتنی جماعتیں ہیں غیر مقلدین کی ہر کسی فرد کو چالیس دن کے بعد گستاخیاں سکھائی جاتی ہیں پہلے نہیں اگر آپ جاننا چاہتے ہیں تو تجربہ کرلیں پھر وہ لوگ کبھی حق جاننا نہیں چاہتے وہ صرف چلہ گاہ تک محدود رہ جاتے ہیں ہم ان لوگوں کو بہت قریب سے جانتے ہیں اس بلاء کو ہم نے بہت قریب سے دیکھا ہے  ہم جانتے ہیں ہم نے خود اس جماعت میں جانے والے تین بچوں نکالا ہے ان کے بیان نے میری روح وجود کو ہلاکررکھ دیا جب ان لوگوں نے بتایا جماعت کے امیر نے ان لوگوں کے ساتھ کیا کیا ۔کیا سنوکیاکچھ ہوتا ہے جماعت میں جانے والے 15.16.14سال کے بچوں کے ساتھ وہ حرکتیں ہوتی ہیں جو قوم لوط کرگئی ہے وہ بھی خانئہ خدا میں اس سے زیادہ کیا بیان کروں فقط اس جماعت سے دور رہنا ہی بھلائی ہے شیطان کا بھل سپورٹ دستیاب ہے اس جماعت کو ان کی انہیں حرکتوں سے بیزار ہوں مہربانی کرکے اس جماعت کے قریب نہ آئیں ورنہ آخرت برباد ہو جائے گی میں ان مولویوں کی طرف سے نہیں کہ رہا ہوں جو ان کو گمراہ بدین مرتد آتنک وادی کہتے ہیں بلکہ خداورسول عزوجل صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے۔۔آپ خودبچیں اور اپنی نسلوں کو بھی بچائیں بہت افسوس گا کہ خدانخواستہ اسی حالت میں موت واقع ہوئی تو کل آپ اللّٰہ کے حضور کیا جواب دیں گے کیا اپنے آپ کو بچاپائیں گے ہر گز نہیں بلکہ کچھ جواب نہ ہوگا پھر بھی آپ دل سے بتائیں کہ یہ عذاب یعنی بدنامی کسی اہلسنت والجماعت پر بھی لگ سکتی تھی آخر کیوں انہیں لوگوں پر گری یہی مشیت ایزدی ہے کہ اس پرفتن دور میں کون اپنے آپ کو بچاپاتا میں اس  بات پر کافی وقت سے غور کررہاتھا آخر کار اس طرح سمجھا کہ یہ بھی ایمان والوں پر ایک طرح سے امتحان ہے جس کا ریجلٹ بروز حشر مل ہی جائے گا ہم ان  لوگوں سے نفرت نہیں کرتے ہیں بلکہ اپنا سمجھ کر بتارہے ہیں ہم تو دشمن خداورسول عزوجل صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم سے دل نفرت کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے ان شاءاللہ آپ کا کیا معاملہ ہے وللہ تعالیٰ اعلم لیکن کچھ بھی ہو آپ ان لوگوں سے نفرت نہ کریں جنہیں یہ سب معاملات کفر ان کے معلوم نہیں ان کو سمجھائیں کہ ان لوگوں نے دین میں کتنا رخنہ ڈالا ہے اور کتنی نفرت کی بیج کو پانی دیا ہے کیا آپ کو نہیں معلوم کہ حضرت ابرہیم علیہ السلام کو جب آگے نمرود میں ڈالا گیا تو وہاں دو قسم کے جانوروں کا ظہور ہوا تھا ایک مینڈک دریائی دوسرا بڑا بچکھپڑا جسے گرگٹ غالباً کہا گیاہے ان دونوں کی پہلے بڑی اچھی دوستی تھی لیکن دشمنی اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب آپ کے یار کے ساتھ آپ کا ساتھی دھوکہ کرے کچھ ایسا ہی ہوا تھا اس جگے جب آگے نمرود میں  حضرت ابرہیم علیہ السلام کوڈالا گیا مینڈک دریائی جوتھا وہ   دوڑا گرگٹ نے پوچھا صاحب کہاں کہا اللّٰہ کے نبی کو نمرود نے آگ میں ڈالا ہے میں آگ بچھانے جانے جارہاہوں بولا ٹھیک ہے پھر تو ہم بھی جائیں گے پھر کیا تھا دونوں پہنچ گئے اور اپنے اپنے کام میں لگ گئے ایک پانی ڈالتا تو ایک پھونک مارتا بہر کیف اب آپ سمجھیں کہ مینڈک کے تھوڑے سے پانی سے آگ کا کیا ہوتا اور گرگٹ کی تھوڑی سی ہوا سے آگ کاکیا ہوتا یہاں وفاداری اور بے وفائی ظاہر ہونا تھا ایک نے چاہا آگ بچھے ایک نے چاہا آگ لگے اب غور کریں کہ کیا ہماری طرف سے تھوڑی سی کوشش وفاداری اور بے وفائی کا ثبوت کل محشر میں پیش کرنے والی ہے ہمارے ساتھ بظاہر تھوڑی جماعت ہے تو اس کامطلب یہ نہیں ہم حق پر نہیں ایمان والوں کی تعداد ہمیشہ سے کم رہی ہے اور آگے بھی کم رہے گی اب ان کی بات کرلیں جو یہ کہتے ہیں کہ کئی ملکوں میں یہ کام کررہے ہیں کون تبلیغی جماعت والے تو آپ اپنے اوپر کسی ایک چیز کی چاہت لیکر دل ودماغ سے سنجیدہ ہوکر سوچیں کہ ہماری زندگی میں کسی نیک نیت سے پانے والا پھل کتنےمنہگااورکتنے وقت میں ملتا ہے چاہے اولاد کی نعمت ہویانیک مال کی نعمت آپ کہیں گے کافی وقت لگتا ہے تو ہماری آنکھیں بند ہیں اسے کھونے کی ضرورت ہے جیسے شیطانی کام بہت تیزی سے کام کرتا ہے جب کہ ہمیں معلوم تک نہیں ہوتا کہ کس مقصد سے یہ لوگ کام کررہے ہیں برعکس اس کے کہ ہم کوئی ایسا طریق اپنی زندگی میں اپنائیں جو اللہ ورسول عزوجل صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم تک لے جاتا ہو کافی عرصہ لگ جائے گا لیکن وہ مژدہ آپ کو جلدی نہیں ملے گا لیکن دونوں کاموں میں فرق ہے کیسے تو بتا دیں کہ ہمارے معاشرے میں آج کل کالے جادو کے اثرات مرتب جلد جاتے ہیں لیکن اس کے برعکس آپ کسی کی بھلائی کے لئے کوئی اسم اعظم لکھ کردیں وہ بہت دیر سے کام کریگا اب آپ کو کیسے سمجھائیں آپ نے انگریزی دوا کا استعمال کیا ہوگا جو فوراً درد دور کرتا ہے لیکن اس کے اثرات ختم ہوتے ہی پھر وہی حال ہوجاتا ہے برعکس اس کے کہ آپ حکیمانہ نسخے اپنائیں وہ بہت تاخیر سے کام کریگا لیکن آپ کو ہمیشہ کے لئے اس مرض سے نجات دلاتا ہے بلکل یہی حال ہے حق اور باطل کا باطل کے پیچھے ہزاروں شیطانی ہاتھ موجود ہوتے ہیں ۔وہ بھی جب وہ اپنے کومسلمان کہکر اپنے ہی نبی کی امت ہوکر اپنے ہی نبی کو بےیارومددگار کہے اپنے ہی نبی کی بیوی جو امت کی ماں ہوتی ہیں ان کو گالی دے یہاں تک اپنے خالق ومالک کو زنا کرنے والا اور شراب پینے والا بتائے تو شیطان ان کی انہیں عادتوں سے خوش ہوکر ان کو بڑھاوا دیتا ہے اور یہ لوگ روئے زمین پر تیزی پھیلنا شروع کر دیتے ہیں اب ان کے مقابل ہمارے جیسے لوگ جو رات دن برائیوں میں گزار دیتے ہیں اتر تو سکتے نہیں ان کے لئے اللّٰہ پاک ان کا انتخاب فرماتا ہے جو ان کو بدتر مخلوق سمجھتے ہیں وہ بھی وقت کے ساتھ ان کو گرفت میں لاتے ہیں جس سے شیطانی جال کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہوجاتا ہے لیکن یہ آسان نہیں جو شیطانی قوتوں کے خلاف زہر افشانی کرتا ہے اس کے ہزاروں افراد دشمن ہو جاتے ہیں اور ان کو انسانیت کا دشمن سمجھ بیٹھے ہیں مگر ان کے ایک جملے اس وقت کام آتے ہیں جب ملک الموت سامنے ہوتے ہیں اور معاذاللہ کلمہ طیبہ پڑھنے نہیں دیتے استغفر اللّٰہ۔۔اللہ تیری پناہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔**کیا آپ عقلمندہیں**۔___________________________________________________________________________ میرے دوست اپنے باپ کے دشمن کواپنا دشمن جانا ماں کو کوئی زندگی میں ایک بار گالی دے اسے آپ کبھی نہیں بھول سکتے۔ ===============================================تونبی کے دشمن کو اپنا دوست کیسے بناسکتے ہیں جوقوم ام المومنین عائشہ صدیقہ کو گالی دے اس کی حمایت کیسے ممکن ہے        ========================اب ذرا انصاف سے کام لینا==========یہ دین ہے گھر کا کھیل نہیں۔۔  از۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  ایک گمنام ۔آپ کے ایمانی رشتے میں بھائی ہے
محمد پرویز رضا دارالعلوم اہلسنت فیضان مصطفی اشرف نگر بھوانی گنج 9670556798/6307986692
 faizane Mustafa channel
*لاک ڈاون میں تراویح سے متعلق مسائل کے سوالات*

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام قرآن و حدیث کی روشنی میں مسئلہ ذیل کے بارے میں:
ملک میں لاک ڈاؤن میں توسیع  ہوجانے کی وجہ سے رمضان المبارک کے ماہ مبارک کی اہم عبادتیں بھی گھر ہی میں انجام دینی ہوں گی، ایسے حالات میں چند سوالات درج ذیل ہیں امید کہ رہنمائ فرماکرممنون کریں گے۔

1. کیا تراویح کی نماز گھر پہ اداکرنا جائز ہوگا نیز تراویح کی جماعت کے لئے کتنے لوگوں کا ہونا ضروری ہے؟ 

2. اگر حفاظ نہ ملیں تو غیر حافظ کیا تراویح پڑھاسکتے ہیں، اسکی شکل کیا ہوگی؟
 
3. کچھ لوگ گھر میں ہی تراویح پڑھنا چاہیں اور ان میں سے کوئی بھی شرعی داڑھی والا نہ ہو لیکن قرآن صحیح پڑھنا جانتا ہو تو کیا وہ تراویح کی امامت کرسکتا ہے، اور جماعت کا ثواب ملے گا؟
 
4. کچھ مساجد کے امام حافظ نہیں ہوتے، باہر سے حفاظ آتے ہیں تراویح پڑھانے لیکن اس دفعہ یہ ممکن نہیں نظر آرہا ہے تو ایسی صورت میں کیا کریں؟
 
5۔ کچھ بچوں کاحفظ ابھی مکمل نہیں ہوا لیکن وہ بالغ ہوچکےہیں مثلا دس یا بیس پارے کےحافظ ہیں کیا وہ تراویح میں بیس پارے تیس رمضان تک پڑھاسکتےہیں ، یا بیس پارے بیس دن میں پڑھائیں پھرالم ترسےپڑھ لیں؟ 

6۔ عورتیں اگر آپس میں جماعت کے ساتھ گھروں میں تراویح پڑھنا چاہے تو شرعا اس کا کیا حکم ہے نیز اگر کوئ بالغ لڑکی حافظ قرآن ہے کیا وہ  صرف عورتوں کوباجماعت اس طرح پڑھاسکتی ہے کہ آواز گھرسےباہرنہ نکلے؟

7. کیا موجودہ حالات میں ایسا کیا جاسکتا ہے کہ مسجد میں امام صاحب تراویح پڑھائیں اور مائک کنکشن یا آن لائن لائیو کے ذریعے امام صاحب کی آواز لوگ گھروں میں ان کر ان کی اقتدا میں تراویح پڑھ لیں؟ 

8۔ کیا ماسک پہن کر نماز پڑھنا درست ہے؟

9۔ کورونا بیماری کی وجہ سے سوشل ڈیسٹینسنگ یعنی لوگوں جسمانی فاصلہ بناۓ رکھنے کے لئے کہا گیا ہے تو کیا جماعت سے نماز پڑھتے وقت تھوڑا فاصلہ رکھنا جائز ہوگا؟

ان تمام سوالات کے جوابات عنایت فرمائیں
جوابات دینے کے شرائط
سنی عالم ہو
صلح کلی نہ ہو
تحریک دعوت اسلامی کی چھپی ہوئی کتابوں میں سے نہ ہو
جوابات حوالہ کے ساتھ ہو
جوابات جمعہ تک مل جانا چاہیے
جوابات لکھ کر ہی عنایت فرمائیں
اگر اس گروپ سے جوابات نہیں ملے تو اس گروپ میں جتنے بھی لوگ شامل ہیں وہ مناظرہ کرنے کے اہل نہیں مانے جاۓ گے ✍مولانا محمد عمران رضوی
غلام ازہری
_________________________
الجواب باسم ملہم الصواب :(1) تراویح کی نماز گھر پر ادا کرنا جائز ھے۔ جماعت کے قیام کیلئے امام اور ایک مقتدی  بھی کافی ھے جیساکہ حدیث میں ھے: اثنا ن فما فوقهما جماعة.(ابن ما جه، السنن، کتاب إقامة الصلاةوالسنة فيها، باب الاثنان جماعة 1/ 522 رقم : 972)
دو یا دو سے زیادہ (مردوں) پر جماعت ہے۔
اس صورت میں امام، مقتدی کو اپنےدائیں جانب کھڑا کرےجیسا کہ حدیثِ مبار کہ سے ثا بت ہے :
حضرت عبدﷲ ا بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک رات میں نےحضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑ ھی۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا توحضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےمیرےسرکو پیچھے کی طرف سےپکڑکر مجھے دائیں طرف کر دیا۔

(بخاری، الصحيح، کتاب الجماعة والإ مامة، با ب اذ قام الرجل عن يسار الإمام،1: 255، رقم : 693)

 کتب فقہ کی عبارت سے بھی و اضح ھےکہ صرف دوآدمی قیام جماعت کیلئےکافی ھےیعنی ایک امام اوردوسرامقتدی ھواتنابھی جماعت کاقیام ھوجاتا ھےجیسا کہ در مختار میں ھے :
(ويقف الواحد)ولو صبياً،أما الو ا حدة فتتأخر (محاذياً) أي مساوياً (ليمين إما مه) على المذ هب، ولا عبرة بالرأس بل بالقدم،فلو صغير اً فالأصح ما لم يتقدم أكثر قدم ا لمؤتم لاتفسد،فلووقف عن يساره كره(اتفاقاًوكذا) يكره (خلفه على الأصح)؛ لمخالفة السنة، (والزائد) يقف (خلفه) فلو توسط اثنين كر ه تنزيهاً، وتحريماً لو أكثر.( قو له: والزائد خلفه)عدل تبعاًللوقايةعن قول الكنز:والاثنان خلفه؛لأنه غير خا ص با لاثنين ، بل المراد ما زاد على الواحد ، اثنان  فأ كثر ، نعم! يفهم حكم ا لأ كثر با لأولى. وفي القهستاني: وكيفيته أن يقف أحد هما بحذائه والآخربيمينه إذا كان الزائد اثنين، ولو جاء ثالث وقف عن يسار الأول، والرابع عن يمين الثاني والخامس عن يسارالثا لث وهكذا.اهـ.وفيه إشارة إلى أن الزا ئد لوجاء بعد الشروع يقوم خلف الإمام،ويتأخر المقتدي الأول، ويأ تي تمامه قريباً (قوله: كره تنزيهاً) وفي رواية:لايكره، والأولى أصح، كما في الإمداد.(قوله وتحريماً لو أكثر) أفاد أن تقدم الإمام أمام ا لصف واجب كما أفاده في الهدا ية والفتح.(قوله:كره إجماعاً) أي للمؤ تم، و ليس على الإ مام منها شيء ، و يتخلص من الكر ا هة با لقهقر ى  إ لى  خلف إ ن لم يكن ا لمحل ضيقاً على الظا هر  و الذي يظهر أنه ينبغي للمقتدي التأخر إ ذا جاء ثالث، فإن تأخر وإلا جذبه الثالث إن لم يخش إفساد صلاته، فإن اقتدى عن يسار الإمام يشير إليهما بالتأخر، وهو أولى من تقد مه؛ لأنه متبوع؛ ولأن الاصطفاف خلف الإمام من فعل المقتدين لا الإمام، فالأولى ثباته في مكانه و تأ خر المقتد ي، و يؤ يد ه  ما في الفتح عن صحيح مسلم: قال جا بر: سرت مع النبي صلى الله عليه و سلم في غز و ة، فقا م  يصلي ، فجئت حتى قمت عن يساره، فأ خذ بيدي فأدارني عن يمينه، فجا ء ابن صخر حتى قام عن يساره فأخذ بيديه جميعاً فدفعنا حتى أقامنا خلفه» اهـ وهذا كله عند الإمكان، وإلا تعين الممكن. والظا هر أيضاً أن هذا إذا لم يكن في ا لقعدة الأخيرة، وإلا اقتدى الثالث عن يسار الإمام ولا تقدم ولا تأخر 
(الدر المختار مع  ردالمحتار) (1/ 566)


(2) الجواب:تراویح سنت مؤکدہ ھےحا فظ کی عد م مو جو د گی میں غیر حافظ کا سورہ تراویح پڑھاناجائز ھے جس کو اپنی زبا ن میں سورہ تراویح کہتے ہیں :
جیسا کہ المبسوط میں ھے : 
 التراويح سنة لايجوز تركها؛ لأ ن ا لنبي صلى ا لله عليه و سلم أ قا مها ثم بين ا لعذ ر في تر ك ا لموا ظبة على أ د ا ئها با لجما عة في المسجدوهوخشيةأن تكتب علينا ثم واظب عليهاالخلفاءالراشدو ن -رضي الله عنهم- وقد قال النبي صلى ا لله عليه و سلم: « عليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين من بعدي»، وأن عمر -رضي الله عنه- صلاها بالجماعة مع أجلاء الصحابة، فرضي به علي -رضي الله عنه- حتى دعا له بالخير بعد موته، كما ورد، وأمر به في عهده 
(المبسوط للسرخسي ج2/ 145)

اس کی شکل یہ ھوگی کہ سورہ الم ترکیف سےپڑھائے اور والناس تک پوراکرےجس سے دس رکعت کی تکمیل ھوگی پھر ا لم ترکیف سے شروع کر ے اور و ا لناس پر ختم کرے اس طرح بیس ر کعت مکمل کرےاوریہی روزانہ کامعمو ل بنالے اگر یاد ھو تو بیس سورہ کا بھی تعین کرسکتا ھے اگر دس بھی یاد نہیں ھےتوجوکچھ بھی یاد ھے اسی کی قرآت کرے نماز ھوجائے گی جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:فاقرؤا ماتیسرمن القرآن (القرآن ) جو کچھ بھی قرآن کی آیتوں میں سے پڑھنا آسان ھو پڑ ھے۔کتب فقہ میں بھی یہی مذ کور ھے : جیسا کہ بدائع الصنائع میں ھے : 
ومنها: أن يقرأ في كل ر كعة عشر آيات ، كذ ا  روى  الحسن عن أبي حنيفة،وقيل: يقرأفيهاكمايقرأ في أخف المكتوبات وهي المغرب، و قيل: يقرأ كما يقرأ في العشاء؛ لأ نهاتبع للعشاء، وقيل: يقرأ في كل ركعة من عشرين إلى ثلاثين؛ لأنه روي أن عمر -رضي الله عنه- دعا بثلاثة من الأئمة، فاستقرأ هم وأ مرأولهم أن يقرأفي كل ركعة بثلا ثين آيةً، وأمر الثاني أن يقرأ في كل ركعة خمسة وعشرين آيةً، و أمر الثالث أ ن يقرأ في كل ركعة عشرين آيةً، وما قاله أ بو حنيفة سنة؛إذ السنة أن يختم القرآن مر ةً في التراويح، وذلك فيما قاله أ بوحنيفة، وما أمر به عمر فهو من باب الفضيلة وهوأن يختم القرآن مرتين أو ثلاثاً، وهذا في زمانهم (في ترتيب الشرائع ج1 / 289 )

البتہ پو ر ے ر مضان کی تراویح کی نماز میں ایک ختم قرآن کرنا اوراس کی سماعت کرناسنت ھے اور د و تین ختم کرنا ا فضل ھے جیسا کہ کتب فقہ میں ھے : 
والسنة فیھا الختم مرة فلا یترک لکسل القوم(ملتقی الأبحر،کتا ب الصلاة،۱: ۲۰۳،  دار الکتب العلمیة بیروت)، السنة في التراویح إنما ھوالختم مرة فلایترک لکسل القو م کذا في الکافي ( الفتاوی الھند یة، ۱: ۱۱۷ :المطبعة الکبری الأمیر یة،بولاق،مصر)والختم في التراو یح مرةواحدة سنة( الفتاوی الخا نیة علی ھامش الفتاوی الھندیة، ۱: ۲۳۷، ط: المطبعة الکبری الأمیر یة،بولاق،مصر)وسن في رمضا ن عشرون رکعة بعدالعشاء قبل ا لو تر و بعد ہ بجما عة و ا لختم مرة بجلسة الخ(کنز الدقائق مع البحر الرائق،،کتاب الصلاة،باب الوتر وا لنوافل، ۳: ۱۱۵، ۱۱۶، ط: دار الکتب العلمیة بیروت )قولہ:والختم مرة معطوف علی"عشرون“بیان لسنة ا لقرا ءة فیھا و فیہ ا ختلا ف وا لجمھور علی أن السنة الختم مرة فلایترک لکسل القوم(البحرالرائق کتاب الصلاة،باب الوتر والنوافل، ۳: ۱۱۵، ۱۱۶، ط: دار الکتب العلمیة بیروت)لأن السنةفیھا الختم مرة ولا یترک الختم مرة لکسل القوم بخلا ف ا لد عو ا ت في ا لتشھد حیث یترک إذا عرف منھم ا لملل (تبیین الحقائق، کتاب الصلاة ، با ب ا لو تر و ا لنوافل، ۱: ۱۸۲، ط: ا لمکتبة الإمدادیة،ملتان،باکستان) وسن ختم القرآن فیھا مرة في ا لشھر علی الصحیح(نور الإیضاح مع المراقي وحاشیة الطحطاو ي علیہ،ص:۴۱۴، ۴۱۵، ط: دار ا لکتب العلمیةبیروت)والسنةختم القرآن في التراویح مرة واحدة(المختار مع الاختیار، ۱: ۲۳۹، ط: موٴسسة الرسالة)والحاصل أن السنة في ا لتر ا و یح إنما ھي الختم مرة،وا لختم مرتین فضیلة والختم ثلاث مرات في کل عشرة مرةأفضل، و في جا مع ا لجو ا مع: الأفضل أن یختم فیہ القرآن إن لم یثقل علی القوم، و في  الکافي : و الجمھور علی أن السنةالختم مرة فلایترک لکسل ا لقو م ( الفتا وی التاتارخا نیة،۲: ۳۲۴:مکتبة زکر یا دیو بند) قال الصدرالشھید:الختم في الترا و یح سنة و ا لختمان فضیلة الخ (خلاصة الفتاوی، ۱: ۶۴ : المکتبة الرشیدیة،کوئتة)وسن الختم مرة ولا یترک لکسل القوم(النقایة مع شرح النقایة، ۱: ۳۴۵،۳۴۶)، (وسن ا لختم ) أي : ختم القرآن علی الأ صح و ھو قو ل الأ کثر (مرة) في صلا ة التراویح؛ لأن شھر رمضان أنزل فیہ القرآن وکان النبي صلی اللہ علیہ و سلم یعر ضہ فیہ علی جبرائیل کل سنة مرة،وفي السنة الأخیرة عرضہ مرتین (ولا یترک) ا لختم (لکسل  القوم ) (فتح باب العنایةبشرح النقایة،۱: ۳۴۵،۳۴۶)، قولہ: والختم مرة سنة “:أي: قراء ة الختم في صلاة التراویح سنة وصححہ في الخانیةوغیرھا وعز اہ في الھدایة إلی أکثر المشایخ، وفي الکافي إلی الجمہور، وفي ا لبر ھا ن : و ھو ا لمر و ي عن أبي حنیفة و المنقول في الآ ثار( رد ا لمحتار،کتاب الصلاة،باب الوتر وا لنوافل،۲:۴۹۷،مکتبةزکریا دیوبند) قال في البحر:فالمصحح في المذ ھب أن الختم سنة ( المصدر السا بق،ص:۴۹۸)(وقیل)القائل صاحب الاختیار (الأفضل في زماننا قدر مالایثقل علیھم)(الغرر والدرر مع الغنیةللشرنبلالي،۱: ۱۲۰، باکستان) قولہ:وقیل القائل صاحب الاختیا ر الخ“: أقول: عبار تہ تفید ضعفہ وفی البحر خلافہ والجمہور علی أن السنةالختم(غنیة ذوي الأحکا م في بغیة درر الحکام) 

(3) الجواب : داڑھی منڈا فاسق معلن ہے اور  فاسق قا بل امامت نہیں ۔ اس کو امام بنانا گناہ ھے اس کی اقتدا میں پڑھی جانے وا لی نمازمکروہ تحریمی واجب الا عادہ ھے مگر نماز بکراھت تحریم ھوجا تی ھے تو جماعت کا ثواب ملجائے گا۔ 
 فتاوی رضویہ میں ھےکہ:فاسق کےپیچھےنماز ناقص ومکروہ اگر پڑھ لی تو پھیری جا ئے ا گر چہ مد ت گز رچکی ہو، (فتاوی رضو یہ )
 صغیری میں ھے :یکرہ تقدیم ا لفاسق کراھۃ تحریم (  (فاسق کی تقدیم (یعنی امامت) مکروہ تحریمی ہے۔ت) ( صغیر ی شر ح منیۃ ا لمصلی مبا حث الا ما مت مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص ٢٦٢)
طحطا و ی علی مر ا قی ا لفلا ح میں ہے:

"کره إمامة الفاسق، والفسق لغةً: خروج عن الاستقامة، وهو معنی قولهم: خروج الشيء عن الشيء علی وجه الفساد. وشرعاً: خروج عن طا عة  ﷲ تعا لی با رتکا ب کبیرة.قال القهستاني:أي أو إصرا ر علی صغیرة. (فتجب إهانته شر عاً فلا یعظم بتقد یم الإمامة) تبع فیه الزیلعي ومفاده کون الکراهة في الفاسق تحریمیة( الطحطاوي علی مراقي الفلاح)

در مختار میں ھے : 

و الأحق بالإمامة تقدیماً بل نصباً الأعلم بأحکام الصلاة فقط صحة ًوفساداً بشرط اجتنابه للفواحش الظاهرة". (1/559,560)

شا می میں ہے : 

 یحر م علی ا لر جل قطع لحیتہ․ ( شا می ج:۵ ص:۲۸۸)

داڑھی کاٹنا مرد کیلئے حرا م ھے 

فتا و ی شا می  میں ہے :

"و أما الأخذ منها أي من اللحية و هي دںو ن ذالك: أي دون القبضة، كما يفعله بعض المغاربة و مخنثة الرجال فلم يبحه أحد،و أخذ كلها فعل اليهود... و مجوس الأعاجم". (كتاب الصوم، مطلب في الاخذ من اللحية ٢/ ٤١٨، ط: سعيد)

’’حلبی کبیر ‘‘ میں ہے:

"و لو قدّموا فاسقاً  يأثمون بناء علي أن كراهة تقديمه كراهة تحر يم ؛ لعدم اعتنائه بأمور دينه، و تساهله في الإتيان بلوازمه..."الخ ( كتاب الصلوة، الأولی بالإمامة، ص: ٥١٣، ٥١٤ ط: سهيل اكيدمي) 

 صلى خلف فاسق أو مبتدع نا ل فضل الجما عة ''. و في الشا مية:(قوله:نال فضل الجماعة) أفاد أن الصلاة خلفهما أولى من الانفراد، لكن لا ينال كما ينال خلف تقي ورع''. (شامي: ١/ ٥٦٢، ط: سعيد) 


(4) الجواب : صو ر ت مذ کو رہ میں سورہ تراویح پڑھے : 'فتاوی شامی''  میں ہے: 
(و ا لختم) مر ةً سنةٌ و مر تين فضيلةٌ وثلاثاً أفضل. (ولا يتر ك) الختم (لكسل القوم)، لكن في الا ختيار: الأفضل في زماننا قدر ما لا يثقل عليهم، وأقره المصنف و غيره. وفي المجتبى عن الإمام: لو قرأ ثلاثاً قصاراً أو آيةً طويلةً في الفرض فقد أحسن ولم يسئ، فما ظنك بالتراويح؟ وفي فضائل رمضان للزاهدي: أفتى أبو الفضل الكرماني والوبري أنه إذا قرأ في التراويح الفاتحة وآيةً أو آيتين لا يكره، ومن لم يكن عالماً بأهل زمانه فهو جاهل.

(قوله:الأفضل في زمانناإلخ) لأ ن تكثير الجمع أ فضل من تطو يل ا لقراءة، حلية عن المحيط. وفيه إشعاربأن هذامبني على اختلا ف الزمان، فقد تتغير الأحكام لاختلا ف الزمان في كثير من المسائل على حسب المصالح، ولهذا قال في البحر: فالحاصل أن المصحح في المذهب أن الختم سنة، لكن لا يلزم منه عدم تركه إذا لزم منه تنفير ا لقو م  و تعطيل  كثير من المساجدخصوصاً في زماننا فالظا هراختيارالأخف على القوم(قوله: وفي المجتبى إلخ)عبارته على ما في البحر:والمتأخرون كانوا يفتو ن في زماننا بثلاث آيات قصار أو آية طويلة حتى لا يمل القوم ولا يلز م تعطيلها، فإ ن ا لحسن روى عن الإمام أنه إ ن قر أ في المكتو بة بعد ا لفا تحة ثلا ث آ يات فقد أحسن ولم يسئ، هذا في ا لمكتو بة فما ظنك في غير ها ؟''اهـ(2/ 46، 47باب الوتروالنوافل،سعید)

(5)الجواب : پڑ ھا  سکتے  ہیں ا لبتہ و ہ بھی سو رہ ترا و یح کے حکم ھوگا البتہ بیس پار ہ سننے کا ثواب ملے گا : 

(6) الجواب:عورتوں کی جماعت مکر و ہ تحریمی ھے : فرض نماز ہو یا نفل،عورت کاعورتوں کےلیے امام بننا بھی مکروہِ تحریمی ہے، خو ا تین کے لیے یہی حکم ہے کہ وہ تنہا اپنی نماز ادا کریں،  تراو یح کی جماعت نہ کریں۔ اس کے باوجود جماعت کرتی ہیں تو اما م بھی صفوں کے بیچ میں گھڑی ھونگی : 
فعلم أ ن جما عتهن وحد هن مکر وهة(إعلاء السنن ۴؍۲۲۶)

 عن علي بن أبي طالب رضي اللّٰه عنه أنه قال: لاتؤم المرأة .قلت: ر جاله کلهم ثقا ت ( إ علا ء ا لسنن ۴؍۲۲۷ دار الکتب العلمیة بیروت)

 شامی میں ہے :

" ویکره تحریماً جماعة ا لنساء و لو في التراویح - إلی قوله - فإن فعلن تقف الإمام وسطهن فلو قد مت أثمت".


قال الشامي:

"أفاد أن الصلاةصحیحةوأنها إذ ا توسطت لاتزول الکراهة و إنما أر شد و إلی التوسط؛ لأنه أقل کرا هة التقدم". (شامي  ۲؍۳۰۵)

وفیه أيضاً: (قوله: ويكره تحريماً) صرح به في الفتح والبحر (قوله: ولوفي التراويح)أفاد أن الكرا هة في كل ماتشرع فيه جماعة الرجا ل فرض أو نفل". (1/565)

(7)  ا لجو ا ب : ما ئک پر ا قتد ا مفسد صلاۃ کا با عث ھے چو نکہ ما ئک کی آ واز عین  آ واز متکلم نہیں ۔ ا قتد ا ا مام کی ھے نہ کہ مائک کی ۔ مائک نمازی نہیں اور تلقن عن الخارج پر اقتدا نماز کو فاسد کرتی ھے ۔ یہی حکم دیگر آلات کا بھی ھوگا۔ واضح ھوا کہ گھر پر ا ما م کی ا قتد ا مائک و میکر و فو ن کی آ و ا ز پر کر نا ا قتدا کو فاسد کرتا ھے جس سے مقتدی کی نماز نہیں ھوگی ۔  

صحت اقتداکیلئےامام اورمقتدی کے مکان کا متحد ہو نا شر ط ہے چا ہے اتحاد مکان حقیقی ھو  یا حکمی ھو،مکان کےحقیقی متحد ہونے کی نظیر یہ ہے کہ امام اور مقتدی دونوں ایک ہی مسجد یا ایک ہی گھر میں کھڑے ہوں، اور حکمی متحد ہو نے کی مثا ل یہ ہے کہ امام اور مقتدی اگرچہ دو ا لگ  ا لگ مقا م پر کھڑ ے ہو ں لیکن در میان  میں صفیں متصل ہو ں ، لہذا صورتِ  مسئو لہ میں امام اورگھرمیں پڑھنے والے مرد و خواتین  چو ں کہ دو نوں الگ ا لگ مکا ن میں ہیں، اس لیے مذ کورہ امام کے پیچھے گھر میں پڑ ھنے و ا لے مرد وخواتین کی تر ا ویح کی  نماز درست نہیں ہوگی۔

فتا و ی عا لمگیر ی میں ہے :

ويجوز اقتداء جار المسجد بامام المسجد وهو في بيته إذا لم يكن بينه وبين المسجد طريق عام وإ ن كا ن طر يق عا م و لكن سد ته ا لصفو ف جا ز الا قتداء لمن في بيته بإمام المسجد (ھند یہ ج1 / 88، الباب الخامس فی بیان مقا م الامام والماموم ) 

فتا و ی شا می  میں ہے :

والصغرى ربط صلا ة المؤ تم با لإ ما م بشر و ط عشرة : نية المؤتم الاقتداء،واتحادمكانهما وصلاتهما
(قوله:واتحاد مكانهما) فلو اقتدى راجل براكب أو بالعكس أو راكب براكب دابة أخرى لم يصح لاختلا ف المكان؛فلو كاناعلى دابة واحد ة صح لا تحاده كما في ا لشا میۃ (الشامیہ ج1 / 549، 550، با ب الامامۃ، ط؛)

(8) الجواب :فقہاءِ کرام نے لکھا ہے کہ بلا عذر  ناک اور منہ کسی کپڑ ے و غیر ہ سےچھپا کرنماز پڑھنا مکروہِ تحر یمی ہے، البتہ ا گر کسی عذ ر کی وجہ سے نماز میں چہر ہ کو ڈ ھا نپ لیا جا ئے یا ما سک پہنا جائے تو نماز بلا کراہت  درست ہو گی؛ لہٰذاموجودہ وقت میں کر و نا وا ئرس سے بچاؤ کی تدبیر کے طور پرجو حکومتی تہدیدات ہیں اس ا ذیت سے خو د کو بچا نے کیلئے احتیاطاًماسک پہن کرنمازپڑ ھنے سے نما ز بلا کر ا ہت ا دا ہوجائے گی۔البتہ اس سےاجتناب ہی بہتر ھےکیونکہ حدیث میں مذکور ھے کہ کوئ بیمار ی متعد ی نہیں ھو تی ھے : 

جیساکہ د ر ا لمختا ر :

يكره اشتمال الصماء و الاعتجار والتلثم والتنخم و كل عمل قليل بلاعذر(الدر المختارمع رد المحتا رج 1/ 652)

(قوله: والتلثم) و هو تغطية ا لأ نف والفم في الصلاة؛ لأنه يشبه فعل المجوس حال عبادتهم النير ا ن ، ز يلعي . و نقل ط عن أ بي السعود: أ نها تحر يمية ( ا لد ر ا 
لمختارمع الردالمحتار ج1/ 652)

الأشباه و النظائر لابن نجيم  میں ہے :
قواعد : الأولى: الضرورات تبيح ا لمحظوراتِ".(الاشباہ ١ / ٧٣،  دار الكتب العلمية)

و فيه ا یضا :

أن الأ مر اذا ضا ق اتسع ، وَ إِذَا اتَّسَعَ ضَاقَ". ( ١ / ٧٢، ط: دار الكتب العلمية)

شرح القواعد الفقهية لأحمد الزرقا  میں ہے :

(القاعدة السابعة عشرَة (الْمَادَّة / 18):

إ ذ ا ضا ق الْا مر اتسَع" (أَ و لا  ا لشرح ) هذ ا في معنى ا لما د ة / 21 /:الضر و ر ا ت تبيح المحظو رات،وتمام القاعدةالفقهية،كمافي "مراة المجلة"واذ ا ا تسع ضا ق". وكان في معنى الشق الثاني منها أَنه إِذا دعت الضرورة والمشقة إِ لى اتساع الامر فانه يتسع إلى غا ية اندفاع الضرورةوالمشقة، فاذا اندفعت وزالت الضرورة الداعية عاد الأمر إِلى ما كان عليه قبل نز و له. و يقر ب منه المادة / 22 /: الضرورة تقدر بقدرها( ١ / ١٦٣، ط: دار القلم)

(9) الجواب : بلا ضر و ر ت  د و شخصوں کےدرمیان جگہ کاخالی ر کھنا مکروہ تحر یمی اور سنت متواترہ کے خلا ف  ھے  احادیث میں مل کر کھڑ ے  ھو نے کی تا کید آئ ھے : 

شرح أبي داؤد للعيني  میں ہے : 

عن أنس قال: قال رسول الله سَو وا صفوفكم، فإن تسوية الصف من تمام الصلاة " .
(أخرجه البخَاري،ومسلم، وابن ما جه،وفي رواية: من حُسن الصلاة وعندالسراج من حديث شعبة: قا ل قتادة: قال أنس: إن من حسن الصلاة:/ إقامة الصف، وفي لفظ: من تمام الصلاة.)

ثم إن تَسوية الصفوف من سُنة ا لصلاةعندأبي حنيفةومالك والشا فعي،وزعم ابن حزم أنه فرض، لأ ن إقامةالصلاة فرض،وما كان من الفرض فهوفرض، قال عليه السلا م" فإ ن تسو ية ا لصف من تمام ا لصلاة ".قلنا:قوله: "فإنه من حُسن الصلاة "يد ل على أنها ليْست بفر ضِ لأن ذلك أمر زائد على نفس ا لصلاة، و معنى قو له: "من تمام ا لصلاة"من تمام كمال الصلاة وهو أيضاً- أمر زائد، فافهم". ( كتاب ا لصلاة،بَابُ:تفْريع أبْواب الصُّفُوفِ، ٣/ ٢١٨- ٢١٩، رقم: ٦٤٩، ط: مكتبة الرشد)

فتح الباري لابن حجر  میں ہے :

(قَوْلُهُ: بَابُ إِثْمِ مَنْ لَمْ يُتِمَّ الصُّفُو فَ)قَالَ ابن رَشِيدٍ:أَوْرَدَفِيهِ حَدِيثَ أَ نَسٍ مَا أَ نْكَرْ تُ شَيْئًا إِ لَّا أَنَّكُمْ لَا تُقِيمُو نَ ا لصُّفُوفَ،وَتُعُقِّبَ بِأَنَّ الْإِ نْكَا رَ قَدْ يَقَعُ عَلَى تَرْ كِ السُّنَّةِ، فَلَا يَدُلُّ ذَ لِكَ عَلَى حُصُو لِ الْإِ ثْمِ، وَأُ جِيبَ بِأَنَّهُ لَعَلَّهُ حَمَلَ الْأَمْرَ فِي قَوْ لِهِ تَعَالَى: {فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ} عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ بِا لْأَ مْرِ ا لشَّأْ نُ وَ الْحَا لُ لَا مُجَرَّدُ ا لصِّيغَةِ، فَيَلْزَمُ مِنْهُ أَنَّ مَنْ خَا لَفَ شَيْئًا مِنَ ا لْحَا لِ الَّتِي كَانَ عَلَيْهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْثَمَ؛ لِمَا يَدُلُّ عَلَيْهِ الْوَعِيدُ الْمَذْكُورُ فِي الْآيَةِ، وَ إِنْكَارُ أَنَسٍ ظَاهِرٌ فِي أَنَّهُمْ خَالَفُوا مَا كَا نُواعَلَيْهِ فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ إِقَامَةِ ا لصُّفُو فِ ، فَعَلَى هَذَا تَسْتَلْزِمُ الْمُخَا لفَة۔  ا لتأ ثيم ، ا نْتهى كَلَام ا بن رَشِيدٍ مُلَخَّصًا. وَهُوَ ضَعِيفٌ؛ لِأَنَّهُ يُفْضِي إِلَى أَنْ لَايَبْقَى شَيْءٌ مَسْنُونٌ؛ لِأَنَّ ا لتَّأْ ثِيمَ إِ نَّمَا يَحْصُلُ عَنْ تَرْ كِ وَا جِبٍ،وَأَمَّا قَوْلُ ابن بَطَّالٍ: إِنَّ تَسْوِ يَةَ الصُّفُوفِ لَمَّا كَانَتْ مِنَ السُّنَنِ ا لْمَنْدُ و بِ  إِ لَيْهَا ا لَّتِي يَسْتَحِقُّ فَا عِلُهَا ا لْمَدْ حَ عَلَيْهَا دَلَّ عَلَى أَنَّ تَارِ كَهَا يَسْتَحِقُّ الذَّمَّ، فَهُوَ مُتَعَقَّبٌ مِنْ جِهَةِ أَنَّهُ لَايَلْزَمُ مِنْ ذَمِّ تَارِكِ السُّنَّةِ أَنْ يَكُونَ آثِمًا،سَلَّمْنَا،لَكِنْ يَرُدُّ عَلَيْهِ ا لتَّعَقُّبُ ا لَّذِ ي قَبْلَهُ، وَ يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ ا لْبُخَارِ يُّ أَخَذَ الْوُجُوبَ مِنْ صِيغَةِ الْأَمْرِفِي قَوْلِهِ:"سَوُّوا صُفُو فَكُمْ"،وَمِنْ عُمُومِ قَوْلِهِ: "صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي"، وَ مِنْ وُ رُودِ الْوَ عِيدِ عَلَى تَرْكِهِ، فَرَجَحَ عِنْدَهُ بِهَذِهِ الْقَرَائِنِ أَنَّ إِنْكَارَأَنَسٍ إِنَّمَاوَقَعَ عَلَى تَرْكِ الْوَاجِبِ وَ إِنْ كَانَ الْإِ نْكَارُ قَدْ يَقَعُ عَلَى تَرْكِ السُّنَنِ، وَ مَعَ ا لْقَوْلِ بِأَنَّ التَّسْوِيَةَوَاجِبَةٌ فَصَلَاةُ مَنْ خَا لَفَ وَلَمْ يُسَوِّ صَحِيحَةٌ لِاخْتِلَافِ ا لْجِهَتَيْنِ، وَيُؤَيِّدُ ذَلِكَ أَنَّ أَنَسًا مَعَ إِ نْكَارِهِ عَلَيْهِمْ لَمْ  يَأْمُرْ هُمْ بِإِ عَادَةِ ا لصَّلَاةِ. وَأَفْرَطَ ابن حَزْمٍ، فَجَزَمَ بِا لْبُطْلَانِ، وَنَازَعَ مَنِ ادَّعَى الْإِجْمَاعَ عَلَى عَدَ مِ ا لْوُ جُوبِ بِمَا صَحَّ عَنْ عُمَرَ أَ نَّهُ ضَرَ بَ قَدَ مَ أَ بِي عُثْمَانَ النَّهْدِ يِّ لِإِ قَامَةِ الصَّفِّ، وَ بِمَا صَحَّ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ: كَانَ بِلَالٌ يُسَوِّ ي مَنَاكِبنَا وَ يَضْرِبُ أَ قْدَامَنَا فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ:مَاكَانَ عُمَرُ وَبِلَا لٌ يَضْرِبَانِ أَحَدًا عَلَى تَرْكِ غَيْرِ الْوَ اجِبِ، وَفِيهِ نَظَرٌ لِجَوَازِ أَنَّهُمَا كَانَا يَرَيَانِ التَّعْزِيرَ عَلَى تَرْكِ السُّنَّةِ". ( ٢ / ٢١٠، ط: دار المعرف)

حاشية الطحطاوي علي مراقي الفلاح  میں ہے:

"قوله:"فيأمرهم الإمام بذلك" تفر يع على الحديث الدال على طلب الموالاة واسم الإشارة راجع إليها ويأمرهم أيضابأن يتراصوا ويسد وا الخلل ويستووامناكبهم وصدو رهم كمافي الدر عن الشمني وفي ا لفتح و من سنن ا لصف التراص فيه والمقاربة بين الصف والصف والاستواءفيه قوله: "استووا" أي في الصف قو له : "تستو" بحدف الياء جواب الأ مر وهذا سر علمه الشارع صلى الله عليه وسلم كما علم أ ن ا ختلا ف الصف يقتضي ا ختلا ف ا لقلو ب قو له :أقيموا الصفوف"أي عدلوههاقوله: "وحاذ وا بين المناكب"وردكأن أحدنا يلز ق منكبه بمنكب صا حبه و قد مه بقدمه قوله:وسدوا الخلل"أي الفر ج روى البزا ر بإ سنا د حسن عنه صلى الله عليه وسلم:"من سد فر جة في الصف غفر له"( باب الإما مة ، فصل : في بيان الأحق بالإما مة،ص:٣٠٦، دار الكتب العلمية)

البحر الرائق میں ہے:

وَيَنْبَغِي لِلْقَوْمِ إذَاقَامُوا إلَى الصَّلَا ةِأَنْ يَتَرَاصُّواوَيَسُدُّواالْخَلَلَ وَيُسَوُّ وا بَيْنَ مَنَاكِبِهِمْ فِي الصُّفُوفِ وَ لَا بَأْ سَ أَ نْ يَأْمُرَ هُمْ الْإِمَامُ بِذَ لِكَ وَ يَنْبَغِي أَ نْ يُكْمِلُو ا مَا يَلِي الْإِ مَا مَ مِنْ الصُّفُوفِ، ثُمَّ مَا يَلِي مَا يَلِيهِ وَ هَلُمَّ جَرًّا وَإِذَا اسْتَوَى جَانِبَا الْإِمَامِ فَإِنَّهُ يَقُومُ الْجَائِي عَنْ يَمِينِهِ، وَإِنْ تَرَجَّحَ الْيَمِينُ فَإِنَّهُ يَقُومُ عَنْ يَسَارِ هِ وَإِنْ وَجَدَفِي الصَّفِّ فُرْجَةًسَدَّهَا وَإِلَّا فَيَنْتَظِرُ حَتَّى يَجِيءَ آخَرُ كَمَا قَدَّمْنَاهُ،وَفِي فَتْحِ الْقَدِيرِوَرَوَى أَبُو دَاوُد وَالْإِمَامُ أَحْمَدُ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَ نَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : «أُ قِيمُوا الصُّفُوفَ وَ حَاذُوا بَيْنَ الْمَنَا كِبِ وَ سُدُّوا الْخَلَلَ وَلِينُوا بِأَيْدِي إ خْوَانِكُمْ وَ لَا تَذَرُوافُرُجَاتٍ لِلشَّيْطَا نِ وَمَنْ وَصَلَ صَفًّاوَصَلَهُ اللَّهُ وَمَنْ قَطَعَ صَفًّا قَطَعَهُ اللَّهُ»وَرَوَى الْبَزَّارُ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ عَنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَدَّ فُرْجَةً فِي الصَّفِّ غُفِرَ لَهُ» وَفِي أَبِي دَاوُد عَنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ قَالَ : «خِيَارُكُمْ أَ لْيَنُكُمْ مَنَاكِبَ فِي الصَّلَا ةِ» وَ بِهَذَا يُعْلَمُ جَهْلُ مَنْ يَسْتَمْسِكُ عِنْدَدُخُو لِ دَاخِلٍ بِجَنْبِهِ فِي الصَّفِّ وَيَظُنُّ أَنَّ فَسْحَهُ لَهُ رِيَاءٌ بِسَبَبِ أَنَّهُ يَتَحَرَّ كُ لِأَجْلِهِ بَلْ ذَلِكَ إعَانَةٌ لَهُ عَلَى إدْرَ اكِ الْفَضِيلَةِ وَإِقَامَةٌ لِسَدِّ الْفُرُجَاتِ الْمَأْمُورِ بِهَا فِي الصَّفِّ وَالْأَحَادِيثُ فِي هَذَا كَثِيرَةٌ شَهِيرَةٌ ( بَابُ الْإِمَا مَةِ، وُقُوف الْمَأْمُومِينَ فِي الصَّلَاة خَلْف الْإِمَام،١ / ٣٧٥،  دار الكتاب الإسلامي) 

مشکو ۃ شر یف میں ہے :

عَنْ أَنَسٍ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ ﷲِصَلَّی اﷲُ عَلَیْه وَ سَلَّمَ: رَصُّوْاصُفُوْ فَکُمْ وَقَارِبُوْ بَیْنَهَا، وَحَاذُوْ بِالْاَعْنَاقِ فَوَا لَّذِيْ نَفْسِيْ بِیَدِه إِنِّيْ لَأَرَیَ الشَّیْطَا نَ یَدْ خُلُ مِنْ خُلَلِ ا لصَّفِّ کَأَ نَّهَا ا لْحَذَفُ. (رواه أبوداؤد)

حضر ت ا نس ر ضی ا للہ تعا لیٰ عنہ سے روایت ھے کہ رسول اللہ صلی ا للہ علیہ و سلم نے فر مایا کہ ا پنی صفیں ملی ہو ئی رکھو (یعنی آپس میں خوب ملکر کھڑ ے ہو) اورصفوں کے درمیان قرب رکھو(یعنی آپس میں خوب ملکر کھڑےہو)اورصفوں کےدرمیان قر ب رکھو ( یعنی دو صفوں کے در میان ا س قد ر فا صلہ نہ ہو کہ ا یک صف اور کھڑی ہو سکے ) نیز ا پنی گر د نیں برابر رکھو (یعنی صف میں تم میں سے کوئی بلند جگہ پر کھڑا نہ ہو، بلکہ ہم و ا ر  جگہ پر کھڑا ہو تاکہ سب کی گر دنیں برابر رہیں ) قسم ہے اس ذا ت کی جس کے قبضے میں میری جان ہے میں شیطان کو بکری کے کالےبچے کی طرح تمہاری صفوں کی کشادگی میں گھستے دیکھتا ہوں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(ويمنع من الا قتداء) صف من ا لنساء بلا حائل قدر ذراع أو ارتفا عهن قدرقامة الرجل،مفتاح السعا دة أو(طريق تجري فيه عجلة)آلة يجر ها ا لثو ر ( أ و نهرتجري فيه السفن)ولوزورقًا ولو في المسجد (أوخلاء)أي فضاء(في الصحراء) أو في مسجد كبير جدًّا كمسجد القدس(يسع صفين) فأكثر إلا إذا ا تصلت ا لصفو ف فيصح مطلقًا. (قوله:تجري فيه عجلة) أي تمر و به عبر في بعض النسخ. والعجلة بفتحتين.وفي الدرر:هوالذ ي تجر ي فيه العجلة و الأ وقار اھ و هو جمع وقر بالقاف.قال في المغرب: وأكثر استعماله في حمل ا لبغل أ و الحمار كالوسق في حمل البعير (قوله: أونهرتجري فيه السفن) أي يمكن ذلك، ومثله يقال في قوله: تمر فيه عجلة ط. وأما البركة أو ا لحوض،فإن كان بحال لو وقعت ا لنجاسةفي جانب تنجس الجانب الآخر، لايمنع وإلا منع، كذا ذكره ا لصفار إسماعيل عن المحيط. وحا صله: أ ن الحوض الكبير المذ كور في كتاب ا لطها رة يمنع أي ما لم تتصل ا لصفو ف حو له كما يأتي (قوله ولو (زورقًا)) بتقديم الزاي: السفينةالصغيرة،كمافي القاموس وفي الملتقط:إذاكان كأضيق الطر يق يمنع ، و إن بحيث لايكون طر يق مثله لا يمنع سواء كان فيه ما ء أو لا(قوله:ولوفي المسجد) صر ح به في الدرر والخانية وغيرهما (قوله: أوخلاء) بالمد:المكان الذي لا شيء به قاموس". (1/584، 585، باب الإمامة، کتاب الصلاة، ط: سعید)

البحر الرائق شرح كنز الدقائق  میں ہے:

وينبغي للقوم إذاقاموا إلى الصلا ةأن يتراصواويسدواالخلل ويسو وا بين مناكبهم في الصفوف، ولا بأ س أ ن يأمر هم الإمام بذلك، و ينبغي أن يكملواما يلي الإمام من الصفوف،ثم ما يلي ما يليه، وهلمّ جرًّا،وإذااستوى جانبا الإمام فإ نه يقو م ا لجا ئي عن يمينه، وإن تر جح اليمين فإنه يقوم عن يساره، وإن وجد في الصف فرجه سدّها، وإلا فينتظر حتى يجيء آخر كما قدمناه، وفي فتح القدير: وروى أ بوداود والإمام أحمد عن ابن عمر أنه قال: أقيموا الصفوف وحاذوا بين المناكب وسدوا الخلل ولينوا بأيديكم( بأيدي )إخوانكم لاتذروا فرجات للشيطان، من و صل صفًّا وصله الله، و من قطع صفًّا قطعه الله.وروى البزاربإسناد حسن عنه من سدّفرجةً في الصفّ غفر له. و في أبي داود عنه: قال: خياركم أ لينكم مناكب في الصلاة". ( 1 / 375)  
لیکن مو جو دہ حالات میں حکو مت کی جانب سے جو مل کر نما ز پڑھنے پرمقدمہ ۔ جرمانہ۔ جیل اوراذیت رسانی کے جو تہدیدات ہیں بقد ر ضرورت فاصلہ رکھنے پر بلا ضرورت نماز ھو جائے گی جیسا کہ دو ستون کے در میان بلاضرورت نماز ادا کرنا مکروہ تحریمی ھے مگر ضرورتا نماز بلا کراھیت ادا ھو جاتی ھے جیسا کہ حضور صدر الشر یعہ علا مہ امجد علی اعظمی علیہ الر حمہ فتا و ی ا مجد یہ  میں  فر ما تے ہیں کہ:   بلاضرورت مقتدیوں کو دَروں میں کھڑاہونا مکروہ ہے کہ قطع صف ہے،اور قطع صف ممنو ع ،حدیث میں ارشاد فرمایا:جس نے صف کو ملایا ،ﷲ تعالیٰ اسے ملائےگا اورجس نے صف کو قطع کیا؛ ﷲ اسے قطع کرے گا(سُنن ا بوداؤد :666بحوالہ فتاویٰ امجد یہ ج1/:163)
مز ید  فر ما تے  ہیں کہ ’’دَ ر و ں میں کھڑ ے نہ ہو ں کہ مکروہ ہے ہاں! ا گر مُصلّیو ں ( نمازیوں)کی کثرت ہے کہ مسجد بھر گئی اور آ د می با قی ر ہیں تو دَروں میں کھڑے ہوں کہ یہ کھڑ ا ہو نا بضر ورت  ہے اور مو ا ضع ضر و ر ت مستثنیٰ ہیں،دَرخارجِ مسجدنہیں ہےاس میں کھڑاہونااِس وجہ سے مکروہ وممنوع ہے کہ صف قطع ہوتی ہےاوریہ ممنوع ہے ۔امام کو دَر میں کھڑاہونا خلافِ سنّت ہے اورنمازہوجائےگی (فتاویٰ امجد یہ ،جلد1،ص:174) واللہ تعالیٰ اعلم ورسولہ الاکرم صلی اللہ علیہ وسلم :
_________________________
کتبہ: محمد پرویز رضا دارالعلوم اہلسنت فیضان مصطفی اشرف نگر بھوانی گنج